Ali HassanColumn

انتخابات کی بجائے کچھ اور سوچیں … علی حسن

علی حسن

گزشتہ کالم کے تسلسل میں یہ کالم ہے کہ وہ وقت آہی گیاکہ ہمیں اپنی ترجیحات انتہائی سنجیدگی کے ساتھ نئے سرے سے طے کرنا ہوں گی۔ قیام پاکستان کے وقت جن تکالیف و مشکلات سے ملک کو اس کے پیروں پر کھڑا کیا گیا ، اس کے بارے میں موجودہ سیاسی رہنمائوں کو ذرہ برابر علم نہیں ۔ وہ تو یہ ہی سمجھتے ہیں کہ بس پاکستان طشتری میں رکھ کر دے دیا گیا تھا اور خود بخود قائم ہو گیا تھا۔ یہ اسی طرح کی سوچ ہے کہ آج پاکستان کا اندرون ملک جس طرح فوج دفاع کر رہی ہے اور فوجی جوان اور افسران اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں ۔ اس کا علم تو ان کو ہی ہے جو سخت ترین ماحول میں ڈیوٹیاں دے رہے ہیں اور اس ملک کے لیے اپنی جان دے رہے ہیں۔ بات تلخ ضرور ہے کہ سیاست دانوں سے کہا جائے کہ ذرا کسی دفاعی مورچہ پر جاکر جوان کے ساتھ ایک دن و رات ہی گزار کر دیکھ لیں کہ ڈیوٹی کس طرح دی جاتی ہے۔ گولی کا سامنا کرنا تو دور کی بات ہے۔

انتخابات کے انعقاد کے لیے شور مچانایاحکومت کی مدت میں طوالت کا مطالبہ کرنا آسان بات ہے۔ عمران خان کی حکومت کے خلاف محاذ کھڑا کرناآسان تھا۔ بقول سندھ کے ایک زیرک سیاست دان مرحوم پیر علی محمد راشدی ’’ تخریب آسان کام ہے جبکہ تعمیر مشکل کام ہوتا ہے‘‘۔ سب اکھٹا ہوئے اور سب کی تائید کے بعد عمران خان کو گھر بھیج دیا گیا۔ ان کے جانے کے بعد اندازہ ہوا کہ ملک خطرناک مخدوش معاشی صورت حال سے دوچارہے۔ پیٹرول کی قیمت بڑھائو تو مشکل اور نہیں بڑھائو تو مشکل۔ انتخابات کرائو تو مشکل نہیں کرائو تو مشکل۔ مشکل یہ محسوس ہو رہی ہے کہ آپس میں طے نہیں ہوپا رہا ہے کہ انتخابات کب منعقد کرائے جائیں۔ ساری سیاسی جماعتیں ڈری ہوئی ہیں کہ کیا ہو گا۔
انتخابات کرانا یا نہ کرانا کوئی مشکل کام نہیں۔ اچھے دنوں میں جنرل ضیاء الحق نے بھی اسی خوف کی بناء پر انتخابات کو ملتوی کر دیا تھا کہ بھٹو کامیاب ہو جائیں گے۔ آج بھٹو کی جگہ عمران خان ہے۔ حکومت سنبھال لینا کوئی مشکل کام نہیں لیکن موجودہ حالات میں عمران خان سمیت سب کے لیے اہم ترین سوال یہ ہے کہ ملک چلے گا کیسے۔ گزشتہ کالموں میں کئی بار لکھا جا چکا ہے کہ ملک کی بر آمدات میں جنگی بنیادوں پر اضافہ کیا جائے۔در آمدات کو سوائے انتہائی ضرورت کی چیزوں کے سب کچھ بند کیا جائے۔ اگر پیٹرول کی راشن بندی کر دی جائے کیا حرج ہوگا۔ اگر غیر ملکی سرکاری دوروں پرپابندی عائد کر دی جائے تو کیا ہوجائے گا۔ یہ جو آئی ایم ایف قطر میں اسی ہفتہ پاکستان کو قرض دینے سے متعلق اجلاس کر رہا ہے ، اس کا خرچہ پاکستان کے ذمہ ہو گا۔ تمام اخراجات پاکستان کے کھاتے میں ڈال دیئے جائیں گے۔
سینئر ترین صحافی محمود شام نے اپنے تازہ کالم میں لکھا ہے کہ ’’ ان کے ایک بھارتی صحافی دوست کا خیال ہے کہ جنوبی ایشیا کسی انقلاب کے دہانے پر ہے۔ انقلاب فرانس کی طرح کا کچھ لاوا پک رہا ہے۔ میں نے اسے کسی مجذوب کی بڑ نہیں سمجھا۔ نیپال، سری لنکا، افغانستان اور بھارت کے اقتصادی اعداد و شُمار پر نظر ڈالی ہے۔ پہلے کووڈ 19نے ان ملکوں کی معیشت کو حد درجہ متاثر کیا۔ اب روس یوکرین کی جنگ ان کی تیل اور گیس کی درآمدات کی صورت حال پر اثر انداز ہورہی ہے۔ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارا میڈیاہمیں صرف پاکستان کے چند سیاسی خاندانوں کی نقل و حرکت سے آگاہ رکھتا ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ ہماری زندگیاں بنی گالا، بلاول ہائوس اور جاتی امرا کے ہاتھوں میں ہیں اور  دنیا کے حالات اور خطّے کے مد و جزر کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں۔ آج کی دنیا آپس میں بہت زیادہ مربوط ہے۔ معیشت عالمی رابطوں میں بھی ہے اور خطّے میں بھی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے ان لہروں کے اثرات سے بخوبی واقف ہیں جو سرحد پار کرکے انسانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ہم سب کثیر القومی کمپنیوں کے یرغمال ہیں۔
وہ عالمی صورت حال اور پھر مختلف خطّوں کے احوال دیکھ کر اپنی قیمتیں مقرر کرتی ہیں۔سٹاک ایکسچینج میں بھی اپنا سرمایہ ڈالتی ہیں یا واپس کھینچتی ہیں۔ نیپال میں زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔ بیرونِ ملک نیپالیوں کی طرف سے ترسیلات زر بھی گھٹ گئی ہیں۔وزیر خزانہ اور گورنر سینٹرل بینک میں ٹھنی ہوئی ہے۔ افراطِ زر میں اضافہ۔ بینک اب قرضے نہیں دے رہے۔ زرعی ملک ہے لیکن کھانے پینے کی چیزیں باہر سے منگوائی جارہی ہیں۔10ملین ڈالر کا خسارہ ہے۔ سرکاری دفاتر میں پیٹرول کا استعمال 20فی صد کم کیا گیا ہے۔حکومت کی بد انتظامی سے زر مبادلہ کے ذخائر کم ہوگئے ہیں۔ درآمدات کی ادائیگی کی حیثیت نہیں رہی۔ کرفیو، جھڑپیں، بے یقینی، قومی اخراجات  قومی آمدنی سے کہیں زیادہ۔ اشیائے ضروریہ کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں۔ کاغذ اور سیاہی نہ ہونے کے باعث امتحانات ملتوی کیے جارہے ہیں۔
افراط زر 30فیصد،پیٹرول92فیصد،ڈیزل 76 فیصداور صدارتی  نظام بری طرح ناکام ہوگیا ہے۔ یہاں شرح خواندگی 100فی صد ہے۔ اس کے باوجود یہ حال ہے اور فوج کے اقتدار پر قبضے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ بھارت میں شرح نمو 7.6 فی صد متوقع تھی لیکن 6.4 فیصد رہی۔ مہنگائی بڑھ گئی اور ٹیکنیکل کساد بازاری کا خطرہ ہے۔ پاکستان کی اقتصادی صورت حال آپ کے سامنے ہے۔ ڈالر193 روپے کا ہوگیا ہے۔ ہم بھی (ہم پھر بھی) لگژری اشیا درآمد کررہے ہیں۔پنیر،چاکلیٹ، سبزیاں، پھل، گاڑیاں، موبائل فون،پالتو جانوروں کی خوراک پر ڈالر (بے دریغ) خرچ ہورہے ہیں۔ برآمدات سے درآمدات کہیں زیادہ ہیں۔ زر مبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔ صرف بنگلہ دیش کی معیشت جنوبی ایشیا میں مستحکم ہے۔ کیا یہ قیادت کا بحران ہے؟ کیا واقعی کوئی بڑا انقلاب آنے والا ہے۔ اقتصادی ماہرین کی کوئی سن نہیں رہا۔ سارک کی علاقائی تعاون کی تنظیم دنیا میں سب سے ناکام ہے۔ اس کے بعد یہ حال تو ہونا ہی تھا۔ جنوبی ایشیا کی یہ اقتصادی زبوں حالی کیا چین کو بھی متاثر کرے گی اور کیا چین ان ملکوں کی مدد کو آگے نہیں بڑھے گا ‘‘ ؟
خطرے کی گھنٹی پر کان دھرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں فوج کو ایسے ایمپائر کی حیثیت حاصل ہے جس کی سب ہی سنتے ہیں۔ یہ دوسری بات ہے کہ دل ہی دل میں اس کی باتوں کے خلاف سوچ رہے ہوں۔ 2018 میں فوج کے سپہ سالار جنرل قمر باجوہ نے ملکی جید صحافیوں اور ٹی وی اینکرحضرات کے ساتھ طویل نشست میں ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشی صورت حال پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی لیکن ان کی باتوں پر حکومت یا سیاسی جماعتوں نے سنجیدگی سے غورہی نہیںکیا۔کہاں2018اورکہاں2022۔ بہت تکلیف دہ بات ہے کہ پاکستانی سیاست دان معیشت کی ابجد سے واقفیت ہی نہیں رکھتے اور بقول محمودشام ’’اقتصادی ماہرین کی کوئی سن نہیں رہا۔‘‘ سیاسی جماعتیں تو اپنا منشور ادھر اُدھر سے نقل کر کے پیش کردیتے ہیں جسے خود انہوں نے پڑھا تک نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف ہو، نون لیگ ہو یا پی پی یا جے یو آئی یا پھر کوئی اور جماعت بتائے گی کہ انہوں نے اپنے اپنے دور اقتدار میں اپنے دیئے ہوئے منشور پر کس حد تک عمل کیا اور کیا نتیجہ اخذ کیا۔
ڈاکٹر عشرت حسین کے کالم پڑھ یا شبر زیدی کے بیانات پڑھ لیں، قیصر بنگالی کی تقاریر کو دوبارہ سن لیں، اکبر زیدی کی گفتگو سن لیں، تو محسوس ہو تا ہے کہ سیاست دانوں کو روز بروز خراب ہوتی معیشت سے دلچسپی نہیں، انہیں ہر حال میں اقتدار چاہیے ۔ ان کے خیال میں ملک تو آئی ایم ایف سے قرضہ لے کر چلایا ہی جائے گا۔ ایک فوٹو گراف نے دنیا بھر میں کئی سال قبل تہلکہ مچانے کے بعد اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ کسی افریقی ملک میں میدان میں ایک نہایت لاغر بچہ جس کی جان بظاہر جاں بلب تھی، کے قریب ایک گدھ بیٹھا ہوا تھا ۔ میرے اور آپ کے خیال میں یہ گدھ کیوں بیٹھا ہوا ہوگا۔ قیادت کا بحران ہے یا نہیں، سیاست دان کان دھرنے پر تیار ہیں یا نہیں۔ لیکن پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ اور سپریم کورٹ، تمام چھوٹے بڑے سیاست دانوں کو ایک کام کر گزرنا چاہیے کہ پانچ سال کے لیے ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا کر غیر سیاسی افراد پر مشتمل حکومت قائم کر دی جائے اور ملک کو مزید تباہی سے بچانے کے اقدامات کئے جائیں۔ سیاست دانوں پر مشتمل حکومتیں 1988 سے ہونے والے نو انتخابات کے بعد اب تک کیا کرتی رہی ہیں۔ ملکی خزانہ تو کوئی نہیں بھر سکا البتہ آئی ایم ایف سے قرضے لیے جاتے رہے ۔ سری لنکا کے پیٹرول اور روٹی کے متلاشی عوام نے اپنے وزیر اعظم کے نہایت قیمتی غیر ملکی گاڑیوں کے بہت بڑے گیراج کو نذر آتش کر دیااور اس کا گھر جلا دیا۔ اس کے وزراء کو برہنہ کرکے سڑکوں پر گھمایا گیا ۔ اگر پاکستان میں ایسا نہیں ہو رہا ہے تو سیاست دانوں کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہاں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہوا اُکھڑنے میں دیر نہیں لگتی۔ سیاست دانوںکو ہوس چھوڑ کر ہوش میں آنا چاہیے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button