Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
Editorial

سیاسی عدم استحکام کے معیشت پر اثرات

صوبائی اسمبلی پنجاب کے بیس حلقوں میں اتوار کے روز ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد اتحادی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اتحادی حکومت آئینی مدت پوری کرے گی،پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں اتحادیوں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے ۔

مسلم لیگ نون نے ضمنی انتخابات میں شکست پر اپنی رپورٹ وزیراعظم شہبازشریف کو پیش کردی ہے، وزیراعظم نے ضمنی انتخابات میں شکست کے باوجود پارٹی رہنماؤں اور ورکرز کاشکریہ ادا کیا اور کہاہے کہ مریم نواز نے پارٹی کے لیے بہترین انتخابی مہم چلائی، پر امن انتخابات کے انعقاد پر وزیرِ اعلی حمزہ شہباز کی قیادت میں پنجاب حکومت مبارکباد کی مستحق ہے اور صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پیپلز پارٹی نے موجودہ صورتحال میں اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیاہے اور اتحادیوں کے ساتھ بیٹھ کر فیصلے اتفاق رائے سے کریںگے،

پنجاب میں انتخابات صاف اور شفاف ہوئے، ضمنی انتخابات کے انعقاد اور نتائج کے بعد پی ٹی آئی کو اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہئے، دوسری طرف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ہمیں ہرانے کے لیے ریاستی مشینری کا استعمال کیا گیا، بند کمروں میں فیصلے کرنیوالے غلط فہمی میں نہ رہیں،

ہمارامینڈیٹ چوری کرنے والوں کواب ہرجگہ شکست ہوگی،جب تک سیاسی استحکام نہیں آتا معیشت اوپر نہیں جائےگی اور خطرہ ہے کہ حالات اس نہج پر نہ پہنچ جائیں کہ معاملات سب کے ہاتھ سے ہی نکل جائیں، سیاسی بحران سے نکلنے کا واحد حل صاف اور شفاف الیکشن ہیں، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ فوری استعفیٰ دیں،ہمیں ان پر اعتماد نہیں۔ قومی اخبارات نے اتحادی جماعتوں اور چیئرمین تحریک انصاف کو شہ سرخیوں کے طور پرشائع کیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرنا ضروری ہے کہ سیاسی استحکام ہوگا تبھی معاشی حالات بہتر ہوں گے جو سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے روزبروز بگڑتے جارہے ہیں،

منگل کے روز شائع ہونے والے اخبارات میں ڈالر کی قیمت میں ریکارڈ اضافے کو بھی نمایاں اور جلی سرخی کے ساتھ شائع کیا پیر کے روز ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 4.25 روپے کی کمی ہوئی جس کے بعد ڈالر215.20روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا اور ماہرین معیشت ، ڈالر کی بتدریج اونچی اڑان کو سیاسی کشمکش اور عدم استحکام کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں اور ہم نے بھی محسوس کیا ہے کہ پنجاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد مزید سیاسی عدم استحکام نظر آرہا ہے، روپیہ دباؤ کا شکار ہے کیونکہ مارکیٹ نئی حکومت کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال کا شکار ہے اور معیشت کے استحکام کے حوالے سے حکومت اور وزیر خزانہ کو اہم فیصلے کرنا ہوںگے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان سے قرض معاہدے کی تصدیق کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ شروع ہوا تھا لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر روپے کی قدر گراوٹ کا شکار ہے۔ہمارے مشاہدے میں آیا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ ہوا ہے، بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتیں گر گئی ہیں اور شرح سود میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ لوگ ڈالر کے بجائے روپے میں دلچسپی لیں گے۔ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بعد ہم سٹاک ایکسچینج کی بات کرتے ہیں جو سوموار کے روز مندی کا شکار رہی اور 100 انڈیکس 700 پوائنٹس گر گیااور یہاں جو مندی ہوئی اس کو بھی سرمایہ کاروں نے سیاسی عدم استحکام سے جوڑا۔

آج کے اخبارکا صفحہ اول بھی ڈالر کی قیمت میں بتدریج اضافے کی نمایاں خبرکے ساتھ آپ کے سامنے ہے اور یقیناً ڈالر کی قیمت 224 روپے تک پہنچنا ہمارے لیے ہی نہیں کم و بیش ہر پاکستانی کے لیے تشویش ناک ہے کیونکہ عام استعمال کی ہر چیزکی قیمت کو ڈالر سے منسوب کردیاگیا ہے روز اشیا ضروریہ مہنگی ہورہی ہیں اور جواب یہی ملتا ہے کہ ڈالر مہنگا ہورہا ہے، سونے کی قیمت میں بھی حیرت انگیز طور پر اضافہ ہورہا ہے۔ متذکرہ صورتحال بیان کرنے کا مقصد صرف ارباب اختیار کی توجہ ملک کے معاشی حالات کی جانب مبذول کراتے ہوئے ملک و قوم کے بہترین مفاد کے لیے فیصلہ کرنے کی استدعا کے سوا کچھ نہیں۔ مرکز اور پنجاب میں آئینی آپشن کے استعمال سے آنے والی تبدیلی سے پہلے بھی ملکی سیاسی اور معاشی حالات اتنے مثالی نہ تھے کہ واری صدقے جایا جاتا،

پی ٹی آئی کی حکومت نے ہمیشہ یہی موقف رکھا کہ اپوزیشن (موجودہ اتحادی حکومت)نے جلسے اور جلوسوں کے ذریعے حکومت کو کھل کر کام نہیں کرنے دیا اور قریباً قریباً یہی موقف حالیہ دنوں میں اتحادی جماعتوں کی حکومت کی طرف سے ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سیاسی عدم استحکام کو بڑھاوا دے رہی ہے اور پھر اتوار کے روز ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج نے سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام میں مزید اضافہ کردیا ہے، سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر چند روز بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے لیے انتخاب ہونے جارہا ہے اور ضمنی انتخابات کے نتائج کو دیکھتے ہوئے صورتحال بھی قریباً قریباً واضح ہے لیکن وفاقی وزیر داخلہ محترم رانا ثنااللہ نے فرمایا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ہمارا اور تحریک انصاف میں فرق 5نشستوں کا ہے وہ غائب بھی ہو سکتے ہیں،ہم نے اسمبلی توڑنی ہوتی تو پہلے ہی توڑ دیتے دوسری طرف سپیکر پرویز الٰہی کی زیرصدارت ہونے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی جس میں کہاگیا ہے کہ پنجاب کی موجودہ حکومت انتظامی مشینری کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی نے رانا ثنا اللہ کے خلاف سپریم کورٹ سے بھی رجوع کرلیا ہے، اتحادی جماعتوں نے مستقبل کے لائحہ عمل پر مشاورت شروع کردی ہے اور یقیناً یہی موقف دھرایا جائے گا کہ اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی ، سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی مختصر الفاظ میں منظر کشی کے باوجود ایک خبر ایسی نظر سے نہیں گذری جس میں حزب اقتداریا حزب اختلاف نے معاشی عدم استحکام کو ختم کرنے کے لیے اپنے مطالبات یا مقاصد سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا ہو، لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی قیادت کو معاشی استحکام کے لیے میثاق معیشت کرنا چاہیے وگرنہ جیسی معاشی حالت روز بروز ہوتی جارہی ہے، ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان کا خطرہ منڈلاتا رہے گااور کہیں ایسا نہ ہو کہ معاشی حالات قابو سے باہر نکل جائیں اور ہمارے پاس ماسوائے افسوس کے، کچھ باقی نہ رہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!