Editorial

درآمدی اشیا پر پابندی کا صائب فیصلہ

وفاقی حکومت نے جولائی سے اپریل تک ملک کو39ارب 20کروڑ ڈالر کے تجارتی خسارہ کے باعث درآمدات کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گاڑیوں،کھانے پینے کے آئٹمز، سامان تزئین اور آرائش سمیت لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی یا ان پر ڈیوٹی ریٹس میں اضافہ کر کے مزید مہنگا کرنے کے بارے میں تجاویز تیار کر لی گئی ہیں اور وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے اس فیصلے کی اصولی منطوری دے دی ہے ای سی سی اور کابینہ سے باضابطہ منظوری کے بعد نوٹیفکیشن کا اجراء جلد کر دیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سپر سٹورز پر فروخت کے لیے درآمد کی جانے والی اشیاء مثلاً کتے اور بلیوں کی خوراک، چیز، مکھن اور دیگر اشیاء شامل پر پابندی کی تجویز ہے۔ 1800 سی سی اور اس سے زائد کی گاڑیوں کی درآمد پر 100 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور 35 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ موبائل فونز اور سرامک ٹائلز کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی۔ درآمدی مشینری پر بھی 10 سے 30 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔
اس کے علاوہ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والی مشینری پر بھی 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی، کارنیول جیپ، لگژری واٹر بوٹس، امپورٹڈ موبائل فون اورگھڑیاں  بھی بھاری ڈیوٹیز کی زد میں آئیں گی۔ درآمدی ٹائرز، بجلی پر چلنے پر والے گھریلو آلات اور پاور جنریشن مشینز کی درآمد پر 50 فیصد جبکہ ٹائلز کی درآمد پر ریگولری ڈیوٹی میں 40 فی صد جبکہ موبائل فونز پر ڈیوٹی دگنی کرنے کا بھی امکان ہے۔ اِن اقدامات کا مقصد ملک کے درآمدی بل کو کم سے کم کرنا ہے تاکہ تجارتی خسارے کے ساتھ ساتھ اکائونٹ کے خسارہ پر بھی قابو پایا جاسکے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ اعلان دو روز قبل حکومت اور اُس کی اتحادی جماعتوں کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے،
اُس ملاقات  میں اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کو معیشت کی بحالی کے لیے سخت فیصلے کرنے میں اُن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا ۔ ذرائع ابلاغ نے حکومتی اعدادو شمار سے معلوم کیا ہے کہ ملک میں اس مالی سال کے دوران گیارہ ارب ڈالر سے زائد کے  موبائل فونز، گاڑیاں ، لگژری آئٹمز اور امراء کے استعمال میں آنے والی خوراکیں درآمد ہوچکی ہیں تاہم متذکرہ فوری اقدامات کے ذریعے درآمدی بل میں مالی سال کی باقی ماندہ مدت میںکم از کم ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی کمی لائے جائے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے مطابق حکومت نے معیشت کی بہتری کے لیے لگژری آئٹمز کی درآمد پر تین ماہ کے لیے مکمل پابندی عائد کردی ہے، جن اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی ہے اُن میں گاڑیاں، موبائل فونز، سگریٹ، جوسز، فروزن فوڈز، کراکری، ڈیکوریشن، میک اپ، ڈرائی فروٹس، فرنیچر، گوشت، شیمپو، اسلحہ، جوتے اور دیگر اشیا شامل ہیں اور اِس
پابندی کا مقصد معیشت کو بہتر کرنا ہے۔
جن درآمدی اشیا پر پابندی عائد کی گئی ہے ان کی مالیت سالانہ 6 ارب ڈالرز بنتی ہے اور ان اقدامات سے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے۔ درآمدی اشیا پر دو سے تین ماہ کے لیے پابندی اگرچہ خوش آئند اور موجودہ حالات کی ضرورت ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ معاشی حالات اِس سے کہیں زیادہ مشکل فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں، جتنا بڑا بحران ہو اُس کا حل بھی اُتنا بڑا ہی تلاش کرنا پڑتا ہے۔ محترمہ مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پٹرولیم اور انرجی پرائسزپر بھی کام ہورہا ہے، ماضی میں پٹرولیم پرائسز کو روک کر معیشت پر بوجھ ڈالا گیاہے اس پرہم سمجھتے ہیں کہ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بوجھ عام پاکستانی پر منتقل کرنے کی بجائے اشرافیہ پر منتقل کرنے میں، کوئی حرج نہیں، کوئی قیامت نہیں آئے گی اگر ہم ملک و قوم اور اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے کچھ عرصہ اُڑن طشتری نما گاڑیوں اور پروٹوکول والی زندگی سے باہر نکل کر غریبوں کی سواری موٹر سائیکل یا چھوٹی کار میں سفر کرلیں اور تبھی سفر کریں جب انتہائی ناگزیر ہو، جب بڑی گاڑیوں کا سڑکوں پر استعمال کم ہوگا تو یقیناً پٹرول کی بچت سے درآمدی بل بھی کم ہوگا، یہ ایک چھوٹی سی تجویز ہے
حالانکہ معاشی ماہرین اِس حوالے سے بہترین منصوبہ بندی کرکے معاشی مسائل کو کم سے کم کی سطح پر لاکر ختم کرسکتے ہیں، کرونا وبا کے دوران چند دن کے لاک ڈائون کے نتیجے میں نہ صرف فضائی آلودگی میں حیرت انگیز طور پر کمی ہوئی بلکہ لوگوں کی صحت بھی بہتر ہوئی کیوں کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کم ہوئی ۔ تو کیا ہم ایسے ہی اقدامات کے ذریعے اپنے معاشی مسائل ختم نہیں کرسکتے؟ اگر کچھ عرصے کے لیے سڑکوں پر اُڑن طشتریاں لانے سے منع کردیا جائے تو عام آدمی کی مالی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تب ممکن ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانی پڑیں یا معمولی اضافہ کرنا پڑے۔ قوم کو مختصر عرصے کے لیے ’’امپورٹڈ‘‘ کے جادو سے باہر نکلنا ہوگا وگرنہ کسی سیاسی جماعت کےپاس جادو کی چھڑی نہیں ہے جو ہلانے سے ملک کے معاشی حالات ٹھیک ہوجائیں، حکمران بھی کمر کس لیں اور عوام کو بھی آمادہ کریں کہ وہ اِس معاملے میں حکومت کا ساتھ دیں، اگر کسی شعبے میں سختی کی ضرورت ہو تو بالکل کی جائے کیوں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ آج کئی ممالک ہفتے میں ایک سے زیادہ چھٹیاںدے کر پٹرول اور توانائی بچارہے ہیں، ہم ایسے اقدامات کیونکر نہیں کرسکتے؟
اِس وقت عام آدمی کی معاشی بقا خطرے میں ہے، ایران اور دوسرے ممالک نے بھی تو عالمی پابندیوں کا سامنا کرکے زندہ رہنے کا نیا اسلوب سیکھا ہے، ہم اپنے معاشی حالات کو سدھارنے کے لیے خود ساختہ پابندیاں نہیں لگاسکتے؟ درآمدی اشیا پر پابندی کا فیصلہ خوش آئند ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت ملک و قوم کو مشکلات سے دور رکھنے کے لیے ایسے فیصلے کرنے میں تاخیر مت کریں جن فیصلوں کے ذریعے ہم معاشی بحران سے باہر آسکتے ہیں، آج بعض معاشی ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ خدانخواستہ ہمیں سری لنکا جیسے حالات کا سامنا نہ کرناپڑ جائے، اِس لیے ہم بار بار یہی گذارش کررہے ہیں کہ ملک میں مالیاتی ایمرجنسی لگائی جائے اور جس مد میں ہم قیمتی زرمبادلہ بچاسکتے ہیں ، ضرور بچائیں، نیک نیتی سے ملک و قوم کے محفوظ مستقبل اور خوشحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی ہر پاکستانی تائید کرے گا اور ہمیں یقین ہے کہ ہر پاکستانی اِیسے فیصلوں کو خود پر لاگو کرلے گا جو ہماری معیشت کی موجودہ صورتحال میں انتہائی ناگزیر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button