تازہ ترینخبریںپاکستان سے

آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی نئی شرائط منظر عام پر آگئیں

آئی ایم ایف اورپاکستان کے درمیان مذاکرات کی نئی شرائط منظر عام پر آگئیں ، حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض کیلئے 40 ارب کےنئے ٹیکس لگانے کی حامی بھرلی۔

تفصیلات کے مطابق شہباز حکومت کے آئی ایم ایف سے مذاکرات کی نئی شرائط سامنے آگئیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر ہرماہ لیٹر پر پانچ روپے لیوی عائد کی جائے گی اور یہ سلسلہ پچاس روپے لیوی عائد ہونے تک چلتا رہے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کو مزید نچوڑا جائے گا، بجٹ میں سالانہ چھ سے بارہ لاکھ آمدن پر ایک فیصد ماہانہ ٹیکس لگایا گیا تھا لیکن اب اس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ سے بارہ لاکھ سالانہ آمدن پر اب ڈھائی فیصد ٹیکس، سالانہ 15 کروڑ آمدن پر ایک فیصد ، سالانہ 20 کروڑ آمدن پر دو فیصد، سالانہ 25 کروڑ آمدن پر تین فیصد اور سالانہ 30کروڑ آمدن پر چار فیصد ٹیکس وصول کیا جائےگا۔

ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کیلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 7445ارب تک لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کسٹمز وصولیوں کا ہدف 950 پچاس ارب سے بڑھا کر ایک ہزار پانچ ارب روپے کیا جائے گا۔

جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں وصولیوں کا ہدف تین ہزار آٹھ سے بڑھا کر تین ہزار تین سو ارب ہوگا، آئی ایم ایف پاکستان کو جمعہ کو معاہدے کا مسودہ فراہم کرے گا۔

آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہے ، پاکستانی اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ بجٹ پر تفصیلات طے ہوگئی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق نئے مالی سال میں بجٹ کا حجم نو ہزار نو سو ارب روپے تک ہوجائے گا، جو پیش کردہ بجٹ سے تقریباً چار سو ارب روپے زائد ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button