ColumnImtiaz Aasi

زندگی کی ضمانت .. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی

لاپتا افراد کی بازیابی کا معاملہ گذشتہ چالیس سال سے معمہ بنا ہوا ہے۔وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کمشن قائم کیا تھا جس نے کئی سو افراد کو بازیاب کرایاتاہم اس کے باوجود لاپتا افراد کی بازیابی مسئلہ بنا ہوا ہے۔لاپتا افراد کے اہل خانہ برسوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے غم میں دربدر ہیںاورکچھ اپنے پیاروں کے غم میں زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ کوئی فرد طبعی موت مرجائے تو اس کے اہل خانہ کچھ عرصہ رو دھو کر صبر کر لیتے ہیںکیونکہ رضائے الٰہی کے آگے ماسوائے صبر شکر کے کوئی یارا نہیں ہوتا۔ وقت گذرنے کے ساتھ طبعی موت کا شکار ہونے والوں کے اہل خانہ کا غم مندمل ہو جاتا ہے ۔

گھروں سے باہر جانے والے لوگ واپس نہیں لوٹتے تو جانے والے کے انتظار میں اس کے اہل خاندان صبح وشام اپنے پیاروں کی آمد کے منتظر رہتے ہیں۔لاپتا افراد کی بازیابی کی ذمہ داری کسی ایک حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی کیونکہ یہ معاملہ قیام پاکستان سے چند سال بعد سے چلا آرہا ہے۔  بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کے بڑے بھائی کو لاپتا ہوئے لگ بھگ چالیس سال ہو چکے ہیں۔اس دوران عطاء اللہ مینگل بیٹے کی جدائی میں دنیا سے چلے گئے ۔اولاد کا غم والدین جان سکتے ہیں نہ جانے دل میں کتنے ارمان لیے لاپتا افراد کے لواحقین دار فانی سے رحلت کر چکے ہوں گے۔
بلوچستان سے لاپتا ہونے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن کا تعلق بلوچستان کے ضلع آواران سے ہے۔تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے جب حضرت یوسف علیہ اسلام اپنے بھائیوں کے ساتھ واپس نہ لوٹے تو حضرت یعقوب علیہ اسلام اپنے بیٹے کی والہانہ محبت کی وارفتگی میں بنیائی کھو بیٹھے تھے۔جن خاندانوں کے چشم وچراغ برسوں سے لاپتا ہیں ان خاندانوں پر کیا گذرتی ہو گی۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے اختر مینگل سے کہا ہے کہ لاپتا افراد زندہ ہیں تو بتائیںوہ ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہیں۔وزیر داخلہ نے اس سلسلے میں کمیٹی بنانے کے بھی پیش کش کی ہے۔لاپتا افراد کے زندہ ہونے کا علم ان کے اہل خانہ کو ہوتا تو وزیرداخلہ تو متاثرہ خاندانوں کو حکومت سے کہنے کی ضرورت نہیں تھی
۔تاریخ شاہد ہے جب کسی معاملے میںکمیٹی بنائی گئی تو معاملہ سرد خانے کی نذر ہو گیا۔وفاقی دارالحکومت سے لاپتا ہونے والے ایک صحافی کا مقدمہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔جناب چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ریاست کے اندر ریاست قائم ہے۔ہر روز لوگ اٹھائے جا رہے ہیںکوئی پوچھنے والا نہیں۔ جبری گمشدگیوں کا ذمہ دار کون ہے؟عدالت نے حکومت سے اس سلسلے میں 23 مئی کے حکم پر عمل درآمد کرنے کو کہا ہے۔چیف جسٹس نے اس ضمن میں سابق اور موجودہ حکومت کے وزیر داخلہ سے بیان حلفی لینے کا حکم دیا ہے۔ لاپتا افراد کی بازیابی کے معاملے کو عام سمجھ کر صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کو عدالت میں جواب دینا ہوگا۔سوال یہ ہے آخر لاپتا ہونے والے افراد کی اکثریت کاتعلق بلوچستان سے کیوں ہے؟
حکومت کو ان عوامل کو تلاش کرنا چاہیے جن وجوہات کی بنا صوبے میںآئے روز دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ملک بنے کئی عشرے گذر گئے کسی حکومت نے بلوچستا ن کے دور افتادہ علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے۔بے روز گاری عروج پر ہے ۔پڑھے لکھے نواجوانوں کو روزگار نہیں ملے گا وہ بے راہ روہی کاشکار ہوں گے۔بلوچستان کے بارڈر پر باڑ لگانے کے باوجود آئے روز دہشت گردی کے واقعات کا رونما ہونا اس امر کی دلیل ہے۔بلوچستان کے داخلی معاملات تسلی بخش نہیں ہیں۔اگرچہ سکیورٹی فورسز دن رات دہشت گردوں کا پیچھا کئے ہوئے ہیں۔ بلوچستان کا بارڈر افغانستان اور ایران کے ساتھ منسلک ہونے سے ہمارا ملک بہت سے مسائل کا شکار ہے۔یہ تو سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا ثمر ہے دشوار گذار پہاڑوں میں چھپے دہشت گردوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑے رہتے ہیں۔اس کے باوجود بلوچستان میں امن وامان کا واحد حل سیاسی طور پر ممکن ہے۔کچھ تو نواب نوروز کی پھانسی سے صوبے میں امن وامان کی فضا خراب ہوئی اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں نواب اکبر خان بگٹی کی موت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
بلوچستان کے جلاوطن لوگوں کو قومی دھارے میں لانے سے بہت حد تک صوبے کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔بنیادی طور پر صوبے کے معاشی مسائل کوحل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سندھک اور ریکوڈک جیسے عظیم الشان منصوبوں میں وہاں کے رہنے والوں کو روزگارکے مواقع ملنے چاہیے۔عام طور پر ایسے منصوبوں پر غیر ملکی افراد کی اجارہ داری سے مقامی لوگوں کو ماسوائے نائب قاصد اور چوکیدار کی آسامیوں پر ملازمت کے علاوہ کسی اور عہدے پر نوکری نہیں دی جاتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ بلوچستان کے موقع پر وہاں کے سیاسی رہنمائوں اور عمائدین نے لاپتا افراد کی بازیابی کا معاملہ اٹھایا تو وزیراعظم نے یہ کہہ کر بات ختم کردی وہ بااختیار حلقوں سے اس سلسلے میں بات کریں گے۔
بی این پی کے سربراہ اختر مینگل کا سابق وزیراعظم سے تنازعہ اسی بات پر تھا ان کے دو مطالبے تھے ایک افغان پناہ گزینوں کی بلوچستان سے وطن واپسی اور دوسرا لاپتا افراد کی بازیابی تھا۔ تعجب ہے کوئی حکومت لاپتا افراد کی باز یابی کا نام نہیں لیتی اور نہ ہی ابھی تک موجودہ حکومت کے دور میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔قدرتی معدنیات سے مالا مال یہ صوبہ کسی مسیحا کا متلاشی ہے۔کوئی تو ہو جو اس پسماندہ صوبے کی حالت زار کا ازالہ کرنے کی طرف توجہ دے۔
حقیقت تو یہ ہے قیام پاکستان سے اب تک بلوچستان میں جو ترقیاتی کام سب سے زیادہ ہوئے ہیں وہ مشرف دور میں ہوئے ہیں لہٰذا وہاں کی ترقی کا کریڈٹ مشرف حکومت کو جاتا ہے۔ دراصل بلوچستان کے وڈیروں اور سرداروں نے حکومتوں میں آنے کے بعد اپنے اثاثوں میں اضافہ کیا ہے۔ایک سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا اختر مینگل کے پاس دبئی میں ایسی قیمتی گاڑیاں ہیں جو وہاں کے شیخوں کے پاس بھی نہیں ہیں۔بلوچستان میں قیام امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتمادمیں لے کر یہ مسئلہ حل کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button