بلاگ

کم آمدنی کے وسائل اور ناقابل تسخیر دفاع

تحریر: کنول زہرا

 

ملک کو بہترین دفاعی قوت بنانا ہر ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہوتا ہے, خطے کی صورتحال دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی بہت سے خطرات ہیں, جس سے نمٹنے کے لئے ریاست کو بجٹ کی کیثیر رقم مختص کرنی پڑتی ہے, جس کے متعلق بہت سی قیاس آرائیاں ہیں, کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مسلح افواج کا کل بجٹ ستر فیصد ہے جبکہ کچھ اس اعداد و شمار کو 80 فیصد بتاتے ہیں, تاہم حقائق اس کے بر عکس ہیں, موجود حکومت کے  1400 سو ارب روپے دفاعی بجٹ کے حوالے سے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے, جو کہ بجٹ کا 16  حصہ بنتا ہے, اس سولہ فیصد میں سے پاک فوج کو594 بلین روپے یا 44 فیصد ملتے ہیں۔

درحقیقت، پاکستانی فوج کو کل بجٹ کے وسائل کا 7 فیصد حصہ ملتا ہے یہ اعداد جی ڈی پی کے لحاظ سے 1.1 فیصد بنتے ہیں, جس سے ان عناصر کی یکسر نفی ہوتی ہے جو  بے بنیاد جھوٹ پھیلاتے ہیں.

پاکستان کے پاس وسائل کم اور سیکورٹی چیلنجز زیادہ ہیں, الله کے فضل سے اس کے باوجود  پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے اپنے آپ کو اہم دفاعی قوت ثابت کیا. قومی سلامتی, ملک کے وقار, ریاست کے استحکام کی خاطر عظیم ملک کے پر عزم بیٹوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے, پاک فوج نے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں وہ لازوال اقدامات کیے اور کر رہے ہیں جو کم وسائل میں ممکن تو نہیں ہیں تاہم ملک کے دفاع کے لئے بے حد ضروری ہیں

غلط فہمیاں پھیلانے والے عناصر کبھی بھی عوام کو یہ نہیں بتائیں گے کہ گزشتہ پچاس سالوں کے دوران، پاکستان کا دفاعی بجٹ جی ڈی پی کے فیصد کے لحاظ سے پبہت کم ہو گیا ہے.

1970 کی دہائی میں ہمارا جی ڈی پی کے 6.50 فیصد جبکہ  2021 میں 2.54 فیصد پر آ گیا ہے۔ غلط فہمیاں پھیلانے والے عناصر عوام کو کبھی یہ بھی نہیں بتائیں گے کہ پاک فوج نے سال 2019 میں ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے اپنے بجٹ میں مختص 100 ارب روپے بھی ترک کیے تھے۔

ملٹری ایکسپینڈیچر ڈیٹا بیس اور انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کے ملٹری بیلنس کے مطابق پاکستان (2.54 جی ڈی پی) کے مقابلے دفاع پر زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں عمان (جی ڈی پی کا 12 فیصد) لبنان (10.5 فیصد)، سعودی عرب (10.5 فیصد) شامل ہیں۔ 8 فیصد، کویت (7.1 فیصد)، الجزائر (6.7 فیصد)، عراق (5.8 فیصد)، متحدہ عرب امارات (5.6 فیصد)، آذربائیجان (4 فیصد)، مراکش (5.3 فیصد)، اسرائیل (5.2 فیصد)، اردن (4.9 فیصد) )، آرمینیا (4.8 فیصد)، مالی (4.5 فیصد)، قطر 4.4 فیصد، روس 3.9 فیصد، امریکی 3.4 فیصد اور ہندوستان (3.1 فیصد) ہے, ان اعداد و شمار کی روشنی میں  پاکستان کا دفاعی بجٹ دنیا میں سب سے کم ہے۔ پاکستان فی کس کی بنیاد پر 40 ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ اسرائیل 2200 ڈالر فی کس کی بنیاد پر خرچ کرتا ہے۔ الله کی زرہ نوازی ہے کہ گلوبل فائر پاور انڈیکس کے مطابق، دنیا میں سب سے کم دفاعی بجٹ رکھنے کے بعد بھی، پاکستان کی مسلح افواج "دنیا کی 9ویں طاقتور ترین فوج  ہے اگرچہ پاکستان کے پاس دنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے لیکن اس کے اخراجات سب سے کم ہیں

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کی ریسرچ کے مطابق امریکہ 392000 ڈالر فی فوجی خرچ کرتا ہے، سعودی عرب 371000 ڈالر خرچ کرتا ہے، بھارت 42000 ڈالر خرچ کرتا ہے، ایران 23000 ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ پاکستان 12500 ڈالر سالانہ فی فوجی خرچ کرتا ہے۔ ہندوستان کے 76.6 بلین ڈالر کے فوجی اخراجات دنیا میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ اس میں 2020 سے 0.9 فیصد اور 2012 سے 33 فیصد اضافہ کیا گیا۔ ہندوستانی دفاعی بجٹ پاکستان کے دفاعی بجٹ سے 8 گنا زیادہ ہے۔

دفاعی بجٹ کو کم سے کم تک محدود کرنے کے علاوہ، پاک فوج نے سال 2019 میں دفاعی بجٹ کی مختص رقم کو منجمد کرنے کا ایک بے مثال اقدام بھی کیا۔ لیکن اس کے باوجود دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے نئے روایتی ہتھیاروں کو نظام کو بھی شامل کر نے عمل میں کوئی تعطل نہیں آیا, اس دوران بھی بہترین سائبر وارفیئر کی صلاحیتیں، میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی میں تازہ ترین پیش رفت رہیں, اس کے علاہ کم دفاعی وسائل کے باوجود پاکستان آرمی دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشت گردی کی لعنت کو کامیابی سے شکست دی ہے اور اپنے پیشہ ورانہ معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہونے دیا۔

بھارت کا دِفاعی بجٹ پاکستان کی نسبت 6سے7گُنا زیادہ ہے،بھارت صرف نئے اسلحہ کی خریداری کے لیے سالانہ لگ بھگ18سے19بلین ڈالر لگاتا ہے جو کہ پاکستان کے بجٹ سے دوگُنی رقم ہے

2018ءکے بعدکولیشن سپورٹ فنڈ کی بندش کے باوجود دِفاعی اور سیکورٹی کی ضروریات کو ملکی وسائل سے ہی پورا کیا گیا ،ردّالفساد کے اہداف اور دائرہ کار اور دیگر سیکورٹی اُمور میں کوئی کمی نہیں آنے دی گئی۔ ٹِڈی دَل اور کرونا کی وَبا کے خلاف قومی مہم میں پاک فوج نے بھرپور کردار ادا کیا مگر سول انتظامیہ کی معاونت میں ان فرائض کی انجام دہی کے دوران کوئی الاونس نہیں لیا گیا،کرونا وَبا کے خلاف قومی جنگ میں دِفاعی بجٹ سے ہی 2.56ارب روپے صَرف کئے گئے۔لیکن اضافی ڈیمانڈ نہیں کی گئی۔

ٹِڈی دَل کے خلاف مہم میں بھی دِفاعی بجٹ سے ہی297ملین روپے خرچ ہوئے،چیف آف آرمی سٹاف کی ہدایت پر گذشتہ سالوں میں دِفاعی آلات و مصنوعات کی مقامی تیاری (indigenisation)پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ملکی زرِ مبادلہ میں کمی واقع نہ ہو،پاک افواج نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس کی مَد میں سال2019-20 میں 190 ارب روپے سے زائد رقم قومی خزانے میں جمع کرائی،25.8ارب روپے انکم ٹیکس، کسٹم سرچارج اور سیلز ٹیکس کی مَد میں جمع ہوئے،پاک افواج کے رِفاعی اداروں نے 164.239ارب روپے ٹیکس اور ڈیوٹیز کی مَد میں ادا کئے،ان اداروں میں آرمی ویلفئیر ٹرسٹ، فوجی فاونڈیشن، نیشنل لاجسٹکس سیل اور فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن شامل ہیں۔

قومی خزانے پر سب سے بڑا بوجھ دفاع کا نہیں بلکہ غیر ملکی قرضوں  دیگر حکومتی اخراجات کا ہے,  غلط معاشی پالیسیوں کے باعث ملک کو سگنین صورتحال سے نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے, الله پاکستان کو اپنی امان میں رکھے, الہی آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button