Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
Columnمحمد مبشر انوار

طاقت ۔۔ محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

تاریخ رقم ہو گئی،سترہ جولائی کی شام پنجاب کے عوام نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر کے ،طاقتور حلقوں کو ایک خاموش پیغام سے بتا دیا ہے کہ اُن کی مرضی و منشا کیا ہے؟اب سوچنے کا مرحلہ و مقام پاکستان کے ان حلقوں کا ہے جو عوامی رائے کا احترام کرنے کی بجائے اپنی خواہشات کے تابع ہیں، عوام بھی ان خواہشات کے پس پردہ محرکات جاننے کے لیے بیتاب ہیں کہ آخر کن خواہشات کی خاطر ایسے اقدامات کئے جاتے ہیں؟گو کہ بہت کچھ سوشل میڈیا پر موجود ہے لیکن ممکنہ یا مبینہ طور پر مصدقہ نہیں ہے کہ دوسرے فریق کا مؤقف اس میں بوجوہ سامنے نہیں ہے اور فقط یکطرفہ مؤقف کو الزام سے زیادہ تصور نہیں کیا جا سکتا ۔

بہرکیف جو بھی ہے عمران خان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ واقعتاً پاکستان کے لیے متفکر ہیں اور کچھ بھی ہو وہ پاکستان میں ہی رہ کر سٹیٹس کو کیخلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا،صرف اس بنیاد پر عوامی حمایت اس کو میسر ہو چکی ہے ۔ وہ نہ تو تین مرتبہ کے وزیر اعظم کی طرح الزامات پر بلکہ مبینہ طور پر مجرم قرار دئیے جانے کے باوجود، ڈیل کر کے ملک چھوڑ کر نہیں جائے گا کہ یہ سہولت تو اسے ہمہ وقت حاصل رہی ہے کہ وہ کسی بھی وقت دنیا کے کسی بھی کونے میں ہجرت کر سکتا ہے لیکن وہ مسلسل ثابت کر رہا ہے کہ اس کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔

وہ یہ بھی ثابت کر رہا ہے کہ وہ موجودہ سیاستدانوں میں سب سے زیادہ محنتی اورجفا کش ہے،قدم قدم پر مشکلات سامنے دیکھ کر بھی وہ میدان چھوڑ کر نہیں بھاگا بلکہ اب تو حقیقی معنوں میں وہ عوامی سیاست کر رہا ہے، پاکستان اور پاکستانیوں کے حق رائے دہی کی حقیقی آزادی کے میدان عمل میں ڈٹ کر کھڑا ہے۔اس کے مقابل سیاسی حریفوں کی سیاست اس وقت ڈرائنگ رومز کی زینت بنی نظر آتی ہے،جوڑ توڑ اور خرید وفروخت سے مزین سیاستدان عوامی رابطے میں اس سے کہیں پیچھے نظر آتے ہیں۔

تحریک پاکستان میں برصغیر کی مسلم آبادی جیسے قائد اعظم کے ساتھ کھڑی تھی،1964کے صدارتی انتخاب میں جیسے مادر ملت فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑی تھی،1970کے انتخابات میں بھٹواور شیخ مجیب کے ساتھ کھڑی تھی، آج عوام کی اکثریت عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔اس وقت عمران خان قومی سطح کا واحد سیاستدان نظر آتا ہے جو ملک کے طول و عرض میں یکساں مقبولیت کا دعویٰ رکھتا ہے اور عوام اس کے ساتھ بے پناہ محبت اور اعتماد کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

حالیہ ضمنی انتخابات میں عمران خان کی طوفانی انتخابی مہم نے مخالفین کے قدم مکمل طور پر اکھاڑ دئیے،جس کی سب سے بنیادی وجہ مخالفین کا غیر مقبول امیدواران کو ٹکٹ دینا تھا کہ وہ منحرفین جنہوں نے ذاتی مفادات کی خاطرعمران حکومت کو دھوکہ دیا،جس طرح اپنی بولی لگوائی اور سیاسی وفاداری بدلی،اسے عوام نے تسلیم کرنے سے کھل کر انکار کر دیا۔یہاں عمران خان کی انتخابی مہم میں تسلسل سے اس حقیقت کی تکرار نے عوام میں ایک سوچ بیدار کی،گو کہ عوام اس حقیقت سے پہلے بھی واقف تھے کہ ان کے منتخب نمائندگان اسمبلی میں اپنی وفاداریاں بیچ دیتے ہیں، عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے عوام کے پاس کوئی متبادل قیادت نہ تھی،جس پراعتماد کا اظہار کرتے۔

موجودہ ضمنی انتخابات میں عمران خان
نے سب سے متحرک سیاستدان کا کردار ادا کیا اور عوام کو یہ یقین دلانے میں کامیاب رہے کہ وہ واحد سیاستدان ہیں جو عوامی رائے کا احترام کرتا ہے،ان کے حقوق کے لیے لڑنے کی ہمت رکھتا ہے بشرطیکہ عوام اس پر اعتماد کرے۔ انتخاب سے قبل عام تاثر یہ بنایا جا رہا تھا کہ چونکہ ریاستی مشینری اور نیوٹرل عمران خان کے خلاف ہیں لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ عمران خان ان ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کر پائے، اس مفروضہ پر معتد بہ دانشور متفق نظر آتے تھے تاہم کچھ ایسے بھی تھے جو عوامی نبض کو بخوبی پڑھ رہے تھے لیکن انتہائی محتاط انداز میں عمران کی مقبولیت کا اظہار کررہے تھے۔ عوامی نبض کو جاننے کے باوجود بھی ،حکومتی اقدامات سے باخبر لوگ اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ حکومت ہر صورت اس انتخاب کو جیتنا چاہتی ہے بالخصوص اپنی انتخابی جادوگری کے باعث وہ ایسا کرنے پر قادر بھی ہے جبکہ دوسری طرف عمران خان عوامی حمایت کے باوجود انتخابی جادوگری سے ناواقف ہیں،اس لیے ان کی کامیابی مشکوک نظر آتی ہے۔

یہاں عمران خان نے عوامی جلسے جلوسوں میں کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے عوام کو واضح کیا کہ ان کا واسطہ جن لوگوں سے ہے، وہ شاطر تو ہیں ہی، اس کے ساتھ ساتھ ریاستی مشینری بھی ان کی لونڈی کا کردار ادا کررہی ہے لہٰذا عوام کو نہ صرف انتخاب والے دن باہر نکل کر اپنا ووٹ ڈالنا ہے بلکہ بعد ازاں اپنے ووٹ کی حفاظت بھی کرنی ہو گی تا کہ ان کی رائے کا احترام ہو سکے، ان کا ووٹ چوری نہ ہو سکے۔

عمران خان نے گو کہ اپنا بھرپور دباؤ ریاستی مشینری پر رکھا لیکن اس کے باوجود حکومت نے تحریک انصاف کو دیوار سے لگانے کی پوری کوشش کی،تحریک انصاف کے بااثر سپورٹرز کو بلیک میل کر کے انہیں انتخابی میدان سے دور رکھا گیا،جو بلیک میل نہیں ہوئے انہیں جھوٹے مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا غرضیکہ اپنی ہر ممکنہ کوشش کی گئی کہ تحریک انصاف کو ناکامی سے دوچار کیا جا سکے۔

شنید ہے کہ الیکشن کمیشن نے بھی اس ضمن میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے ووٹرز لسٹوں میں ایسی ایسی کارروائیاں کی ہیں جو کسی بھی صورت ایک آئینی ادارے کو زیب نہیں دیتی لیکن صد افسوس کہ ان تمام تر الزامات کے باوجود الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی واضح جواب نہیں آیا ۔

اس پس منظر میں یہ توقع کرنا کہ تحریک انصاف اتنی واضح برتری حاصل کر سکے گی،ایک خواب ہی تھا لیکن عمران خان نے تن تنہا اس خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے اور اب سیاسی میدان اپنے اگلے مرحلے کی طرف گامزن ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد،گو کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا تاج چودھری پرویز الٰہی کے سر سجے گا،

عمران خان کا اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا؟کیا اس مرحلہ پر عمران خان کو قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا پچھتاوا ہو گا ؟کہ اگر آج تحریک انصاف قومی اسمبلی میں موجود ہوتی تو موجودہ حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ڈول بآسانی ڈالا جا سکتا تھااور حکومت کو گھر بھیجا جا سکتا تھا، لیکن دوسری طرف اگر عمران خان قومی اسمبلی کا حصہ ہوتے تو کیا موجودہ کامیابی سمیٹ پاتے؟

تسلیم کہ پارلیمانی جمہوریت کا تقاضہ یہی ہے کہ معاملات کو پارلیمان میں حل کیا جاتا لیکن کیا پارلیمان جمہوری اقدار کی پیروی کرتی ہے؟ بہر کیف یہ سب ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور اس وقت نظریں مستقبل پر جمی ہیں کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ کیا عمران خان اپنی اس عوامی مقبولیت کو قائم رکھ پائیں گے؟

موجودہ انتخابی مہم اور ضمنی انتخابات میں ایک حقیقت کھل کر واضح ہو چکی ہے کہ عوام اپنی رائے کا اظہار کھل کر کرتے نظر آ رہے ہیں اور انہیں یہ ادراک بھی بخوبی ہو رہا ہے کہ جب تک سیاستدان عوام رائے کا احترام نہیں کریں گے،انہیں پارلیمانی جمہوریت کی آڑ میں اسی طرح تذلیل کا سامنا کرنا پڑے گا،وہ خواہ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں۔ مسلم لیگ نون کے رکن قومی اسمبلی نے ضمنی انتخاب کے بعد اس پر کھل کر اظہار کر دیا ہے کہ مسلم لیگ نون نے کس کے اشارے پر عمران حکومت کو گھر بھیجا تھا اور کس طرح رجیم چینج کا حصہ بنے تھے،جس کا خمیازہ مسلم لیگ نون کو ضمنی انتخابات میں اٹھانا پڑا ہے اور اس کا فائدہ مکمل طور پر عمران خان کو ہواہے۔

ان کے بقول مسلم لیگ نون نے سیاست ہاری ہے لیکن نواز شریف کا بیانیہ جیتا ہے، انتہائی معنی خیز بات کی ہے لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ بظاہر عوام نے تین مرتبہ نوازشریف پر اعتماد کیا لیکن نواز شریف ہر مرتبہ عوامی رائے عامہ کو پس پشت ڈال کر فقط ذاتی مفادات وآسائش کی خاطر ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ یہاں یہ امر برمحل ہے کہ بھٹو پھانسی جھول گئے لیکن عوام سے اپنا رابطہ نہیں توڑا اور آج بھی عوام میں زندہ ہیں گو کہ ان کے چاہنے والوں کو متنفر کرنے میں سب سے زیادہ کردار زرداری نے ادا کیااور لمحہ موجود میں عمران خان وہ سیاستدان ہے کہ ماضی کے برعکس اس نے عوام سے رابطہ جوڑ لیا ہے اور اس وقت مقبول ترین قائد ہے۔

موجودہ ضمنی انتخاب کا سب سے اہم نقطہ جو سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ کامیابی فقط اپوزیشن کی نہیں بلکہ ایک نظریہ کی کامیابی ہے اور عوام نے ثابت کیا ہے کہ اگر سیاسی قائدین ذاتی مفادات کی بجائے کسی نظریہ کے ساتھ عوام میں آئیں گے تو عوام اس کی پذیرائی کرنے میں کسی تامل سے کام نہیں لے گی اور ہر طرح کے دباؤ کے باوجود عوامی ووٹ کی ’’طاقت‘‘ سے سیاسی جماعت کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!