تازہ ترینجرم کہانیخبریں

منی لانڈرنگ کیس، شہباز اور حمزہ اسپیشل کورٹ سینٹرل پہنچ گئے

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے لیے لاہور کی اسپیشل کورٹ سینٹرل پہنچ گئے۔

عدالت نے فرد جرم کے لیے شہباز شریف، حمزہ شہباز سمیت تمام ملزمان کو طلب کر رکھا ہے۔

لاہور کی اسپیشل کورٹ سینٹرل میں منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔

اسپیشل پراسیکیوٹر نے سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں 3 ملزمان اشتہاری ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے، سلمان شہباز، مقصود اور طاہر نقوی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کی جائے، جس پر جج اعجاز حسن اعوان نے کہا کہ یہ ملزمان تو مجسٹریٹ کی عدالت سے اشتہاری ہو چکے ہیں۔

اسپیشل پراسیکیوٹر نے یہ بھی کہا کہ یہ درخواست ریکارڈ پر آ گئی ہے، عدالت مناسب حکم جاری کر دے۔

سماعت شروع ہونے سے قبل اسپیشل کورٹ کے جج اعجاز حسن اعوان نے کہا کہ میں جب اندر آ رہا تھا تو دیکھا کس طرح سیکیورٹی اہلکار گلے پڑے ہوئے ہیں، اگر یہ سیکیورٹی ہے تو اللّٰہ ہی حافظ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں گاڑی میں بیٹھا تھا سیکیورٹی والے میری گارڈ کے گلے پڑگئے، وکلا اور ملزموں کو اندر نہیں آنے دیا جا رہا۔

پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے کہا کہ ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوا، میرا راستہ بھی روکا گیا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عدالت کا وقار ہے اس لئے آیا ہوں کہ قانون کی حکمرانی ہو، میں نے کہا کسی کو نہ روکا جائے۔

عدالت نے ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو طلب کر لیا جس پر عدالتی اہلکار نے کہا کہ عدالت کا پیغام دونوں پولیس افسران کو دیا ہے لیکن وہ اندر آنے کو تیار نہیں۔

جج اعجاز حسن اعوان نے کہا کہ پولیس والوں کے یہ حالات ہیں، عدالت کا حکم نہیں مان رہے۔

دوسری جانب صحافیوں کو عدالت کے اندر جانے سے روکنے پر عطا تارڑ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو عدالت کے اندر جانے سے روکنا سازش لگ رہی ہے۔

عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ صحافیوں کوعدالت کے اندر جانے سے روکنا ہمارا کیس خراب کرنے کی کوشش ہے ، ہم نے مشکل سے مشکل وقت میں بھی کوریج کرائی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button