تازہ ترینخبریںصحتصحت و سائنس

رات کی شفٹ میں کام کرنے والے اپنی کارکردگی کیسے بہتربنائیں؟

ایک حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کے لیے رات کے وقت 20 منٹ کی نیند ضروری ہے۔

تحقیق کےمطابق، اسپتالوں میں رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد اگر 20 منٹ کے لیے سوجائیں تو اس طرح ان کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے جوکہ ان کے زیرِ نگرانی مریضوں کی حفاظت کے لیے بہت ضروری ہے۔

اس تحقیق میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ ڈاکٹرز اور نرسز کو لگاتار تین راتوں تک نائٹ ڈیوٹی نہ کرنے دی جائے کیونکہ اس سے ان کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کی دیکھ بھال اور زندگی پر بھی پڑسکتا ہے اور خود عملے کی کارکردگی بھی بہت متاثر ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر نینسی ریڈفرن جوکہ برطانیہ کے نیو کاسل اسپتال سے وابستہ ہیں، اس حوالے سے کہتی ہیں کہ ڈاکٹرز اور نرسزکی تھکاوٹ اور غنودگی مریضوں کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر رات کی شفٹ میں ڈیوٹی کرنے والی نرسز اور دیگر ڈاکٹرز کو ’پاور نیپ‘ کی صورت میں 20 منٹ سونے کی اجازت دے دی جائے تو وہ توجہ سے کام کرتے ہیں اور خود گاڑی چلاکر خیریت سے گھر بھی پہنچ سکتے ہیں۔

اس تحقیق  کو اٹلی کے شہر میلان میں منعقدہ ایک کانفرنس میں پیش کیا  گیا ہے۔ جہاں تحقیق کو ثابت کرنے کے لیے رائل کالج آف انیستھیٹسٹ سے وابستہ ڈاکٹرز، ماہرین، نرسز اور نوآموز کے تجربات بھی پیش کیے گئے۔

تحقیق کا حصّہ بننے والے افراد نے بتایا کہ ’مسلسل 20 گھنٹے جاگنے کے بعد گھر جاتے ہوئے انہیں چھوٹے یا بڑے حادثے کا سامنا ہوا یا پھر وہ کسی ایسے حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچ گئے۔

اس تحقیق میں سامنے آنے والی خوفناک بات یہ ہے کہ 12 گھنٹے کی ڈیوٹی کے بعد گھر لوٹتے ہوئے نرسز اور ڈاکٹرز کے حادثات کا شکار ہونے کی شرح دوگنی ہوگئی ہے۔

اس کے علاوہ اگر طبی عملے کو 16 سے 18 گھنٹےجگا کر رکھا جائے تو اس سے ان کے مریضوں کی کیفیت جاننے کی صلاحیت بھی بتدریج متاثر ہوسکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے طبی عملے یعنی نرسز اور ڈاکٹرز کی نیند کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button