Columnعبدالرشید مرزا

موروثی سیاست اور تاریک مستقبل … عبدالرشید مرزا

عبدالرشید مرزا

حکومت، بادشاہت ہویا سرداری کا نشہ کسی ایک نسل میں گھر کر جائے تو آنے والی نسلوں تک چلتا ہے۔ اس طرح جو بھی حکمران ہوا، اس نے حکمرانی کو اپنے خاندان کی میراث سمجھا، فرعون، نمرود، شداد کے قصے تو مشہور ہیں۔ طاقت کے حصول کی فکر انسانی سرشت میں ازل سے شامل ہے۔ کہتے ہیں کہ بڑوں کی موت بعض اوقات چھوٹوں کو بہت بڑا بنا دیتی ہے۔ پاکستان میں بھی کئی سیاسی خاندانوں کی حکمرانی ہے،کچھ خاندان سیاسی منظر سے غائب اور کچھ نئے خاندان سیاست میں داخل ہوگئے، چنگیز خان نے 1227میں مرنے سے پہلے اوغدائی خان کو اپنا جانشین مقرر کیا، ساتھ ہی اس نے اپنی سلطنت کو اپنے بیٹوں اور پوتوں میں تقسیم کردیا۔ چنگیز خان کو منگولیا کے کسی نامعلوم مقام پر دفنایا گیا۔

اس کی اولادوں نے سلطنت کو وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھا اور موجودہ دور کاچین، کوریا، قفقاز، وسطی ایشیائی ممالک سمیت مشرق وسطیٰ اور مشرقی یورپ کے خطے بھی خان سلطنت کے زیرنگیں رہ چکے ہیں۔
جس طرح دنیا کے مختلف خطوں میں خاندانوں نے حکومت کی اسی طرح پاکستان میں سیاست ہمیشہ سے موروثیت کا شکار رہی ہے۔ باپ کے بعد بیٹا، بھائی، بہن، چچا، بھتیجا ہی خاندانی سیاست کو لے کر آگے بڑھتے ہیں۔ زیادہ تر خاندانی سیاست میں بیٹوں کا زیادہ حصہ ہے۔ اس کے بعد قریبی رشتہ داروں کا نمبر آتا ہے، پھر بھتیجوں کا اور سب سے کم دامادوں کا حصہ ہے۔
بیٹیوں کا حصہ شاذ و نادر نظر آتا ہے۔ ورکرز اور پارٹی ممبر قومی اور صوبائی اسمبلی کو صرف پارٹی قائدین کی اندھی تقلید کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ مسلم لیگ نواز شریف خاندان، پیپلز پارٹی بھٹو خاندان، عوامی نیشنل پارٹی ولی باغ، مسلم لیگ قاف کی سربراہی چودھری برادران سے کسی دوسرے کو منتقل نہیں ہورہی اور جمعیت علما اسلام کی سربراہی مولانا فضل الرحمان چھوڑنے کو تیار نہیں۔ مجموعی طور پر یہ موروثی یا خاندانی سیاست دان2018 کے انتخابات تک قومی اسمبلی کا پچاس فیصد رہے ہیں۔ چودھری نثار علی خان نے اس لیے مسلم لیگ نوازکے ساتھ رفاقت ختم کر دی کہ اگر نواز شریف کی بیٹی مریم اور شہباز شریف کے بیٹے حمزہ نے ہی اگر قیادت کرنی ہے تو ہمارا یہاں کیا کام ہے
افسوس کہ کچھ اس کے سوا ہم نہیں سمجھے
دیکھے ہیں علاقے کی سیاست کے جو تیور
جمہوریت اک طرز حکومت ہے جس میں
والد کی جگہ لینے کو آجاتی ہے دختر
انور مسعود
بلوچستان میں سیاست کا محور قبائلی یا خاندانی وفاداریاں ہیں اور سیاسی جماعتیں نام کی حد تک وجود رکھتی ہیں۔ اچکزئی، بزنجو، رئیسانی، مری، مینگل، بگٹی،
زہری، کسی کا نام لیں تو ان سارے خاندانوں کی سیاسی نظام پر اجارہ داری اپنے اپنے قبائلی یا نسلی خطوں میں برقرار ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کسی زمانے میں موروثی سیاست سے نکل رہی تھی لیکن اے این پی کی قیادت بھی ولی باغ تک محدود ہوگئی ہے۔ اسفند یار ولی خان کے بیٹے ایمل ولی صوبائی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں۔ پنجاب کے بڑے سیاسی خاندان بشمول نواز شریف، چودھری نذیر آف گجرات، ٹوانے، قریشی، گیلانی، جنوبی پنجاب کے مخدوم اور اقتدار میں رہنے والے جرنیلوں کے بچے، نہ صرف قومی اسمبلی میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھتے ہیں بلکہ صوبائی اسمبلیاں بھی براہ راست ان ہی کے خاندان کے افراد یا ان سے وابستہ لوگوں کے حصے میں آتی ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق خاندانی سیاست جاگیرداروں کے طبقے تک محدود نہیں بلکہ سیاست میں آنے والے صنعت کاروں اور کاروباری طبقے بھی اپنے وارث سیاست میں لیکر آئے اور اس طرح انہوں نے موروثی سیاست کی روایت کو جلا بخشی۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں امیدواروں کے لیے گریجویٹ ہونے کی شرط تو رکھی تھی مگر جب انہوں نے جوڑ توڑ کی سیاست کی تو سیاسی خاندانوں کے گریجویٹ چشم و چراغ پھر سے اسمبلیوں میں پہنچ گئے۔اسی وجہ سے ہر سیاسی جماعت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ الیکٹ ایبلز امیدوار ڈھونڈے اور اس طرح نئی جماعت بھی موروثی سیاست سے بچ نہیں پاتی ۔
ایک عجیب بات
ہے کہ جنرل ضیاء کے غیر جماعتی انتخابات میں نئے امیدوار انتخابات میں آئے مگر انہی میں سے چند ایک نے اپنی نئی خاندانی سیاسی اجارہ داریاں قائم کرلیں۔ جرنیلوں کے بچوں نے انتخابات لڑ کر اپنی اجارہ داریاں بنانے کی کوششیں کی ہیں۔یعنی فوجی حکمرانوں نے موروثی قیادت کو کمزور نہیں کیا بلکہ اس کا حصہ بنی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قوانین اور پولیٹیکل ایکٹ کے تحت ہر سیاسی جماعت انٹرا پارٹی انتخابات کی پابند ہے لیکن خانہ پُری کےلیے انتخابات کا ڈھونگ رچا کر پارٹی قیادت خاندان سے باہر نہیں نکلتی۔ایک جانب پارٹی کی قیادت چند مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتی رہی تو انتخابات میں ٹکٹ بھی خان، وڈیروں اور نوابوں میں تقسیم کردیے جاتے ہیں۔ سینیٹ میں ٹکٹ لینا اب کروڑ پتی سے ارب تک بات پہنچ گئی ہے۔ ذیادہ قیمت ادا کرنے والا ہی سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔جب تک تحریک انصاف اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچی تھی تحریک انصاف بھی موروثی سیاست سے پاک تھی لیکن اقتدار میں آنے کے بعد تحریک انصاف میں بھی ان لوگوں کو غلبہ رہا، جو ہر دور میں فٹ ہوجاتے ہیںاور یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ ذندہ باد، مردہ باد کا نعرہ لگانے والے ورکرز پیچھے رہ گئے اور وہی روایتی سیاستدان ایوانوں میں پہنچ گئے۔ جس کا نتیجہ نکمے سیاستدانوں سے یہ نکلا ملک معاشی تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، اس لیے ایسے امیر کارواں کو بدل دینا ہی بہتر ہے۔
لاہور کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اینڈ اکنامک آلٹرنیٹوز کے ریسرچرز نے پاکستان کی موروثی سیاست کا موازنہ چند دوسرے ممالک سے کیا تو سامنے آیاکہ امریکی کانگریس میں1996 میں موروثی سیاست کا حصہ قریباً 6 فیصد تھا، بھارتی لوک سبھا میں 2010 تک 28 فیصد جبکہ پاکستان کی قومی اور پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں موروثی سیاست دانوں کا حصہ 53 فیصد تھا۔ جمہوری معاشرے کیلئے موروثی سیاست کی یہ شرح ناقابل قبول ہے۔ موروثی یا خاندانی سیاست کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلی تین دہائیوں سے پنجاب کے قریباً4سو خاندان مسلسل ایسی پالیسیاں بناتے اور قانون سازیاں کرتے چلے آرہے ہیں جن کی وجہ سے قومی وسائل اور نجی شعبوں میں ان کی طاقت بڑھتی چلی جا رہی ہے اور 1985کے انتخابات سے2018 کے انتخابات تک ہر انتخابی حلقے میں پہلے تین امیدواروں کی مجموعی دو تہائی تعداد موروثی یا خاندانی سیاست سے تعلق رکھتی ہے اور تاحال یہ حالات بدلے نہیں۔ نئی نسل آگئی ہے لیکن کرپشن آباؤ اجداد کی طرح جاری ہے۔
موروثی سیاست میں مریم نواز شریف، حمزہ شہباز شریف ہوں یا بلاول بھٹو صلاحیت کو دیکھا جائے تو کم صلاحیتوں کے مالک ہیں البتہ ان کی پارٹیز میں احسن اقبال، سعد رفیق، اعتزاز احسن، یوسف رضا گیلانی، رضا ربانی ان سے بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں لیکن انہیں بھی غلامی میں ذندگی گزارنے میں سکون محسوس ہوتا ہے ورنہ انہیں پتا ہے اگر اپنی مرضی سے سوچنا شروع کریں گے تو چودھری نثار جیسا انجام ہوگا کیونکہ موروثی سیاست میں ہمیشہ صلاحیتوں کی موت واقعہ ہوتی رہی ہے اور وطن عزیز ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہو سکا۔اس لیے مورثی سیاست میں پاکستان کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button