تازہ ترینخبریںدنیا سے

بھارت میں گستاخانہ بیانات پر احتجاجی مظاہرے، 2 افراد جاں بحق، 130 سے زائد گرفتار

بھارت میں حکمراں جماعت بی جے پی کے رہنماؤں کے گستاخانہ بیانات کے خلاف گزشتہ روز نمازِ جمعہ کے بعد مختلف ریاستوں میں احتجاج کیا گیا جس کے نتیجے میں جھاڑ کھنڈ کے شہر رانچی میں مظاہروں کے دوران 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گستاخانہ بیان پر اتر پردیش کے کم از کم چار شہروں سمیت بج نور، مراد آباد، رام پور اور لکھنؤ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے اور نعرے بازی کی گئی۔

بھارتی پولیس نے رانچی میں مظاہرین پر لاٹھی چارج اور فائرنگ کی،الہ آباد میں بھی گستاخانہ بیانات کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی جس کے بعد مختلف علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دلی کی جامع مسجد کے باہر گزشتہ روز مظاہرے میں شریک نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے مظاہرین کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

رانچی انتظامیہ کے مطابق مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی۔

گزشتہ روز ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد رانچی کے متعدد علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر کے بھارتی فورسز تعینات کردی گئی ہیں جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی آج صبح تک معطل رکھی گئی۔

دوسری جانب پریاگ راج اور سہارنپور میں جاری احتجاج کے دوران دس افراد نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے بعد چھ اضلاع سے 130 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔

پریاگ راج میں مظاہرین نے پولیس وین سمیت موٹرسائیکل اور گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا اس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا گیا۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی) پرشانت کمار کا کہنا ہے کہ ’اترپردیش کے چھ اضلاع سے جمعے کی رات 136 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا جن میں 45 مظاہرین کو سہارنپور، 37 کو پریاگ راج، 23 کو امبیڈکر نگر، 20 کو ہاتھرس، 7 کو مراد آباد جبکہ 4 کو ضلع فروز آباد سے گرفتار کیا گیا۔

اسلام اور نبی کریمﷺ سے متعلق گستاخانہ گفتگو کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بی جے پی کی ترجمان کے گستاخانہ بیان پر بھارت اور اسلامی ممالک میں شدید غم و غصے کا اظہار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button