Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnKashif Bashir Khan

ریاست بچائیں ! .. کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

 

آج کا پاکستان بدترین صورتحال کا شکار ہے۔ پچھلے ساڑھے تین ماہ میں جس طرح پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال دگردوں ہوئی ،اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔جن سیاسی جماعتوں کے پاس اکثریتی جماعت تحریک انصاف سے بھی کم سیٹیں تھی ان کا مسند اقتدار پر بیٹھنا پاکستان کی سلامتی کوسنگین خطرات سے دوچار کر چکا ہے اور اس اقلیتی اتحادی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ملکی قوانین کو اپنے سیاسی ومالی مفادات کے تابع کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں جبکہ ان کی ترجیحات میں ملکی معاشی صورتحال کو بہتر کرنے اور نظام کی خرابیوں کو دور کرنا تھا ہی نہیں۔
قارئین کو یاد ہو تو اپریل میں حکومت سنبھالنے کے بعد قریباً ایک ماہ تو اتحادی حکمران اسی تذبذب میں تھے کہ پارلیمان کی بقیہ مدت حکومت پوری کریں یا انتخابات کروا دیں،پھر قریباًایک ہفتہ تک وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین لندن بیٹھے میاں نواز شریف سے صلاح و مشورے کرتے رہے کہ آگے کیا کرنا ہے۔دراصل اس وقت ملکی سیاست میں اپنی سیاست کی آخری اننگز کھیلنے والے سیاستدان 1985کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں سیاست میں لائے گئے اور ان کی سیاسی بصیرت اور علم نہایت ہی محدود تھالیکن ان کو ایک کام بہت اچھا آتا ہے بلکہ ان کو سکھایا گیا کہ ملکی وسائل پر وحشیانہ طریقے سے ہاتھ کیسے صاف کرنے ہیں۔

ملک میں مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم تو بہت پرانی تھی لیکن سیاسی بنیادوں پر آج جو تقسیم پیدا کر دی گئی ہے وہ نہایت خطرناک اور تباہ کن ہے۔آج سیاسی دشمنی میں جمہور کو بری طرح تقسیم کر دیا گیا ہے کہ رشتوں،دوستیوں اور احترام کو بھلا کر ریاست کے باشندے دست و گریباں نظر آتے ہیں۔انگریز مختلف ممالک پر حکمرانی کرتے تو رعایا کو آپس میں تقسیم کردیتے تھے کیونکہ اس طرح حکومت کرنا بہت آسان ہوتا تھا۔برصغیر پاک و ہند کی مثال سب کے سامنے ہے۔اس خطہ پر جب مسلمان حکمران تھے تو ہندو، مسلم، پارسی، سکھ اور مسیحی سب مل کر رہتے تھے لیکن انگریز نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے برصغیر پر قبضہ کیا توجہاں مسلمانوں کو مذہب سے دور کیا وہیں مختلف مذاہبِ کے لوگوں کے درمیان ایسی نفرتیں پیدا کیں کہ جو آج بھی ختم نہیں ہو سکیں اور بھارت اور پاکستان کے عوام بدترین معاشی صورتحال کا شکار ہیں لیکن ہم دونوں ممالک سالانہ اربوں ڈالر دفاعی بجٹ پر خرچ کرتے نظر آتے ہیں۔گویا انگریز 75 سال قبل برصغیر سے جا کر بھی یہاں ہی موجود ہے اور بالخصوص پاکستان کے معاملات کو وہاں بیٹھ کر کنٹرول کر رہاہے۔

بس فرق ہے تو یہ کہ اب ہمارے ہی اغیار ان کی کٹھ پتلیاں ہیں جو جمہور کے وسائل لوٹ کر انگریز کے ممالک میں پہنچاتے ہیں اور پھر جب اقتدار ملنے کی نوید ملتی ہے تو پاکستان چلے آتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ2008 میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی ملک واپسی اور پھر اقتدار پر قابض ہوناقارئین کوبھولا نہیں ہو گا،یہ ہی صورتحال آج بھی ہے اور درجن بھر سیاست ’’اچھے وقت‘‘ کے انتظار میں ملک سے باہر بیٹھے ہیں کہ جب اقتدار ملنے کی نوید ملے گی تو وہ فوراً پاکستان جسے وہ اقتدار ملنے پرسرائے کی طرح استعمال کرتے ہیں، دوڑے چلے آئیں گے۔ آج جس طرح پاکستان کے رہے سہے اثائے بیچنے کیلئے جو آرڈیننس لایا گیا ہے اس کی حقیقت جان کر بھی اگر چارہ سازوں کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تو پھر پاکستانی جمہور تو گہری کھائی میں گرچکی۔ موجودہ حکومت نے جہاں نیب کے پر کاٹنے کے ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ ختم کئے اور اپنے خلاف کیسز قریباًختم کراچکے وہاں پاکستان کے رہے سہے اثاثے بیچنے کی منظوری وفاقی کابینہ نے دے دی، اس کی سب سے بدترین خاصیت یہ ہے کہ اثاثے بیچنے کے مکروہ قانون کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

قارئین! پاکستانی عوام کیلئے اتحادی اقلیتی حکومت کی یہ قانون سازی نہایت خطرناک ہے اور دنیا کے کسی ملک میں ایسے قانون کی نظیر ڈھونڈنا مشکل ہو گا۔پاکستان کے عوام کی بدقستی دیکھیں کہ75 سال بعد بھی ہم سیاست اور جمہوریت کی بھول بھلیوں میں گم ہیں۔حقیقی صدارتی نظام کے علاوہ ان 75 سالوں میں ہم نے ہر قسم کے پارلیمانی نظام اپنا لئے اور آج بھی ہم منزل ڈھونڈتے ڈھونڈتے گرد سفر کرکے پھر رہے ہیں۔قانون و آئین کو طاقتور موم کی ناک بنا کر اپنے مالی و اقتدار کےمفادات کیلئے استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔ریاستی اداروں سے عام عوام کو انصاف ملناقریباً ناممکن ہو چکا ہے اور نوکر شاہی آج بھی جمہور کا بدترین استحصال کرنے کے ساتھ ان کی جیبیں نچوڑتی نظر آتی ہے۔

آج جمہور کو سو چنا ہے کہ کیا پاکستان کا بنانے والے علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ نے اس لئے پاکستان بنایا تھا کہ ہر چند سالوں بعد سیاسی بازی گراپنی نسلیں سنوار کر جمہور سے قربانی مانگیں اور جمہور کو ایک نیا نعرہ دے کر ارتقائی مراحل طے کرنے کی نوید سنا کر پھر سے جمہور کیلئے مشکل ترین حالات کا دریچہ کھول دیں۔آج من حیث القوم ہمیں کسی بھی سیاست دان کے اس جھوٹے نعرے کہ پاکستان ارتقائی مراحل سے گزر رہا اور صورتحال نازک ہے کو یکسر رد کردیں اور اپنے حقوق جوان بازی گروں نے سلب کئے ہوئے ہیں کو جمہور کی طاقت سے واپس چھیننا ہو گا۔ نظام چند طاقتور گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے اور یقین کیجیے کہ طاقتور گروہ انگریز سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اُس کے نظام میں اگر غلامی تھی تو انسان کو انصاف ملنے کو توقع تو ہوتی تھی۔آج پاکستان کا جمہور آزادی کے 75 سال بعد بھی اپنے حقوق گنوا بیٹھا اور اس کا مقدر قربانی،ذلت،محرومی،غربت اور بدترین نا انصافی کیوں؟یہ صورتحال زندہ قومیں کبھی نہیں جھیلا کرتیں اور ریاست کے تفویض کردہ اختیارات کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا کرتی ہیں۔

آج پنجاب میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ماضی میں مشرقی پاکستان میں اکثریت کو اقتدار منتقل نہ کر کے جیسے اپنا آدھا ملک گنوا دیا تھا، سے مختلف نہیں اور ہوس اقتدار میں سپریم کورٹ کے ججوں کے فیصلوں کا نہ ماننے کی بات کی جا رہی ہے۔افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ آج حکمران عدلیہ کے احکامات کو بزور طاقت ماننے سے انکاری ہیں۔ریاست کو بچانا ہو گا اور جمہورکو اپنے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ریاست کو آزاد کروانا ہو گا۔جمہور سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہوتی اور دنیا میں جہاں بھی انقلاب یا بہتری آئی ہے اس کے پیچھے جمہور کی طاقت ہی دکھائی دیتی ہے۔پاکستان اس وقت اغیار کی سازشوں کا بری طرح شکار ہو چکا ہے اور یقین کیجیے ان اغیار کے ساتھی ہمارے اپنے ہی ہیں۔اب جمہور کو ان اغیار کے ساتھیوں کی نشاندھی کرنی ہے بلکہ ان کو نشان عبرت بھی بنانا ہے۔دیر مت کیجیے اور ریاست پاکستان کو بچا لیں کہ کہیں دیر نہ ہو جا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!