Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
ColumnHabib Ullah Qamar

گرین سعودی عرب اور محمد بن سلمان .. حبیب اللہ قمر

حبیب اللہ قمر
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے تحقیق، ترقی اور اختراع کے شعبے کے لیے قومی اُمنگوں اور ترجیحات کا اعلان کیا ہے۔اس کا مقصد مقامی اور عالمی سطح پر مملکت کی مسابقت کو بڑھانا ہے۔دو دہائیوں پر محیط ان اُمنگوں میں ویژن 2030 کے مطابق صحت میں ترقی، ماحولیاتی پائیداری، توانائی اور صنعت میں قیادت اور مستقبل کی معیشتوں میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔برادر ملک کی جانب سے مملکت سعودی عرب میں دس ارب اور مشرق وسطیٰ میں پچاس ارب درخت لگانے کے منصوبہ پر تیزی سے عمل جاری ہے۔ اسی حوالے سے ریاض کے رہائشی علاقوں میں بڑے پیمانے پر شجر کاری مہم چلائی جارہی ہے اورگلی محلوں میں درخت لگائے جارہے ہیں۔ گرین ریاض پراجیکٹ دارالحکومت کے چار بڑے اہم منصوبوں میں سے ایک ہے۔ شجر کاری کا آغاز ریاض کے سات محلوں سے کیاگیا ہے جن میں العزیزیہ اور العریجا شامل ہیں۔ ریاض جیسے منصوبے کامیاب ہونے پر سعودی عرب کے تمام شہرو ںمیں نافذ کئے جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وسیع البنیاد شجر کاری کی بدولت ریاض کا موسم تبدیل ہوجائے گا۔
سعودی عرب کی طرف سے ویژن 2030 منصوبہ کے تحت گرین سعودی عرب اور گرین مشرق وسطیٰ کے انقلابی منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے۔ ایک ایسا خطہ جو عام طور پر سخت گرمی اور خشک موسم کے باعث جانا جاتا ہے وہاں تیزی سے ماحولیاتی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔برادر ملک تیل پیدا کرنے والے بڑے ملک کی حیثیت سے ماحولیاتی بحران کے خلاف جنگ کو آگے بڑھانے کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہےکہ جس طرح مملکت نے تیل اور گیس کے دور میں انرجی مارکیٹ کو سہارا دیا اسی طرح دنیا کو سرسبز بنانے کے لیے بھی ان کا ملک عالمی رہنما بننے جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم گرین سعودی عرب منصوبے سے سبزے میں اضافہ کریں گے جس سے کاربن کے اخراج پر قابو پا کر ماحول کو بہتر بنایا جاسکے گا۔ اس سے ناصرف کرہ ارض پر مفید اثرات مرتب ہوں گے بلکہ سمندری حیات کا بھی تحفظ ہو گا۔ سعودی عرب کے گرین منصوبے کا جائزہ لیں تو اس کے تحت مملکت میں آئندہ چند برسوں میں دس ارب درخت لگائے جائیں گے جس سے قریباً چالیس ہیکٹر اراضی سرسبز ہو سکے گی اور سبزہ زاروں میں بارہ گنا اضافہ ہو گا۔
یعنی برادر ملک شجر کاری کے حوالے سے عالمی سطح پر چار فیصد سے زیادہ کی نمائندگی کرے گا اور دنیا کے مختلف ملکوں میں ایک کھرب درخت لگانے کے عالمی ہدف کا ایک فیصد سعودی عرب حاصل کرے گا۔گرین منصوبہ کے حوالہ سے اردو نیوز ویب سائٹ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سرسبز سعودی اقدام سے کاربن گیس کا اخراج چار فیصد کم ہو گا اور تجدیدتوانائی کے منصوبوں سے سال 2030تک مملکت میں پچاس فیصد سے زائد بجلی پیدا کی جاسکے گی جبکہ ہائیڈرو کاربن ٹیکنالوجیز کے ذریعے ایک سو تیس ملین ٹن سے زائد کاربن کے اخراج پر قابو پایا جاسکے گا۔ گرین منصوبہ سے علاقوں میں محفوظ وسائل (سبزہ و چراہ گاہیں)تیس فیصد سے زیادہ بڑھائی جاسکیں گی جس کا تخمینہ چھ لاکھ کلومیٹر بتایا جاتا ہے۔ گرین سعودی عرب اور گرین مشرق وسطیٰ مہم کے حوالے سے خلیج تعاون کونسل میں شامل ملکوں کی طرف سے چالیس بلین اضافی درخت لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا ہدف پچاس ارب درخت لگانا ہے جو دراصل دنیا میں شجر کاری کا سب سے عظیم منصوبہ ہے جسے ساحلی خطے میں ’’گرینڈ گرین وال‘‘ کے حجم سے بھی دوگنا قرار دیا جارہا ہے۔
سعودی عرب کی طرف سے مختلف علاقوںمیں درخت لگانے کا عمل تیزی سے جاری ہے اور اب وہ خطے یا علاقے جو کبھی خشک اور بنجر نظر آتےتھے آج وہاں ہریالی کے دلفریب مناظردکھائی دیتے ہیں۔ مملکت میں زراعت کا فروغ سعودی ویژن 2030 کا حصہ ہے جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر زرعی فارمز قائم کئے جارہے ہیں۔ اس سے قبل برادر ملک میں گندم کی کاشت کے لیے بڑے پیمانے پر مصنوعی فارم تیار کیے گئے تھے لیکن پانی کی کمی کی وجہ سے گندم کی کاشت پر آنے والی لاگت میں کافی اضافہ ہو جاتا تھا تاہم اب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کاشت کاری کے میدان میں بہتری کی امید کی جارہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں بارشوں کی کثرت اورغیرمتوقع برف باری سے بھی موسم میں تبدیلیوں کے واضح آثار سامنے آ رہے ہیں۔ 2008 سعودی عرب میں خاص طور پر موسمی تبدیلیوں کا سال تھا،جب تبوک ریجن میں غیرمعمولی برف باری سے پہاڑی سلسلے نے سفید چادر اوڑھ لی تھی۔ اسی سال جدہ میں بھی تباہ کن بارشیں ہوئیں جن میں دوسوتیس افراد جاں بحق ہوئے، ہزاروں گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں اور سینکڑوں مکان زیر آب آگئے تھے۔ سال 2008 سے شروع ہونے والے بارشوں کے سلسلے نے میدانی علاقوں کا نقشہ مکمل طور پرتبدیل کر دیا ہے اور اب یہ علاقے سبزہ زاروں کا منظر پیش کررہے ہیں۔ اسی طرح مغربی علاقے میں ہونے والی برف باری کے باعث مقامی سیاحت کو کافی فروغ مل رہا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق عرب خطے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے پانی کے ذخائر
میں غیر معمولی اضافہ ہو نے کی توقع ہے۔ بالخصوص ان علاقوں میں جہاں پانی کی قلت کی وجہ سے کاشت کاری میں دشواری کا سامنا رہتا ہے۔
سعودی عرب کو زراعت کے فروغ کے لیے جن مسائل کا سامنارہا ہے ان میں سب سے اہم مسئلہ پانی کی مسلسل اور وافر مقدار میں عدم فراہمی ہے۔ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مملکت میں پچھلے چند برسوں سے ہونے والی مسلسل بارشوں سے طائف کا پہاڑی سلسلہ سرسبز ہو گیا ہے جب کہ وہاں رہنے والے کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے پھل جووہ پہلے نہیں اگا پاتے تھے اب آسانی سے ان کی کاشت کر لیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جب مملکت سعودی عرب نے گرین منصوبہ کے تحت ملک کو سرسبز بنانے اور دس ارب درخت لگانے کے انقلابی منصوبے کا اعلان کیا ہے تو اس کے ہر لحاظ سے بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ سعودی عرب کواس وقت خطے میں ماحول کی تبدیلی کے حوالے سے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اور مملکت اس سلسلہ میں ہر سال تیرہ بلین ڈالر خرچ کرتی ہے۔
اسی طرح مختلف گیسوں سے ماحول کی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس سے لوگوں کی اوسط عمر ایک سے ڈیڑھ سال کم ہو رہی ہے لہٰذا اس گرین منصوبہ سے ماحول بھی صاف ستھرا ہو گا اور معاشی حوالے سے بھی فائدے پہنچیں گے۔سابق وزیراعظم عمران خان نے گرین سعودی عرب اور گرین مشرق وسطیٰ منصوبو ں کی حمایت کی جبکہ دیگر ملکوں کے حکام نے بھی اسے برادر ملک کا انتہائی اہم اقدام قرار دیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے گرین سعودی عرب منصوبے کوعالمی سطح پر بہت زیادہ سراہا جارہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے لئے شروع کیے گئے مختلف منصوبوں کا ان شاء اللہ بہت فائدہ ہو گا اور مسلم ملکوں کو اس حوالے سے ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!