Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
انتخاباتتازہ ترینخبریں

آج کی گیم کا دارومدار ارکان اسمبلی کی حاضری پر

لاہور ( رپورٹ: روبی رزاق ؍ فیصل اکبر ) وزیراعلیٰ پرویز الٰہی یا حمزہ شہباز؟ فیصلہ آج ہوگا۔ پنجاب اسمبلی کے 371کے ایوان میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ قاف کے اتحاد کو 188ارکان کی حمایت حاصل ہے، پی ٹی آئی کے ڈپٹی سپیکر اور چودھری مسعود احمد کے ووٹ نہ ملنے کی صورت میں یہ تعداد186ہوگی۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کی تعداد 182ہے، ان کے تین ارکان میاں جلیل شرقپوری، فیصل نیازی اور کاشف محمود کے مستعفی ہونے کے باعث مسلم لیگ ن کو 179ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

چودھری پرویز الٰہی کو 7ووٹوں کی برتری حاصل ہے۔ چودھری پرویز الٰہی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ایک بار پھر راہ حق پارٹی اور آزاد ارکان اسمبلی کی حمایت کی کوشش کی جارہی ہے جو اس وقت حمزہ شہباز کی حمایت کر رہے ہیں۔ ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کے الزامات، ارکان اسمبلی کی منت سماجت، تحفظات اور ناراضگیاں دور، فنڈز دینے کی یقین دہانیاں اور ڈھیروں آفرز نے ارکان کی اہمیت میں کہیں زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔ وزارت اعلیٰ کے دونوں امیدواروں کو پارلیمانی پارٹی کا اعتماد حاصل ہے لیکن دونوں کے پارلیمانی اجلاسوں نے عددی دعوئوں کو خطرات میں ڈالا ہوا ہے۔

سیاسی جوڑ توڑ کے بادشاہ آصف علی زرداری کی لاہور میں موجودگی اور چودھری شجاعت حسین سے ملاقات و رابطوں کے باوجود انہیں مسلم لیگ ق میں نقب لگانے کی کامیابی نہیں ملی، آج کی گیم کا دارومدار ارکان اسمبلی کی حاضری پر ہوگا۔ آج کے انتخاب میں سردار عثمان بزدارمخالف چھینہ گروپ کے بیس ارکان کی حمایت بھی چودھری پرویز الٰہی کو حاصل ہے۔ ارکان اسمبلی پر سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد پارٹی پالیسی سے انحراف کی صورت میں نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے، اس لیے ماسوائے ایوان سے غیر حاضری کے، کوئی بھی حربہ کارگر ثابت نہ ہوگا۔ تمام ارکان اسمبلی آج انتخاب کے وقت تک دونوں فریقین کی نظر میں رہیں گے اور دونوں ہی جانب سے ارکان کو خوش رکھنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ آج کے انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کے جتنے ارکان کم ہوں گے مسلم لیگ ن کے مفاد میں ہو گا۔ دونوں جانب سے اپنے اپنے ارکان اسمبلی کو مال روڈ کے بڑے ہوٹلز میں ’’ محفوظ‘‘ رکھا گیا ہے اور ان کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔

استعفے دینے اور نااہل ہونے مسلم لیگ ن کے تین ارکان اسمبلی کا نقصان حمزہ شہباز کو ہوگا کیونکہ ان کے تین ووٹ کم ہوں گے، راولپنڈی کی نشست پی پی 7کا رزلٹ روکے جانے کا نقصان بھی مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ہی ہوگا، اس لیے 181کی بجائے آج 178ارکان اسمبلی کی حمایت کے ساتھ حمزہ شہباز اپنے مد مقابل 188اراکین اسمبلی کی حمایت رکھنے والے چودھری پرویز الٰہی کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں اُتریں گے۔ چودھری پرویز الٰہی کے ووٹرز ارکان اسمبلی کو خصوصی بسوں اور زبردست سکیورٹی کے ساتھ ہوٹل سے پنجاب اسمبلی تک پہنچایا جائے گا تاکہ کوئی دوسرے گروپ کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔ آج منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا پڑے گا جس کے لئے 186ارکان اسمبلی کی حمایت درکار ہوگی۔ ادھر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ایک بار پھر چودھری شجاعت حسین کو چودھری پرویز الٰہی کی حمایت سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکے اور چودھری شجاعت حسین اپنے موقف پر قائم ہیں کہ وہ وزارت اعلیٰ کے لیے چودھری پرویز الٰہی کی حمایت کریں گے۔

گزشتہ روز دوبار آصف علی زرداری نے چودھری شجاعت حسین سے ملاقات کی تاہم چودھری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا۔ قریباً ایک ہفتے سے آصف علی زرداری لاہور میں ڈیرے جما کر حمزہ شہباز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کے لیے تمام اثر و رسوخ اور ذرائع استعمال کر رہے ہیں لیکن انہیں اب تک کوئی بڑی کامیابی نہیں مل سکی۔ دوسری طرف عمران خان بھی اپنے امیدوار چودھری پرویز الٰہی کی کامیابی کے لیے لاہور پہنچ گئے ہیں اور وہ وزیراعلیٰ کا چنائو مکمل ہونے تک لاہور میں موجود رہیں گے۔ تیزی سے بدلتی صورتحال میں دونوں فریقین اپنی حکمت عملی میں تبدیلیاں لارہے ہیں۔ پوری دنیا کی نظریں پنجاب اسمبلی کے ایوان پر مرکوز ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد یہ اعصاب شکن کشمکش شروع ہوئی جو آج وزیراعلیٰ کے انتخاب کے بعد ختم ہوجائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!