تازہ ترینتحریکخبریں

حقیقی آزادی کارواں تمام رکاوٹیں عبور کرتا اسلام آباد پہنچ گیا

اسلام آباد (ہارون کمال راجہ سے)سابق وزیر اعظم عمران کی قیادت میں کے پی کے  سے پی ٹی آئی کا چلنے والا حقیقی آزادی مارچ کاررواں تمام رکاوٹیں عبور کرتا رات گئے اسلام آباد پہنچ گیا ۔

نظام زندگی معطل، دن بھر شہر اقتدار میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔جگہ جگہ جھڑپیں، شیلنگ،
پتھرائو، درجنوں گرفتار،پانچ پولیس، سات رینجرز اور ایک فائر بریگیڈ کا اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس کے پاس آنسو گیس کے شیل ختم،نئی کھیپ منگوانا
پڑی۔

پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین نے وفاقی دالحکومت میں دفعہ 144ہوا میں اڑا دیا۔سابق وزیر اعظم عمران کی قیادت میں کے پی کے سے پی ٹی آئی کے چلنے والے آزادی مارچ کے بڑے قافلے کے اسلام آباد میں داخلے سے قبل ہی پی ٹی آئی رہنمائووں و کارکنان کی بڑی تعداد ڈی چوک پہنچ گئی۔

ریلیوں کا آغاز بدھ کی صبح دس بجے کے قریب شروع ہوا تاہم پہلا قافلہ شام چھ بجے کے قریب بلیو ایریا شاہراہ دستور پر پہنچنے میں کامیاب ہوا جس کے بعد قافلے اس میں شامل ہوتے گئے۔

اس سے قبل سری نگر ہائی وے،فیض آباد ،اسلام آباد
ایکسپریس وے ،راول ڈیم چوک بھارہ کہو،جی نائن سمیت شہر اقتدار میں داخل ہونے ولے مظاہرین اور پولیس کے درمیان گھمسان کا رن پڑتا رہا اور وقفے
وقفے سے پتھرائو اور شیلنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ فیض آباد کے قریب تین اطراف سے پولیس کی آنسو گیس شیلنگ جاتی رہی۔ تحریک انصاف کی خواتین ورکر نے ڈی چوک میں لیڈی کانسٹیبل کی طرف سے روکے جانے پر گاڑی لیڈی کانسٹیبل پر گاڑی چڑھا دی تاہم وہ محفوظ رہی۔

پولیس کی جانب سے سری نگر ہائی وے پر بھی بار پھر شیلنگ کی جاتی رہی۔فیض آباد کے قریب آنسو گیس کاشیل گاڑی کے اندر گر گیاجس سے سابق ایم این اے راجہ خرم نواز اور صداقت عباسی کی حالت
غیر ہو گئی جنھیں فوری طبی امداد دی گئی۔ شیل لگنے سے گاڑی کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔اسلام آباد کے تمام داخلی وخارجی راستے ،تعلیمی ادارے ،میٹرو بس سروس بند اور تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ رہی۔ امن و امان کی
صورتحال برقرار رکھنے کے لئے 22 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے تھے ۔اسلام آباد میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کی سینٹرل پولیس آفس میں قائم کنٹرول روم سے براہ راست مانیٹرنگ کی جاتی رہی۔بلیو ایریا میں مظاہرین کی طرف سے لگائی گئی آگ بجھانے کیلئے جانے والی فائر بریگیڈ کی گاڑیوں پر پتھرائو سے دو گاڑیوں کے شیشے گئے ،ایک فائر بریگیڈ کا اہلکار بھی زخمی ہوا ۔زخمی اہلکاروں کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان شیلنگ اور پتھرا سے چھ پولیس اہلکار اور سات رینجرز اہلکار بھی زخمی ہو گئے جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔دوسری طرف اسلام آباد ریڈ زون میں موجود تحریک انصاف کے کارکنان کو نکالنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے
ادارے رات گئے آپریشن کی تیاری کررہے تھے۔آئی جی اسلام آباد نے شہر کے انٹری پوائنٹس پرتعینات نفری کو ریڈزون ایریا میں واپس بلالی جبکہ ریڈزون
کے اندر رینجرز تعینات کردی گئی اور بیک اپ پررکھی گئی فورس کو بھی بلالیا گیا۔حکام نے بھارہ کہو، ترنول، سہالہ سے نفری ریڈزون منگوالی گئیں
جس میں پنجاب پولیس، سی ٹی ڈی، ایف سی اور وفاقی پولیس شامل ہیں۔آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان کا کہنا ہے کہ ریڈ زون میں کسی کو آنے کی ہرگز اجازت نہیں،اگر کسی نے ریڈ زون کے قریب آنے کی کوشش کی تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔آئی جی پولیس کا کہنا ہے کہ ریڈزون کے علاوہ دیگر مقامات پر افسران کو ہدایات کی گئی ہیں کہ قوت کا استعمال نہ کریں،

ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے مظاہرین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور پولیس پر پتھراو اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔عمران خان کی قیادت میں نکلنے والا مرکزی کاررواں رات سوا بارہ بجے کے قریب اسلام آباد موٹر وے ٹول پلازہ سے داخل ہواتو اس وقت ڈی چوک میں موجود مظاہرین کو وہاں سے نکالنے کیلئے شدید شیلنگ شروع کر دی گئی اس دوران درجنوں مطاہرین بے ہوش ہو گئے جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button