تازہ ترینحالات حاضرہخبریںروس یوکرائن جنگ

جنگ یوکرین میں جدید ترین لیزر ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان

ایک روسی عہدیدار نے جنگ یوکرین کےدوران پہلی بار جدید ترین لیزر ہتھیاروں کے استعمال کا عندیہ دیا ہے۔

خبررساں ایجنسی تاس کے مطابق، روس کے نائب وزیر خارجہ یوری بوری سوف نے ٹیلی ویژن سے براہ راست نشر ہونے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یوکرین میں جاری فوجی آپریشن کے دوران زادیرا سسٹم کے نام سے موسوم جدید ترین لیزر ہتھیاروں کا استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ زادیرا لیزر سسٹم پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر اپنے اہداف کو نابود کرنےکے علاوہ ڈیڑھ ہزارکلومیٹر کی رینج میں نگرانی کرنے والے تمام سیٹلائٹوں کو جام، مختلف قسم کے ڈرون طیاروں کو تباہ اور مہنگے ترین میزائلوں کو چلنے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بوری سوف نے مزید کہا کہ، زادیرا لیزر سسٹم یوکرین کی سرحدوں پر قائم روسی فوجی اڈوں کے لیے ارسال کیا جارہا ہے اور ان ہتھیاروں کی فرسٹ جنریشن کا استعمال عنقریب شروع کردیا جائے گا۔

دوسری جانب روس کی قومی سلامتی کونسل کے نائب صدر دیمتری میدویدوف نے کہا ہے کہ ان کا ملک تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ساروف نامی ایٹمی مرکز کے معائنے کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیمتری میدویدوف کا کہنا تھا کہ ہمارے جدیدترین، قابل اعتماد اور موثر ہتھیاروں کے ذخائر، تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کا خواب دیکھنے والوں کے عزائم خاک میں ملادیں گے۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ روس تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا اور میں اس بات کی یاد دھانی کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے ملک کے خلاف کسی بھی حملے کا فوری اور شدید جواب دینے کی توانائی رکھتے ہیں ۔ روس کی قومی سلامتی کونسل کے نائب صدر نے اس سے پہلے، نیٹو کے رکن ملکوں کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سلسلہ بھرپور ایٹمی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔

دیمتری میدویدوف نے کہا تھا کہ روس صرف چار صورتوں میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا اور ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ روس یا اس کے کسی اتحادی کے خلاف ایسی جارحیت کی جائے جس سے اس ملک میں زندگی نابود ہونے کا خدشہ ہو۔

درایں اثنا بحیرہ بالٹک کے تین ملکوں ، لٹویا، لتھوانیا اور اسٹونیا نے روس کے ممکنہ حملوں کا دعوی کرتے ہوئے مشرقی یورپ میں نیٹو کی فوجی موجودگی کو موثر بنانے کی اپیل کی ہے۔یوکرین کے معاملے میں روس کے ساتھ مغربی ملکوں کی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان مذکورہ تینوں ملکوں نے دعوی کیا ہے کہ روس نیٹو کے رکن ملکوں پر حملے کرسکتا ہے لہذا مشرقی یورپ میں نیٹو کی فوجی موجودگی کی تقویت ناگزیر ہے۔ یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس کی وزارت خارجہ نے منگل کے روز جاری کئے جانے والے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر فن لینڈ اور سوئیڈن کی جانب سے نیٹو میں شمولیت کی درخواست دی گئی تو ماسکو بحیرہ بالٹک کے ملکوں کی تنظیم سی بی ایس ایس سے باہر نکل جائے گا۔

تازہ ترین خبروں میں کہا گیا ہے کہ روس نے سی بی ایس ایس سے نکلنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ سی بی ایس ایس کا قیام سن انیس سو بانوے میں عمل میں آیا تھا اور بحیرہ بالٹک کے گیارہ ممالک روس، ڈنمارک، اسٹونیا، فن لینڈ، جرمنی، آئس لینڈ، لٹویا، لتھوانیا، پولینڈ اور سوئیڈن اس کے رکن جبکہ اس تنظیم میں متعدد ممالک کو مبصر کا درجہ بھی حاصل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button