تازہ ترینخبریںٹیکنالوجی

روس یوکرین تنازع کو پہلی "ہائبرڈجنگ” کیوں کہا جارہا ہے؟ ہولناک انکشاف

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکرو سافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ نے روس یوکرین تنازع کو دنیا کی پہلی ’ ہائبرڈ جنگ ‘ قرار دے دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق لندن میں مائیکرو سافٹ انویژن ایونٹ سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پہلے جنگوں کی ابتدا زمینی، فضائی اور بحری حملوں سے ہوا کرتی تھی، تاہم اب ہم اس کی نئی اور چوتھی قسم ’ سائبر‘ میں داخل ہوچکے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین پر حملے سے قبل ہی سائبر حملے شروع کردیئے گئے تھے، یہ سائبرحملے جنگوں کی نئی قسم کے شروعات کی علامت ہیں۔

مائیکروسافٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کی شروعات سے ایک ہفتے قبل تک یوکرینی حکومت مکمل طور پر آن پریمس ( ایسے سافٹ ویئرکسی کلاؤڈ یا سرور کے بجائے جو کسی فرد یا ادارے کے کمپیوٹر یا اسی جگہ پرچلتےہیں) چل رہی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جارحیت بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر مائیکروسافٹ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے کچھ ہی دنوں میں سترہ میں سے سولہ سرکاری اداروں اور اہم یوکرینی کمپنیوں کو کلاؤڈ پر منتقل کیا یوکرین کے باہر پورے یورپ میں موجود ان ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کے لیے مائیکرو سافٹ نے بارہ ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی۔

اسمتھ کا کہنا تھا کہ اس ہائبرڈ جنگ سے تحفظ کے لیے ہماری تین ذمے داریاں ہیں، مستحکم حکومت، قوم کادفاع اورلوگوں کا تحفظ۔

بریڈ اسمتھ کا مزید کہنا تھا کہ ’ جنگ کے موقع ہر اپنے ملک کا تحفظ کرنے کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ اس کے ڈیجیٹل اثاثوں کو محفوظ بنایا جائے، کیوں کہ آپ اس وقت سب سے زیادہ محفوظ ہوتے ہیں جب لوگوں کو نہیں پتا ہوتا کہ آپ کا ڈیٹا کہاں ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button