ColumnNasir Sherazi

خاکی کا کمال .. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

ستر کی دہائی میں بننے والی اردو فلموں میں انٹرویل سے قبل ایک اہم موڑ آتا، جب شکل و صورت، میک اپ اور بیہودہ لباس میں آراستہ و پیراستہ ویمپ کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ سازش کرتے ہوئے اپنا ناجائز بچہ ہیروئن کی گود میں ڈال کر گھر کی سب سے پرانی اور وفادار ملازمہ کی گواہی ڈلواکر نیک صورت، نیک سیرت اور قریباً اللہ توکل  آئین پاکستان کی شق باسٹھ تریسٹھ پر پوری اترنے والی ہیرو کی پہلی محبت اور اپنی غریب مسکین کزن کو گھر سے نکلوادیتی ہے۔ ہیروئن ہلکا سا منمناکراس گناہ سے انکارکرتی جبکہ ویمپ اپنے دھواں دار مکالموں سے اسے بدکردار ثابت کردیتی، ان مناظر کے ساتھ ہی سنیما ہال اور گیلری میں بیٹھی خواتین کا رونا دھونا شروع ہوجاتا، انہیں زیادہ تکلیف ہیروئن کی سادگی پر ہوتی جو اس بچے کولیکر گھر سے نکل جاتی اور زمانے بھر کے دکھ اٹھاکر اس بچے کی پرورش کرتی اور اسے بڑا آدمی بنانے میں کامیاب ہوجاتی، سولہ ریلوں کی فلم کے آخری حصے میں جھوٹ اور سچ واضح ہوتا اور معلوم ہوتا کہ وہ ناجائز بچہ بھی دراصل حلالی تھا،

ویمپ نے خفیہ شادی کررکھی تھی، گھر کی پرانی اور وفادار ملازمہ مرنے سے چند روزقبل ضمیر کے بیدار ہونے پر ہیروئن اور اس کے لے پالک بیٹے کو حقیقت بتاکر آخری ہچکی لے کر دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے، وہ بڑا آدمی غصے میں اپنی حقیقی ماں کو جاکر کھری کھری سناتا ہے اور فیصلہ سناتا ہے کہ اُسے جنم دینے والی عورت سے اپنی ہی جیسی عورت پر اس ظلم کی توقع نہیں تھی، اب وہ اُسی کا بیٹا ہے جس نے اُسے مصیبتیں جھیل کر پالا، یہ مکالمے سن کر ہیرو، اس کے ابا، اماں سب ہیروئن کو معاف کردیتے ہیں، ہیروئن کی ڈرامائی اینٹری میں وہ اپنے لے پالک بیٹے کوماں کا مقام یاد کراتی ہے، اس کے قدموں تلے جنت کا منظر دکھاتی ہے اور حقیقی ماں کے گلے لگ جانے کا حکم دیتی ہے۔ لے پالک بیٹا حکم کی تعمیل کرتا ہے، کیمرہ وہاں موجود ہر کردار کے چہرے کا کلوز اپ دکھاتا ہے، سب کی آنکھیں آنسوئوں سے تر ہیں، سب دوڑ کر ایک دوسرے کے گلے لگ جاتے ہیں، حق اور سچ کی جیت ہوجاتی ہے، سنیما میں بیٹھی خواتین کی جان میں جان آتی ہے، سب اپنی آنکھیں صاف کرتی سنیما ہال سے خوشی خوشی باہرآتی ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ بھی ایسا ہی ایک ناجائزبچہ تھا، جسے پاکستان کی گود میں ڈال دیاگیا، گھر کے وفاداروں کی گواہی ڈالنے کے بعد اس کی پرورش ہماری ذمہ داری بن گئی، برسوں بعد اب اس سے جان چھوٹتی نظر آرہی ہے،یہ ناجائز بچہ امریکہ اور یورپ کا مشترکہ بچہ تھا، جو ایک عذاب کی طرح ہمارے گلے پڑا رہا، اپوزیشن میں بیٹھی تحریک انصاف اسے اپنی کامیابی قرار دیتی ہے لیکن پی ڈی ایم حکومت بھی اس کا کریڈٹ چھوڑنے کو تیار نہیں، اپوزیشن کی طرف سے اس کے کسی چاہنے والے نے کہا ہے کہ شادی کے دو ماہ بعد بچہ پیدا ہو تو پہلے خاوند کا ہی کہلائے گا،

ان کا کہنا کسی حد تک درست ہے، ماضی میں ایسا ہی ہوا کرتا تھا لیکن انٹرنیٹ اور واٹس ایپ آنے کے بعد سے یہ فلسفہ دم توڑ چکا ہے، معاملات اس سے بہت آگے نکل چکے ہیں، اب شادی کے دو ماہ بعد بچہ پیدا ہو تو ضروری نہیں وہ پہلے خاوند کا ہو، وہ نامعلوم افراد کا بھی ہوسکتا ہے، ہمیں وقت کا انتظار کرنا ہوگا، بچے کی پیدائش میں ابھی کچھ وقت ہے، امید ہے اُس وقت تک صورتحال واضح ہوچکی ہوگی، پھر بھی ابہام برقرار رہا تو مزید انتظار کرنا ہوگا تاوقتیکہ بچے کے نقش و نگار کچھ واضح ہوجائیں، یہ بھی ممکن ہے بچے کا فیس کٹ اور کان تحریک انصاف پر ہوں، آنکھیں اور ناک پی ڈی ایم پر ہوں، ایسا ہوا تو معاملہ الجھ جائے گا، دونوں بچے کے دعویدار بنے رہیں گے، آخری حل یہی ہوگا کہ تحریک انصاف اور پی ڈی ایم دونوں کو عدالت میں طلب کرلیا جائے، بچہ نامعلوم افراد کی گودمیں ڈال دیا جائے،پہلے تحریک انصاف سے کہا جائے کہ وہ بچے کو پیار کرے اور اپنی گود میں آنے کا اشارہ کرے، بچہ ان کی طرف آجائے تو ان کا، نہ آئے تو پھر پی ڈی ایم کو موقعہ دیا جائے کہ وہ بچے کو پچکاریں اور بچے کو اپنی گود میں آنے کی ترغیب دیں،

 

بچہ ان کی گود میں آجائے تو بچہ ان کا ہوا، بچہ تحریک انصاف کی طرف نہ جائے اور پی ڈی ایم کی طرف رخ کرنے کی بجائے منہ موڑ کر نامعلوم افراد کے کندھے سے لگ جائے تو پھر سب کو مان لینا چاہیے کہ بچہ نامعلوم افراد کا ہے، پیدائش سے قبل زچہ کی آخری الٹرا سائونڈ رپورٹ کے مطابق بچہ تندرست و توانا ہے، اس کی موومنٹ تسلی بخش ہے، رنگ گورا اور وزن پورا ہے، نین نقش ابھی مکمل طور پرواضح نہیں، لیکن اس کا چہرہ کتابی، بال گھنے جبکہ دراز قد معلوم ہوتا ہے، کہا جاسکتا ہے کہ بچہ مردانہ وجاہت کا بہترین نمونہ ہوگا، اس الٹرا سائونڈ رپورٹ کے بعد سیکنڈ اوپینین کی غرض سے ایک اور بین الاقوامی اہمیت کی لیبارٹری سے ٹیسٹ کرایاگیا تو انہوںنے پہلی رپورٹ میں موجود ہر بات کی تصدیق کی لیکن ایک نکتے کا اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ بچے کے ننھے منے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی سٹک بھی ہے، دوسری رپورٹ میں ایک اضافی نکتے اور ہاتھ میں چھڑی کی بات سامنے آنے پر مزید تحقیق کی گئی اورجناب میاں نوازشریف کی طرف سے ماضی میں ایک اشارے کے حوالے سے خلائی مخلوق سے رابطہ کیاگیا تو اس کے لبوں پر ایک دل فریب مسکراہٹ نظر آئی، سوال جواب کیے گئے تو بس اتنا کہا

خون ِ دل دے کے نکھاریں گے رُخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

گرے لسٹ بے بی کی ولدیت کے ایک دعوے دار سے ملاقات ہوئی، وہ بہت عجلت میں تھے، مختصر گفتگو میں ان سے یہی سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا، یہ میری ہی کارکردگی ہے، میری ان سے چھبیس سال سے شناسائی ہے، میں نے باردگرد پوچھا، باپ بننے کے حوالے سے آپ کا ٹریک ریکارڈ کوئی بہت اچھا نہیں ہے، قریباً بیس برس قبل ہونے والے پہلے عقد کے نتیجے میں آپ دو مرتبہ صاحب اولاد ہوئے،دوسری شادی کے بعد کارکردگی صفر رہی جبکہ تیسری شادی کے بعد بھی اس حوالے سے قوم کو کوئی خوشخبری نہیں ملی، آپ کے دشمن کہتے ہیں آپ اس حوالے کے علاوہ متعدد حوالوں سے بانجھ ہوچکے ہیں، میرے شناسا کا رنگ سرخ ہوگیا، کہنے لگا اس سوال کا میں بہت سخت جواب دے سکتا ہوں لیکن ابھی نہیں، کچھ دنوں بعد دوں گا، میری ان سے مفصل ملاقات اب ان کے آزادی مارچ کے بعد ہوگی، جس کے لیے مناسب سیاسی و جغرافیائی موسم کا انتظارکیا جارہا ہے، اعلان کی راہ میں بڑی رکاوٹ موسم نہیں بلکہ کسی بھی موسم کے زار راہ جمع کرنے کے لیے وسائل کا انتظار ہے، ایک مشکل یہ بھی ہے کہ ماضی کی طرح ایک فون کال پر تمام انتظامات کرنے والے اور تمام خرچے اٹھانے والے اپنی دکان بڑھاگئے ہیں، مارکیٹ میں اتنی مندی ہے، مستقبل اتنا تاریک ہے کہ کوئی نئی دکان کھولنے کو تیار نہیں، سب کا خیال ہے اب ان کے ساتھ کاروبار محبت صدفی صد گھاٹے کا سودا ہے۔

بیٹھے بٹھائے مجھے خیال آیا کہ گرے لسٹ بےبی کی ولدیت کاپتا چلانے کے لیے کچھ مزید دروازے کھٹکھٹائے جائیں، ایک دوست نے مشورہ دیا اتنے تردد کی کیا ضرورت ہے، سیدھے زچہ خانے چلے جائو اور زچگان کے ہسپتال میں داخلے کا اندراج چیک کرلو، دوست کی بات دل کو لگی،زچہ کاریکارڈ چیک کیا تو سامنے لکھا تھا، خلائی مخلوق عرف محکمہ زراعت تخلص خاکی، گویا یہ سب کمال خاکی کا ہے، خاکی کے بارے میں دنیا جانتی ہے، یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے۔ اُس کا رشتہ خاک وطن ہے اور تاقیامت رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button