ColumnNasir Sherazi

دھرنے کے بعد کیا ہوگا .. ناصر شیرازی

ناصر شیرازی

جو قومیں مفروضوں کے سہارے زندگی گذارنا شروع کردیں، ان کی عمر زیادہ سے زیادہ سو ،سوا سو، سال ہوتی ہے، اس کے بعد وہ تاریخ میں نظر نہیں آتیں۔ آثار قدیمہ میں دریافت ہوتی ہیں، ہم بھی انہی اقوام کے نقش پا پر پائوں رکھتے آگے بڑھ رہے ہیں۔
گھر میں گلی میں شہر میں ایک شخص اپنی بدزبانی، جھوٹ و مکاری، دغا بازی میں ثانی نہیں رکھتا، مشہور کردیا جاتا ہے کہ وہ دل کا بہت اچھا ہے، اب ہر شخص جراحت ِ دل کرنے سے رہا، پس وہ خاموش ہوجاتا ہے اور دل کااچھا، اپنی طاقت اور اپنے حواریوں کے بل بوتے پر اپنے آس پاس ہر شخص کا استحصال کرتا رہتا ہے، اعلیٰ ترین عہدے پر فائز کرپٹ ترین شخص کے بارے میں ایمانداری کی سند جاری کردی جاتی ہے، کوئی واردات سامنے آجائے تو کہا جاتاہے کہ وہ خود تو بہت ایماندار ہے اُس کے وزیراور مشیر کرپٹ ہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر وہ خود ایماندار ہے تو پھر بے ایمانوں کے جم غفیر کیوں پال رکھے ہیں، اُسے ملک بھر میں کوئی ایماندار نہ ملا، یہ سب کچھ ایک جامع منصوبہ بندی سے کیا جاتا ہے، جعلی ایمانداری کے واقعات گھڑ کر ہر موقعے پر پیش کیے جاتے ہیں، جنہیں سننے والے اُسی منصوبے کے تحت سن کر سر دھنستے ہیں۔

یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ ملک اللہ کے نام پر بنا تھا، لہٰذا قیامت تک قائم رہے گا، اسے لوٹنے والے جتنا چاہیں لوٹ لیں یہ کسی نہ کسی طرح چلتا رہے گا، سننے والے احمقوں کی طرح اثبات میں سر ہلاکر اس کی تائید کرتے ہیں یہ نہیں پوچھتے کہ کیا مغربی پاکستان اللہ کے نام پر بنا تھا، مشرقی پاکستان نہیں؟ یہ درست ہے کہ پاکستان اللہ کے نام پر بنا تھا لیکن کہیں وعدہ نہ کیاگیا کہ اُس کے نام پر بنے ملک کو ادھیڑ کر رکھ دوگے تو بھی یہ نہ ٹوٹے گا۔ یہ مفروضہ بھی ان کا ایجاد کردہ ہے، جو نصف صدی سے اس ملک کو لوٹ رہے ہیں، اس کے جسم سے گوشت نوچ چکے ہیں اب اس کی ہڈیوں سے گودا تک نکال لینا چاہتے ہیں لیکن یہ لوگ اُسی صورت کامیاب ہوں گے جب وہ عام آدمی کو ایک سیدھے سادھے آدمی کو یہ باور کرالیں گے کہ اس ملک کو جتنا چاہے لوٹ لو یہ چلتا رہے گا اور قائم رہے گا۔ یہ سب کچھ بھی منصوبہ بندی کے تحت کیا جارہا ہے تاکہ کوئی ان کی لوٹ مار کے آگے بند باندھنے کا نہ سوچے، جو سوچے اُسے اول کوشش میں ساتھ ملالیا جائے، ساتھ چلنے پر راضی نہ ہو تو رشتہ داری میں گانٹھ لیا جائے، غور طلب بات ہے کہ حجاز مقدس کی سرحدیں کتنی وسیع تھیں، لاتعداد پیغمبران خدا وہاںاتارے گئے، بستیاںآباد ہوتی رہیں، اجڑتی رہیں، پھر ابھی کل کی بات ہے، حجاز کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے،
خدا کی محبوب ترین ہستیوں کے وطن آج کس حال میں ہیں کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وہاں کون اور کیسے قابض ہوئے کوئی ابہام نہیں۔ یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے، ہم جو بوئیں گے وہی فصل کاٹنا پڑے گی، اس سے فرار ممکن نہیں۔ ملک لوٹنے والوں نے لوٹ کا مال غیر ممالک کے بینکوں میں بھر دیا ہے، وہ وہاں وسیع جائیدادیں خرید چکے ہیں، ان کی اولادیں غیر ممالک کی شہریت حاصل کرکے اس ملک سے اپنا تعلق توڑ چکی ہیں، کسی کا تھوڑا بہت برقرار ہے بھی تو صرف مزید لوٹ مار کے لیے، جب وہ دیکھیں گے کہ اب یہاں کچھ نہیں بچا تو فقط بریف کیس اٹھاکر ہمیشہ کے لیے رخصت ہوجائیں گے، مفروضوں سے باہر نکل کر زندگی کو حقیقت کی نظر سے دیکھئے تاکہ دوست اور دشمن کی پہچان ہوسکے۔ کئی ہزار ارب ڈالر کے قرض میں جکڑی قوم کو نیا قرض حاصل کرنے کے بعد بتایا جاتا ہے کہ عظیم کامیابی حاصل کی گئی ہے، ہر سال بعد پرانی کہانی نئے انداز میں گلوگیر لہجے اور آنکھوں میں آنسو بھرکے سنائی جاتی ہے کہ ملک کی بقا کی خاطر سخت فیصلے کرنے پڑیں گے، پھر نئے سخت فیصلے صرف ان پر تھوپ دیئے جاتے ہیں جو اپنے لہو کے چراغوں سے دیئے روشن کیے ہوئے ہیں کہ نئی نسل کو ٹھوکروں سے بچاسکیں، طبقہ امراء اور حکمران اشرافیہ کی مراعات کم کرنے کی بجائے دوگنا کردی جاتی ہیں، پٹرول کی قیمت میں ہوش ربا اضافے کے ساتھ ملک کے طول و عرض سے صدائیں بلند ہورہی ہیں کہ ان ہزاروں افراد کو مفت پٹرول دینا بند کیا جائے جولاکھوں کی تنخواہیں اور کئی کئی لاکھ کی پنشن پر پل رہے ہیں، ان کی کروڑوں کی جائیدادیں اوران جائیدادوں کی کثیر آمدن بھی سامنے ہے، ہزاروں افراد کو مفت دی جانے والی بجلی کے لاکھوںیونٹ اب ختم کیے جائیں، اسی طرح سوئی گیس پر ہونے والی ڈکیتی روکی جائے، سرکاری افسران کے غیر ملکی دورے ختم کیے جائیں، ایسے دورے جن کا  حاصل کچھ نہیں، جو صرف خیر سگالی کے نام پر کیے جاتے ہیںلیکن درپردہ ہوتا کچھ اور ہے۔
مشرقی پاکستان کھودینے کے بعد اسی مافیا نے نہایت چابک دستی کے ساتھ کشمیر پر یوں سودے بازی کی کہ کسی کو کانوںکان خبر نہ ہوئی، اب اگلی منزل اسرائیل سے دوستی اور اسے تسلیم کرنا ہے۔ مفروضہ مارکیٹ کردیاگیا ہے کہ جنہیں اسرائیل سے سب سے زیادہ تکلیف تھی انہوںنے اسے تسلیم کرلیا ہے، ہمارا تو اُس سے براہ راست کوئی جھگڑا نہیں،گویا زمین ہموار کی جارہی ہے کہ بغیر اپنی کوئی بات منوائے کوئی شرط رکھے بغیر اُسے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔
کچھ عرصہ بعد یہ کہاجاسکتا ہے کہ ایسا کرنا ملک کے وسیع ترین مفاد ہے، ایسا نہ کیاگیا تو دنیا ہم پر پابندیاں عائد کردے گی، ملکی خزانہ خالی ہے، گذراوقات کے لیے بھی پیچھے کچھ نہیں بچا لہٰذا خون کے آنسو روتے ہوئے اور خون کے گھونٹ پیتے ہوئے یہ فیصلہ کررہے ہیں، اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں لیکن اس کے بدلے میں اپنے وہ تمام قرضے معاف کرالیں جو اس مفلوک الحال قوم پر خرچ ہی نہیں ہوئے بلکہ مختلف ادوار میں انہی اسرائیلی ایجنٹوں اور ان کے دست راست امریکی گماشتوں کے غیر ملکی بینک اکائونٹس میں تواتر کے ساتھ منتقل ہوتے رہے،پاکستانیوں کے ایک وفد نے اسرائیل کا دورہ کیا اس کی اجازت اس دور میں دی گئی جب پاکستان کو ریاست مدینہ بنایا جارہا تھا، بتایاگیا ہے کہ دورے میں کسی این جی او کے نمائندے گئے، شور مچا تو تسلیم کرلیا گیا کہ ان میں سرکاری ٹی وی کا ایک ملازم بھی تھا جس کے ذمے اس دورے کی کوریج تھی، دورہ کامیاب رہا، این جی او سے تعلق رکھنے والوں نے مشن مکمل کرنے پر اعزازت پائے، پی ٹی وی ملازم کونوکری سے برطرف کرکے سارے دھونے دھو دیئے گئے، جنہوں نے یہ وفد بھیجا، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، ان کا تعلق حکومت پاکستان سے تھا یا وہ کسی اور سیارے کی حکومت تھی، وزارت خارجہ گم سم ہے، سب ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے ہیں اور شاید خوش ہورہے ہیں کہ منزل کی طرف قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔
بھارت کے ساتھ پانی کے تنازعے پرگفت وشنید کے لیے جس شخص کو وفد کا سربراہ بنایاگیا ، اس کے بارے مں مبینہ طور پر بتایاگیا کہ اس نے پاکستان کے خلاف ڈرافٹ پررضا مندی ظاہر کی، دستخط کیے اور حق خدمت کینیڈا میں حاصل کیا، وہ کئی برس قبل اہل خانہ سمیت کینیڈا کی شہریت اختیار کرکے وہاں مستقل سکونت اختیار کرچکا ہے، پاکستان کو غیر ملکی قرضوں میں جکڑنے والے کچھ لوگ امریکی شہری بن چکے ہیں، کچھ برطانیہ اور آسٹریلیا میں مقیم ہیں، کچھ کی منزل اب اسرائیل ہوگی، خدشہ ہے سب کچھ ارزاں نرخوں پر نہ طے پا جائے۔
تازہ ترین مفروضہ یہ ہے کہ اسلام آباد فتح کرنے کے لیے چڑھائی کرنے والوں کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ تو تھا لیکن تیاری ابھی بھی نامکمل قرار دی گئی ہے اور عندیہ دیا گیا ہے کہ اب بھرپور تیاری کے ساتھ پھر حملہ آور ہوں گے اور دھرنا دیں گے، اہم سوال یہ ہے کہ اگر دھرنا ہوبھی گیا تو دھرنے کے بعد کیا ہوگا، میرا خیال ہے دھرنے کے بعد وہی ہوگا جو مرنے کے بعد ہوتا ہے، منکر نکیر آئیں گے، سوال جواب ہوں گے، پھر سزاو جزا کے مراحل ہوں گے، عین ممکن ہے میچ ملتوی کرنے کے عادی جہاد ملتوی کرنے کا اعلان کردیں کہ نازک اندام گرم موسم میں جہاد نہیں کرسکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button