Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnRoshan Lal

کراچی شہر کیوں ڈوبا؟ ۔۔ روشن لال

جن قسم کے حالات کی وجہ سے ان دنوں کراچی شہر کے لیے ’’ ڈوبنے ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جارہی ہے کبھی ایسے حالات کا شکار علاقوں کو ’’ سیلاب زدہ‘کہا جاتا تھا۔ ماہرین نے سیلاب کی تعریف یوں کر رکھی ہے کہ عام طور پر خشک رہنے والی کوئی جگہ یا مقام اگر زیر آب آجائے تو اسے سیلاب زدہ کہا جاتا ہے ۔ ماہرین نے مختلف علاقوں کے زیر آب آنے کی مختلف کیفیات کو مد نظر رکھتے ہوئے سیلابوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کر رکھا ہے۔ ان میں سے دو اہم ترین اقسام دریائی سیلاب اور شہری سیلاب یعنی اربن فلڈنگ ہیں۔ کسی دریا یا قدرتی آبی گذر گاہ کا پانی اگر اس کے مختص علاقے یا کناروں سے باہر نکل کر انسانی تصرف میں موجود زمینوںیا آبادیوں میں داخل ہو جائے تو اسے دریائی سیلاب کہا جاتا ہے ۔ شہری سیلاب یا اربن فلڈنگ اس کیفیت کو کہا جاتا ہے جس میں شدید بارشوں کے دوران برسنے والے پانی کا حجم اتنا زیادہ ہو جائے کہ اس کا نکاس دستیاب ڈرین اور سیوریج سسٹم کے ذریعے ممکن نہ رہے اور اس پانی کی وجہ سے گلیاں ،محلے ، سڑکیں ، پارک اور حتی کہ لوگوں کے گھر بھی زیر آب آجائیں۔
ہماری ہزاروں سال پرانی تہذیب کی طرح یہاں آنے والے سیلابوں کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ سندھ طاس میں موجود علاقوں کی باہم مربوط تہذیب بھی دیگر تہذیبوں کی طرح کسی نہ کسی دریا کے کنارے پر پروان چڑھی۔ سندھ طاس کے میدانی علاقوں میں موجود بڑے بڑے دریائوں میں آنے والے سیلابوں سے تحفظ کے لیے مقامی باشندوں نے یا تو دریائوں کے کناروں پر پہلے سے موجود ٹیلوں پر اپنے گھر بنائے یا پھر وہاں خود سے ٹیلے استوار کیے۔ دریائوں کے کنارے ٹیلوں پر آباد ہونے کی وجہ سے قدیم دور کے انسان نہ صرف دریائی سیلابوں بلکہ شدید بارشوں کی تباہیوں سے بھی محفوظ رہتے۔ اگرسیلاب کی وجہ سے دریا میں سطح آب بلند ہوتی تو اونچے ٹیلے پر موجود انسانی آبادیاں اس کے نقصانات کی زد میں نہ آتیں اور اگر شدید بارش برستی تو پانی آبادی میں اکٹھا ہونے کی بجائے ٹیلے کی ڈھلوان سے نیچے کی طرف بہتا ہوا دریا کے پانی میں شامل ہو جاتا۔ ہمارے ملک کے مختلف علاقوں میں رہنے والے ماضی کے لوگ گو کہ بہت سادہ تھے مگر اپنی سادگی کے باوجود انہوں نے دریائی سیلابوں اور بارشوں کے پانی سے تحفظ کے طریقے سیکھ لیے تھے۔
ہندوستان میں انگریز دور حکومت کے آغاز سے پہلے ہمارے بزرگ ہزاروں سال سے چلی آرہی روایتوں کے مطابق اپنے گھر اور آبادیاں تعمیر کرتے رہے ۔ انگریزوں نے اپنی حکومت قائم کرنے کے بعد نہ صرف یہاں یورپی طرز زندگی بلکہ اپنے طرز تعمیر اور شہری سہولتوں کی حامل آباد کاری کو بھی روشناس کروایا۔ یہاں نئی آبادیاں تعمیر کرتے وقت انگریزوں نے مقامی روایات اور یورپی طرز تعمیر کو ملا جلا کر فراہمی و نکاسی آب کا نظام متعارف کرایا۔واضح رہے کہ انگریزوں نے نکاسی آب کا جو نظام اٹھارویں اور انیسویں صدی کے دوران ہندوستان میں متعارف کرایا یورپ میں اس کا آغاز پیرس سیوریج سسٹم کی 1375 عیسوی میں کی گئی تعمیر سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔ انگریزوں نے یہاں سیلابی پانی اور آبادیوں میں پانی کے نکاس کا کس حد تک خیال رکھا اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ انہوں نے لاہور سے راولپنڈی ریلوے لائن کی تعمیر کے دوران شاہدرہ اور کالا شاہ کاکو ریلوے سٹیشنوں کے درمیان برساتی نالوں کے بہائو کے لیے سو آبی راستوں پر مشتمل قریباً ایک کلومیٹر لمباپل بنایا۔ انگریز انجینئروں نے یہ پل اس منصوبہ بندی کے تحت بنایا کہ آئندہ کئی دہائیوں تک اس مقام پر برساتی پانی کے بہائو میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ یہاں یہ المیہ بیان کرنا ضروری ہے کہ برساتی نالوں کے بہائوکے لیے انگریزوں کا بنایا ہوا سو موریہ پل تو اب بھی موجود ہے مگر اس پل کے عین سامنے ہمارے انجینئروں نے مزدوروں کی ایک کالونی تعمیر کر کے برساتی نالے کا پانی گزرنے کے لیے صرف سو ، ڈیڑھ سوفٹ چوڑی جگہ چھوڑ ی ہے۔ انگریزوں نے ایک اور کام یہ کیا تھا کہ زمینوں کی جمع بندی کرتے وقت بارش کے پانی کے نکاس کے لیے صدیوں پہلے قدرتی طورپر معرض وجود میں آنے والے برساتی نالوں کی چوڑائی میں ایک انچ کمی کیے بغیر ان کے رقبے کو سرکاری ریکارڈ میں ان کے نام سے درج کیاتھاتاکہ بعد ازاں کوئی ان کی زمین پر قبضہ نہ کر سکے۔
انگریزوں کی قائم کی ہوئی مذکورہ مثالوں کے برعکس اگر کسی نے ان کے دیئے ہوئے تعمیراتی دستورالعمل کی پامالی کی مثالیں ڈھونڈنا ہوں تو ایسی
ہر مثال کراچی شہر میں دیکھی جاسکتی ہے۔ کراچی میں انگریزوں کے دیئے ہوئے نکاسی آب کے نظام کی پامالی کی حالت یہ ہے کہ سولجر بازار ڈرین پر عرصہ پہلے جیولر مارکیٹ اور دو عدد بنک تعمیر ہو چکے ہیں۔ اسی ڈرین پر گرلز کالج کا ایک حصہ اور ایک گورنمنٹ سکول بھی بنایا گیا ہے ،شاہین کمپلیکس، سپریم کورٹ کی کارپارکنگ اور صوبائی محتسب کا دفتر بھی اسی نالے پر بنا ہوا ہے۔ اسی نالے کی زمین پر کے ایم سی مارکیٹ اور اورنگ زیب مارکیٹ بھی موجود ہے۔ لیاری میں پچرڈ نالے پر ککری گرائونڈ کا ایک حصہ موجود ہے۔ گوشت مارکیٹ بھی پچرڈ نالے پر ہی بنائی گئی ہے۔ اسی نالے پردو مسجدیں بھی تعمیر کی گئی ہیں۔ عرصہ پہلے کورنگی روڈ کے ساتھ بہنے والے نالے کی چوڑائی کم کر کے اسے چھوٹا کردیا گیا ہے ۔ قیوم آباد کے پاس اسی نالے کو مٹی سے بھر کر پہلے اس کا نام ونشان ختم کردیا گیا اور پھر ہموار کی گئی زمین پر بنگلے تعمیر کر لیے گئے۔ کینٹ سٹیشن سے آنے والا نالا کلفٹن تک پہنچ کر 50 فٹ چوڑا ہو جایا کرتا تھا مگر اب اس نالے کے بہائو کو 36 انچ قطر پائپ میں محدود کر کے نہر خیام کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ اس کارروائی سے جو زمین حاصل کی گئی ہے اس پر ناجائز عمارتیں تعمیر کردی گئی ہیں۔ مدینہ کالونی نالے کی چوڑائی اگر سنگر چورنگی پر آکر انتہائی کم ہوجاتی ہے تو اس کی وجہ بھی ناجائز تجاوزات ہیں۔ اورنگی کے سب سے بڑے نالے کے دونوں اطراف میں ناجائز تجاوزات کی وجہ سے اب یہ نالا ایک چھوٹی سے ڈرین بن چکا ہے۔ دیگر نالوں کی طرح میانوالی نالے کو بھی چھوٹا کردیا گیا ہے۔ میڈیا اور عدالتوں میں سب سے زیادہ ذکر گجر نالے کا ہوتا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اس نالے کی اصل چوڑائی 250 فٹ ہے مگر ناجائز تجاوزات کی وجہ سے صرف 60 فٹ رہ گئی ہے۔ ہریانہ نام کے نالے کے اوپر لینٹر ڈال کر اس کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا ہے۔
حالیہ بارشوں کے بعد بہت شور مچایا جارہا ہے کہ کراچی ڈوب گیا۔ اس طرح کا شور مچانے والے اپنے سیاسی مخالفوں پر توکراچی شہر کو ڈبونے کے الزام لگا رہے ہیں مگر ان لوگوں کی طرف اشارہ کرنے سے نہ جانے کیوں ہچکچا رہے ہیںجنہوں نے انگریزوں کے دیئے ہوئے تعمیراتی اسلوب اور ہمارے بزرگوں کی قائم کی ہوئی نکاسی آب کی روایات کی دھجیاں بکھیریں۔ ایسے لوگوںکا بہیمانہ کردار ہی کراچی کے ڈوبنے کی اصل وجہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!