ColumnHabib Ullah Qamar

دہلی کی تاریخی شاہی مسجد انتہاپسندوں کا نیا نشانہ … حبیب اللہ قمر

حبیب اللہ قمر

بھارت میں مودی سرکار کی سرپرستی میں ہندو انتہاپسندوں کے مساجد کے خلاف نت نئے دعوئوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ہندوستان کے سادہ مسلمان سمجھتے تھے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے بعد مسجداور مندر کی سیاست والا معاملہ شاید ختم ہو جائے گا لیکن انتہاپسند ہندوئوںنے اسی وقت یہ نعرہ لگا دیا تھا کہ ایودھیا تو صرف جھانکی ہے، کاشی متھرا باقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد ہندو انتہاپسندوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں اور انہوںنے اعلانیہ طو ر پر وارانسی کی گیان واپی مسجد اورمتھرا کی شاہی عید گاہ مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کی تحریک شروع کر رکھی ہے۔سابق وزیراعظم نرسیما رائو کے دور حکومت میںبابری مسجد جیسے تنازعات روکنے کے لیے قانون بنایا گیا، جس میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ ہندوستان میں پندرہ اگست 1947 تک جو عبادت گاہ جس حالت میں تھی وہ اسی حالت میں برقرار رہے گی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ جس وقت یہ قانون بنایا گیا اس وقت بابری مسجد کا تنازعہ اپنے عروج پراورعدالت میں زیرسماعت تھا ، اس لیے اس میں بابری مسجد کو شامل نہیں کیا گیا تھا ۔

عبادت گاہوں کے تحفظ سے متعلق یہ قانون پاس ہونے کے بعد مسلمانوں کو امید ہوئی کہ ہندوستان بھر میں قائم تاریخی مساجد محفوظ ہو جائیں گی اور وشواہندو پریشد، آر ایس ایس اور بی جے پی جیسی انتہاپسند تنظیمیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گی لیکن ہندوستانی حکومت اور عدالتوں کی طرف سے ان معاملات میں ہند و انتہاپسندوں کی واضح سرپرستی کیے جانے کے بعد انہوںنے بھارت میں دوسری تاریخی مساجد پر بھی ماضی میں وہاں مندر ہونے کے دعوے شروع کر کے پورے ہندوستان میں پرتشدد تحریک چلارکھی ہے۔ نوے کی دہائی میں جب وشواہندو پریشد نے بابری مسجد کے خلاف مہم چلائی تو تین ہزار سے زائد مساجد کی فہرست پیش کرکے ہرزہ سرائی کی گئی کہ یہ تمام مساجد مسلمانوںنے مندر توڑ کر بنائی ہیں۔ ہندو انتہا پسند تب سے تاریخی مساجد کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کر کے ہندوئوں کو اشتعال دلانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں تاہم جب سے بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے مسلمانوں کی مساجدومدارس اور دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کے خلاف گھنائونے اقدامات میں بہت زیادہ تیزی آئی ہے اور ہندوانتہاپسندوں کی جانب سے رام مندر کی تعمیر شروع کرنے کے بعد وارانسی کی گیان واپی اور متھراکی شاہی عیدگاہ مسجد کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلا کر بابری مسجد کی شہادت جیسی تاریخ دہرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ابھی حال ہی میں تاریخی گیان واپی مسجد کے حوالے سے ہندوئوںنے دعویٰ کیا کہ اس کے وضوخانہ سے شیولنگ برآمد ہوا ہے۔ انتہا پسندوں نے اس ہرزہ سرائی کے بعد مقامی عدالت میں رٹ پٹیشن دائر کی جس پر عدالت نے مسجد کے وضوخانہ کو سیل کرنے کا حکم جاری کردیا۔مقامی مسلمانوں سے جب شیولنگ سے متعلق سوال کیاگیا توانہوںنے اس
جھوٹے پروپیگنڈا کا رد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مسجد میں موجود پرانا فوارہ ہے جس کا کچھ حصہ ٹوٹ چکا ہے ۔ اس فوارے میں پانی والا سوراخ بھی صاف دیکھا جاسکتا ہے لیکن ہندو انتہا پسندوںنے شیولنگ برآمد ہونے کا شوشہ چھوڑکر فساد پھیلانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ مغلوں نے یہ مسجد مبینہ طور پر مندر توڑ کربنائی تھی۔ اسی طرح ہندو انتہا پسندوں نے متھراکی شاہی عیدگاہ مسجد کو بھی سیل کرنے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے اور دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اگر ہندوئوں کی باقیات کو تباہ کر دیا جاتا ہے تو جائیداد کا کردار بدل جائے گا، اس لیے عدالت فوری طور پر شاہی عید گاہ مسجد میں ہر قسم کی نقل و حرکت پر پابندی لگائے یا مسجد کے احاطہ کو سیل کر دیا جائے۔ عدالت میں دائراس درخواست سے صاف پتا چلتا ہے کہ ہندوانتہاپسند بھارتی عدالتوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور حکومتی سرپرستی حاصل ہونے کے سبب عدالتیں بھی ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔ ہندوانتہاپسندوں کی جانب سے تاج محل اور قطب مینار میں بھی ماضی میں مندر ہونے کی مضحکہ خیز باتیں کی جارہی ہیں لیکن حالیہ دنوں میں دہلی کی تاریخی شاہی مسجد کے نیچے بھی ہندو دیوی اور دیوتائوں کی مورتیاں ہونے کا دعویٰ کردیا گیا ہے جس سے یہ چیز واضح ہے کہ بھارت کی بی جے پی سرکار نے مسجد، مندر تنازعہ کوملک گیر سطح پر پروان چڑھاکر آنے والے انتخابات کی ابھی سے تیاریاں تیز کر دی ہیں۔
دہلی کی شاہی مسجد بھارت میں مسلمانوں کا عظیم مرکز ہے اور اس کا شمار مغل بادشاہوں کی طرف سے تعمیر کی گئی تاریخی مساجد میں ہوتا ہے۔ جامع مسجد دہلی کی تعمیر مغل بادشاہ شاہجہاں نے 1650 میں شروع
کروائی جسے چھ سال کی زبردست محنت کے بعدمکمل کیا گیا۔ مسجد کی تعمیر لال پتھر اور سنگ مرمر سے کی گئی۔ لال قلعہ سے اس کا فاصلہ قریباً پانچ سو میٹر ہے۔ مسجد کا صحن اور نماز ادا کرنے کی جگہ انتہائی خوب صورت ہے۔ اس میں گیارہ محرابیں اور درمیانی محراب سب سے بڑی ہے۔ اوپروالے گنبد کو سفید اور سیاہ سنگ مرمر سے سجایا گیا ہے اور اِس کی تعمیر میں دنیا بھر کے نامور اور اعلیٰ ترین ماہر تعمیرات، سنگ تراش انجینئرز، بہترین خطاطوں اور نقاش سمیت چھ ہزار سے زائد مزدوروں نے حصہ لیا۔ کہا جاتاہے کہ اس زمانے میں مستری کو دو پیسے یومیہ اور مزدورکو ایک پیسہ مزدوری ملتی تھی یوں اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر پر اُس دور میں لاکھوں روپے کے اخراجات آئے ۔ مسجد کی تعمیر کے لیے پتھر اور دیگر تعمیراتی سامان بادشاہ کو اس زمانے کے نوابوں اور امراء کی جانب سے ہدیۃ کے طور پر دیا گیا، اس لیے اس لاگت میں قیمتی پتھروں اور دوسرے سامان کی قیمت کو شامل نہیں کیا جاتا۔دہلی کی تاریخی شاہی مسجدہمیشہ سے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے بہت زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہے لیکن بابری مسجد کی شہادت کے بعد دوسری مساجد کی طرح ہندوانتہا پسندوںنے اس تاریخی شاہی مسجد کو بھی اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے اور انتہاپسند تنظیم ہندو مہا سبھا کی جانب سے ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ امیت شاہ کو خط لکھا گیا ہے کہ اس مسجد کے نیچے ہندو دیوی دیوتائوں کی مورتیاں موجود ہیں، اس لیے یہاں کھدائی کی اجازت دی جائے ۔یہ خط انتہاپسند لیڈر سوامی چکر پانی کی طرف سے لکھا گیا جو اس سے پہلے بھی اس طرح کی قبیح حرکتیں کرنے میں بدنام ہیں، یہی سوامی چکر پانی کچھ عرصہ قبل دہلی کا نام تبدیل کر کے اس کا نام ’’اندر پرستھ‘‘ رکھنے کا بھی مطالبہ کر چکا ہے۔
ہندوانتہاپسندوں کی جانب سے دہلی کی شاہی مسجد کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بھارتی مسلمانوں میں تشویش کی سخت لہر دوڑ گئی ہے اور مسلم تنظیموں اور علماء کرام نے ہندوئوںکے ان باطل دعوئوں کی شدید مذمت کی ہے۔ بی جے پی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی مہم سے سیاسی طور پر بہت فائدے اٹھائے ہیں۔ اب جبکہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر شروع ہونے سے یہ والا موضوع دم توڑ چکا ہے، تو ہندوانتہاپسند لیڈروں اور نام نہاد سیاسی ماہرین نے ایک اور بڑا موضوع تلاش کر لیا ہے تاکہ عام ہندوئوں کے جذبات بھڑکا کر مستقبل میں سیاسی فائدے سمیٹے جاسکیں۔ بھارت کے تمام بڑے شہروں میں اس وقت مسجد، مندر تنازعہ کو ہوا دی جارہی ہے اور ان معاملات کو ہندوستانی عدالتوں میں لے جا کر اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جارہے ہیں۔ یہ صورت حال ہندوستانی مسلمانوں کے لیے خاص طور پر پریشانی اور تشویش کا باعث بن رہی ہے کیوں کہ جب عدالتوں سے فیصلے آتے ہیں تو پھر مسلمانوں کو زبردستی خاموش کروانے کیلئے حکومت کو بھی ایک بہانہ مل جاتا ہے۔ بھارت میں انتہاپسند ہندو جس تیزی سے مساجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کاگھنائونا کھیل کھیل رہے ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کو متحد ہوکر اس کے آگے بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ مساجد اللہ کا گھر ہیں اور جس جگہ پر مسجد تعمیر ہو جاتی ہے، اس کی جگہ پھر کوئی اور چیز تعمیر نہیں ہو سکتی۔بھارتی مسلمانوں کوانتہاپسندوں کی سازشیں سمجھتے ہوئے اپنی آنکھیں ہمہ وقت کھلی رکھناہوں گی اور باہم اتحادویکجہتی کا ماحول پیدا کرنا ہوگا۔ جب تک ہندوستانی مسلمان ایک مضبوط قوت بن کر ہندو انتہا پسندوں کے مقابلہ کیلئے تیار نہیں ہوں گے مساجد و مدارس کیخلاف ان کی سازشیں دن بدن بڑھتی جائیں گی۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر جیسے سانحات روکنے کیلئے ہندوستانی مسلمان خود کو قربانیوں و شہادتوں کیلئے تیار کریں گے تو پھر ہی انتہاپسندوں کی جارحیت کے آگے بند باندھا جاسکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button