تازہ ترینخبریںپاکستان سے

اوورسیز پاکستانی ایک پیسہ بھی نہ بھجوائیں تو بھی وہ پاکستانی ہیں، عدالت

 اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ دینے کے حوالے سے درخواست کی سماعت کے موقع پر جج نے ریمارکس دیئے کہ اوورسیز پاکستانی ایک پیسہ بھی نہ بھجوائیں تو بھی وہ پاکستانی ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ دینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی عدالت نے ووٹنگ کے معاملے پر پیش رفت نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے شہری منیر احمد کی درخواست پر سماعت کی درخواست میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہ دینے کا اقدام چیلنج کیا گیا تھا۔

دوران سماعت الیکشن کمیشن کے سیکرٹری عمر امین کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا عدالت نے قرار دیا کہ عدالتی حکم نظرانداز کرنے پر کیوں نہ سیکرٹری الیکشن کمیشن پر ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے اور اس جرمانے کی رقم سیکرٹری الیکشن کمیشن اپنی تںخواہ سے ادا کریں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اگر ایک پیسہ بھی نہ وطن نہ بھجوائیں تو بھی وہ پاکستانی ہی ہیں، اگر حکومت انہیں ووٹ کا حق نہیں دینا چاہتی تو واضح کرے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ امریکہ اور جاپان میں بیٹھے پاکستانیوں کو اندازہ ہونا چاہئیے کہ حکومت ان کے ساتھ کیا کرنا چاہتی ہے؟ عدالت میں نادرا حکام نے جواب جمع کروایا جس میں کہا گیا ہے کہ ایک سال کی مہلت فراہم کی جائے نادار حکام کے وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن اور نادرا کے مابین معاہدہ ہونا باقی ہے۔

جس عدالت نے استفسار کیا کہ وہ معاہدہ کب ہوگا جس پر بتایا گیا کہ اس کے لیے 2.4 ملین فنڈز کی ضرورت ہے سرکاری وکیل نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں الیکشن کمیشن کو بجٹ جاری کیا جائے گا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہر سماعت پر کوئی پیش رفت نہیں ہورہی سب ادارے ایک دوسرے پر معاملہ ڈال رہے ہیں اس پر کمیٹی تشکیل دیتے ہیں عدالت نے سماعت مزید14 جون تک ملتوی کردی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button