Editorial

مشکل معاشی فیصلے اور عوامی

وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر گھمبیر صورتحال درپیش ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ہمیں بھی مجبوراً قیمتیں بڑھانا پڑیں ۔بجٹ میں صاحب حیثیت طبقات پر ٹیکس لگایا گیا تاکہ عام آدمی کو یہ احساس ہو کہ ان کی حکومت ان کا بوجھ بانٹنے کے لیے اقدامات کررہی ہے ۔
توقع رکھتے ہیں کہ ملک کا امیر طبقہ زیادہ ٹیکس دے کر حکومت کا ساتھ دے گا۔ حکومت زیادہ ٹیکس جمع کرکے غریبوں پر خرچ کرسکے گی۔ہم نے دلیرانہ فیصلے کئے ، مزید بھی کرنا پڑے تو کریں گے ۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی بحث کی گئی ہے اور ذرائع ابلاغ کے مطا بق وفاقی وزرا نے ٹیکسوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے محسوس کیا ہے کہ اِن فیصلوں سے تمام اتحادی جماعتوں کا عوامی گراف نیچے آیا ہے،
لیکن وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا جوابی موقف تھا کہ آئی ایم ایف سے جلد اچھی خبریں ملیں گی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی میں اضافے کی وجہ سے کیاگیا تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ سے کہا کہ میں آپکا دفاع نہیں کروں گا، ٹیکسوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے پر اپنے ساتھیوں کو مطمئن کریں۔ وزیر خارجہ  بلاول بھٹو زرادری نے بھی یہی کہا ہے کہ ہم نے ملکر آگے بھی اہم فیصلے لینے ہیں تاکہ عوام کی مشکلات کم ہو سکیں۔ وزیراعظم محمد شہبازشریف معیشت کی بحالی اور مجھے معاشی بحران سے جلد نکلنے کے لیے پرعزم ہیں، بلکہ تمام اتحادی جماعتیں متفق ہیں کہ ملکی معیشت کو اب لازماً سنبھالا دیا جائے اگر ابھی مشکل فیصلے نہ کیے گئے اور سیاسی نقصان کو مدنظر رکھا جاتا رہا تو خدانخواستہ وطن عزیز دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ سکتا ہے اسی پر ہم کہنا چاہیں گے کہ معاشی لحاظ سے ہم اندر سے انتہائی نحیف بلکہ وینٹی لیٹر پر ہیں، معاشی بدحالی کا سفر کئی دہائیوں سے تیزی کے ساتھ جاری رہا اور ماضی میں نظریہ ضرورت کے تحت قرضوں کا بوجھ لاد کر ’’ڈنگ ٹپائو‘‘ پالیسی پر عمل پیرا رہا گیا یہی وجہ ہے کہ آج بین الاقوامی مالیاتی ادارے ہماری معاشی حالت کی وجہ سے ہمیں قرض دینے سے بھی کترارہے ہیں،
غیر ملکی سرمایہ کار بھی سرمایہ کاری سے گریزاں ہے کیونکہ معاشی بحران میں پھنسے ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرتا، ملکی سرمایہ کار بھی معاشی حالات کی وجہ سے مارکیٹ میں سرمایہ لانے سے گریزاں ہیں کہ نجانے کب کیا صورتحال ہو۔ معاشی بدحالی نے وطن عزیز کو ایسی صورتحال سے دوچار کررکھا ہے کہ ہر پاکستان خواہ وہ امیر ہو یاغربت کی لیکر سے نیچے زندگی گذارنے والا، سبھی معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور ماضی کی حکومتوں کے غلط فیصلوں پر تنقید بھی کررہے ہیں،
اگرچہ مخلوط حکومت آئی ایم ایف سے نیا پروگرام لیکر معیشت کو کھڑا کرنے کی نیک نیتی ظاہر کررہی ہے لیکن حالیہ فیصلوں کے مضمرات بہت دیر تک ختم نہیں ہوں گے ایسا معاشی ماہرین دعوے سے کہہ رہے ہیں، آئی ایم ایف سے نیا پیکیج ملنے کے بعد ایسا کیا ، کیا جائے گا جس سے عام پاکستانی کی معاشی حالت بہتر ہوگی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی منڈی سے جوڑ ا جارہا ہے، ظاہر ہے جب بھی عالمی منڈی میں پٹرول مہنگا ہوگا اس کا بوجھ براہ راست عوام پر منتقل ہوگا، اس مہنگے ایندھن کی وجہ سے بجلی بھی مہنگی ہوگی، یہیں سن لیجئے کہ وفاقی کابینہ نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 99 پیسے فی یونٹ اضافے کو موخر کر دیاہے،
یعنی سمجھ لیا جائے کہ موخر کیا ہے اور کسی بھی موزوں وقت پر لاگو کیاجاسکتا ہے جس کے بعدبجلی مزید مہنگی ہوجائے گی اور اس کا بوجھ گھریلو اور صنعتی صارفین پر پڑے گا۔ کچھ سوالات کے جواب یقیناً موجود ہونے چاہئیں کہ وطن عزیز میں ایسا کیا کیا جائے گا جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کا تمام قرض یا اُس قرض کی اقساط بہ آسانی ادا ہوتی رہیں گی، جب ہماری صنعتیں ہی بند ہونے کے قریب پہنچ جائیں گی تو ہماری درآمدات کا حجم کیا رہ جائے گا؟ مہنگی بجلی، مہنگی گیس اور مہنگے پٹرول سے ہم کیسے صنعتیں چلائیں گے، صنعتیں نہیں چلیں گی تو باہر سے زرمبادلہ کیسے آئے گا، باوجود اِس کے کہ حکومت بجلی، پٹرول اور گیس وغیرہ سے سبسڈی بتدریج ختم کرکے بوجھ عام صارف پر منتقل کررہی ہے،
دیکھا جانا چاہیے کہ کیا عام صارف یہ بوجھ اُٹھانے کا متحمل ہوسکتا ہے یا نہیں، موجودہ حالات میں یہ بتانا ضروری ہے کہ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کی وجہ سے نجی شعبے سے منسلک افراد کا آمدو رفت کا خرچ آمدن کے نصف تک پہنچ چکا ہے، گیس ، بجلی اور دیگر تمام اشیائے خورونوش اور ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اُس کی آمدن سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے، برطانوی جریدے اکانومسٹ نے حالیہ شمارے میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے،
دوسری طرف خارجہ امور پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال پیداکرکے غیر ملکی طاقتیں اپنے مقاصد حاصل کرتی ہیں۔ صرف ملکی ہی نہیں بلکہ عام پاکستانی کے معاشی حالات بھی انتہائی سنگین اوربدترین صورت اختیار کرچکے ہیں، حکومت کو مشکل فیصلے کرتے وقت دیکھنا چاہیے کہ عوام مزید کتنا مالی بوجھ برداشت کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button