Welcome to JEHANPAKISTAN   Click to listen highlighted text! Welcome to JEHANPAKISTAN
CM RizwanColumn

سیاست میں عناد باعث فساد .. سی ایم رضوان

سی ایم رضوان

انسانی تاریخ سیاسی مخالفت کی بنا پر ذاتی عناد، سنگین ترین انتقام اور عبرتناک انجام سے دوچار کر دینے والے اندوہناک اور خوفناک واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن ایسے واقعات اور رحجانات کم از کم پاکستان جیسے معاشروں میں باعث صد تشویش ہیں۔ یہ مملکت کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہوئی مگر افسوس صد افسوس کہ اب پاکستان کی سیاست میں بھی الزام تراشیوں، کردار کشی، لعن طعن اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے اور سیاسی مخالفین کی بدترین تضحیک کرنے کا خطرناک کھیل بھی پچھلے چند سالوں سے شروع ہو چکا ہے۔ سیاسی مخالفین پر سیاہی پھینکنا، جوتے پھینکنا، حتیٰ کہ ان پر فائر کھول دینا اب عام ہو چکا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اب ہمارے سیاست دان اور سیاسی جماعتوں سمیت ان کے سیاسی کارکن ملکی و سیاسی مسائل کی بنیاد پر گفتگو کم اور ذاتیات کے حوالے سے گھٹیا ترین الزامات پر مبنی مذموم کوششیں زیادہ کر کے سیاسی ماحول کو بدترین، تعفن زدہ اور بدنما کر رہے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس کھیل میں قریباً سبھی سیاسی جماعتیں، کارکن اور ان کی قیادتیں پیش پیش نظر آتی ہیں۔

اس کھیل کی نمایاں جھلکیاں ہمیں روزانہ کی بنیاد پر ٹی وی ٹاک شوز ، جلسوںاور جلوسوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ سیاست سے جڑے سیاسی کرداروں کے طرز عمل میں ان جھلکیوں کا عملی اظہار بھی دیکھنے کو ملتا ہے اوریہ سوچ تقویت پکڑتی ہے کہ ہم مہذب، ذمہ دارانہ سیاست اور خالص جمہوری طرزعمل سے بہت دور چلے آئے ہیں۔ ایک عمومی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست میں جو کچھ آج خرابیوں کی صورت میں ہو رہا ہے اس کی بڑی وجہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کا انداز سیاست ہے یعنی سیاست میں الزام تراشیوں، لعن طعن اور سیاسی تضحیک کا کلچر عمران خان کی سیاست سے پہلے نہیں تھا، حالانکہ ایسے سیاسی ماحول کی ایک شکل 1970 سے لیکر 1977 تک کی سیاست میں بھٹو کے حامیوں اور مخالفین میں موجود لعن طعن اور توتکار کی صورت میں بھی دیکھنے کو ملی تھی۔

 

دوسری شکل ہم نے 1985 سے 2000 تک نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے سیاسی حامیوں کے مابین بھی دیکھی اور اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے جو کچھ ہوا وہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا تاریک حصہ ہے۔ 2000سے2008 تک جنرل مشرف کے حامیوں  اور مخالفین کے درمیان بھی سیاسی جنگ اور کشمکش اور اب 2010 سے آج تک ہمیں عمران خان کے حامیوں اور ان کے سیاسی مخالفین کے درمیان دیکھنے کو مل رہی ہے اور یہ جو کچھ آج ہمیں زیادہ جذباتی انداز میں شدت کے ساتھ دیکھنے کو مل رہا ہے اس میں بنیادی فرق سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ ماضی میں بھی یہ سارا گند ہماری سیاسی روایات میں موجود تھا اور بڑی شدت سے سیاسی حامیوں اور مخالفین کے درمیان یہ کچھ ہوتا تھا مگر تب یہ ویڈیوز، آڈیوز اور لائیو مناظر کی کوریج اور فوٹیجز کی صورت میں نہ تو نظر آتا تھا نہ محفوظ ہوتا تھا اور ایسے شرمناک معاملات میں سنگینی اس سطح پر نظر نہیں آتی تھی جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔ ماضی قریب میں نصرت بھٹو، بینظیر بھٹو، سیتا وائٹ، عمران خان کی اہلیہ جمائما خان، شرمیلا فاروقی سمیت کئی بلکہ ان خواتین کے سیاسی مخالفین نے مختلف جھوٹے اور مبینہ طور پر سچے سکینڈل بنا کر ان کی تشہیر بھی کی۔ اسی طرح دونوں اطراف سے مخالفین کو ملک دشمنی، غداری اور غیر ملکی ایجنٹ ہونے جیسے الزامات لگا کر بھی نیچا دکھانے کی مذموم کوششیں کی گئیں۔

پیپلز پارٹی اور نواز شریف کے حامیوں کے درمیان سیاسی مخالفین پر کرپشن، بدعنوانی، لوٹ مار جیسے الزامات بھی لگتے رہے۔ مقدمات بھی درج ہوئے اور کئی کئی سالوں تک سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کی بدترین مثالیں بھی قائم کی گئیں۔ یہ تو بہر حال ماننا پڑے گا کہ ہمارے سیاسی ماحول میں ذوالفقار بھٹو نے گالی کلچر متعارف کروایا، نواز شریف نے اسے پروان چڑھایا اور اب عمران خان نے اسے عروج پر پہنچا دیا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم، جے یو آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے مجموعی طور پر جو سیاسی کلچر متعارف کروایا یا اسے پالا پوس کر بڑا کیاہے۔اس نے ہماری پوری سیاست اور جمہوریت کے پورے نظام کو اخلاقی بنیادوں پر کمزور کر دیا ہے۔ اب بھی جو کچھ ہم عمران خان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جاری سرد جنگ دیکھ رہے ہیں۔

 

اس پر سوائے ماتم کے اور کچھ نہیں کیا جاسکتا۔ آج بھی حکومت اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کی مجموعی سیاست الزامات کے سہارے پر کھڑی ہے۔ آج بھی سیاست میں موجود خواتین کو لعن طعن یا ان کی کردار کشی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کی یہ حکمت عملی جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی ناکامیوں کو قبول کرنے کی بجائے سارا ملبہ مخالفین پر ڈال کر اپنے ہی سیاسی کارکنوں کے سامنے سرخرو ہونا چاہتے ہیں۔ ان کو یہ لگتا ہے کہ سیاسی کارکنوں کے درمیان یہ سرد جنگ یا محاذ آرائی کا سہارا لے کر ہی وہ اپنے عملی سیاسی مفاد یا سیاست کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

 

یہی وجہ ہے کہ سیاست میں جو بھی کارکن یا لیڈر غیر سیاسی، غیر مہذب، غیر اخلاقی، غیر ذمہ دارانہ یا اخلاق  سے گرا ہوا عمل جاری رکھتا ہے تو اس کی سیاسی قیادت کی جانب سے اس کی حوصلہ شکنی، تادیبی کارروائی کی بجائے اس کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ جب سیاسی قیادت خود ہی اپنے مخالفین کی تضحیک کی سیاست کریں گی تو یہ ہی کلچر پوری جماعت یا سیاسی نظام پر بالادست ہو جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر کوئی سیاسی قیادت یہ کام خود براہ راست نہیں کرتی تو اس نے اپنے ماتحت دیگر لوگوں کو یہ ذمہ داری دی ہوتی ہے کہ آپ مخالفین کے خلاف آخری حد تک جائیں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حالانکہ جب تک سیاسی جماعتوں کے اندر ان معاملات میں داخلی احتساب کا نظام یا سیاسی کارکنوں میں یہ سوالات نہیں اٹھائے جائیں گے، درستگی کا عمل ممکن نہیں، جبکہ میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بھی اپنی ریٹنگ کی دوڑ کا متمنی ہو گیا ہے۔ گویا یہ اس کی مجبوری بن گئی ہے کہ وہ اسے تقویت دینے کے لیے اس سیاسی محاذ آرائی کا حصہ دار بن گیا ہے۔ جو کچھ ٹاک شوز میں ہو رہا ہے یہی کلچر ہمیں عام سیاسی سطح پر موجود سیاسی مباحثوں میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک دوسرے کو سیاسی، سماجی اورمذہبی طور پر برداشت کرنا، رواداری کا مظاہرہ کرنا، تحمل و بردباری سے لوگوں کی باتوں کو سننا، اپنی ہی بات کو محض سچ سمجھ لینا اور دوسروں کے سچ کو قبول نہ کرنا، سیاسی، سماجی اور مذہبی فتووں کا کھیل، پر تشدد رجحانات کی حوصلہ افزائی کرنا، انتہا پسندی پر مبنی سوچ کا پرچار، لوگوں کی ذاتی یا نجی زندگیوں میں مداخلت کرنا اور محض الزامات کی بنیاد پر ان کی کردار کشی جیسے رویے ہمارے سیاسی ماحول میں عام ہو گئے ہیں۔

 

حالانکہ جو لوگ معاشروں میں رائے عامہ کو بناتے ہیں جب وہی اپنے مزاج میں کڑوے ہوجائیں اور الزام تراشی یا تضحیک سمیت کردار کشی کی سوچ کو اپنے مخالفین کے خلاف سیاسی ہتھیار بنالیں تو پھر معاشرے کی اصلاح کہاں سے اور کیسے ہوگی۔ منافقت تو یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں جمہوریت کی باتیں تو بہت کرتی ہیں لیکن اصلاح احوال کے لیے بنیادی نوعیت کی اصلاحات یا ان پر عملدرآمد کے نظام کو حتمی شکل دینے کے لیے ان میں سے کوئی ایک بھی تیار نہیں۔ سیاسی کارکنوں کی تربیت کی بات بھی اکثر کی جاتی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت اپنی سیاسی حکمت عملی میں اسی تضحیک کی سیاست کو اپنا سیاسی ہتھیار سمجھتی ہے۔ اس ساری صورتحال یا سیاسی بگاڑ کی ذمہ داری کسی ایک جماعت پر ڈالنے کی بجائے یہ تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ یہ مجموعی سیاسی کلچر کی سیاسی ناکامی ہے۔ اس ناکامی میں سب ہی سیاسی فریق ذمہ دار ہیں۔ اگر صورتحال کو تبدیل کرنا ہے تو یہ کوشش اجتماعی بنیادوں پر کسی بڑی ٹھوس سطح کی منصوبہ بندی سے ہی ممکن ہے۔ اس حوالے سے وطن عزیز کی تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان کچھ بنیادی نوعیت کا سیاسی ضابطہ اخلاق تیار کرنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی مخالفت میں کس حد تک جا سکتے ہیں اور کسی بھی صورت ہمیں سیاسی ریڈ لائن کو کراس نہیں کرنا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس حد تک متحارب سیاسی جماعتوں کے قائدین جا چکے ہیں کیا وہ ایک ضابطہ اخلاق بنا سکیں گے جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا تو کجا ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ ایسے میں پھر کارگر قوت تو وہی ہے جس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے لیکن ڈنڈے کے ذریعے حقیقی اتفاق اور یکسوئی تو ممکن ہی نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Click to listen highlighted text!