تازہ ترینخبریںپاکستان سے

چیف جسٹس کا تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت کا نوٹس

چیف جسٹس آف پاکستان نے تفتیشی اداروں میں حکومت مداخلت کا ازخود نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ازخودنوٹس ساتھی جج کی نشاندہی پر لیتے ہوئے 19 مئی کو دن ایک بجے سماعت کیلئے مقرر کر دیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجزبینچ سماعت کرےگا.

حکومتی اتھارٹیز کی جانب سے فوجداری قانون پر قدغن عائد کرنے پر نوٹس لیا گیا ہے۔ نوٹس کے مطابق اہم افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ نظام انصاف میں مداخلت کے مترادف ہے اس مداخلت سے شواہد میں گڑبڑ اور غائب ہونےکاخدشہ ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ حکومتی مداخلت سے شواہد ضائع ہونے اور پراسیکیوشن پر اثرانداز ہونےکاخدشہ ہے۔

چیف جسٹس نےازخودنوٹس ساتھی جج جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کی نشاندہی پر لیا ہے۔ جسٹس مظاہرعلی نے خط میں حکومتی شخصیات کی کیسزمیں مداخلت کی نشاندہی کی تھی۔

پانچ رکنی لارجربینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس محمدعلی مظہر شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button