Editorial

معیشت کیلئے چارٹر آف اکانومی کی ضرورت

وطن عزیز کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کی قیادت سے مشاورت شروع کردی ہے اور اِس سلسلے میں گذشتہ روز اتحادی جماعتوں کا اجلاس بھی ہوا ہے۔ موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پروزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کے سربراہوں سابق صدر آصف علی زرداری، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں،میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے اتحادیوں کی مشاورت سے کیے جائیںگے،
وزیراعظم نے لندن میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے ہونے والی ملاقات سے متعلق بھی اتحادیوں کو اعتماد میں لیا۔ حکومت اور اتحادی جماعتیں موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل قوم کو سامنے لاتی ہیں یہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی تجربہ کار اور معاملہ فہم قیادت کے لیے کڑا امتحان ہوگا کیوں کہ اقتدار میں حصہ دار سبھی جماعتیں عوام کو معاشی بحران سے فوری باہر نکالنے کی خواہاں ہیں لیکن خالی خزانہ ، عالمی کساد بازاری اور قرضوں کا پہاڑ ہر کوشش کو زائل کرنے کے لیے گہری کھائی کی مانند سامنے آرہے ہیں، ملکی معیشت اِس وقت سب سے بڑا اور کڑا چیلنج ہے کیوں کہ معیشت کے ملکی سلامتی سے لیکر عام پاکستانی تک اثرات مرتب ہوتے ہیں،
معاشی لحاظ سے مضبوط ہوں گے تو مضبوط قوت ارادی کے ساتھ بڑے فیصلے کرنے کے قابل ہوں گے، معیشت کمزور ہوگی تو قومی سطح پر فیصلے بھی نحیف ہی ہوں گے۔ معیشت کی حالت تقاضا کرتی ہے کہ اُس پر مزید بوجھ لادنے کی بجائے، بوجھ کو ختم کیا جائے اور اُس کو وینٹی لیٹر سے اُتارا جائے لیکن ایسا کرنے کی صورت میں مہنگائی کے شکار عوام مزید معاشی بدحالی میں چلے جاتے ہیں، ہماری تجربہ کار سیاسی قیادت اور اُن کی معاشی ٹیم اِس بحران سے باہر نکلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہی ہے مگر مسائل اتنے سنگین ہیں کہ کوئی راہ سُجھائی نہیں دے رہی، چونکہ موجودہ اتحادی حکومت کا ہدف بعض شعبوں میں اصلاحات، معیشت کی بحالی اور عام آدمی کو ریلیف دینا ہے اور درحقیقت اِن میں معیشت کی بحالی اور عام پاکستانی کو ریلیف ہی بڑے چیلنجز ہیں جیسا کہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک روز قبل واضح طور پر کہا تھا کہ اس وقت حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ،
وزیراعظم شہباز شریف نے عوام پر بوجھ ڈالنے سے انکار کر یا ہے، پٹرول کی قیمت بڑھاتے ہیں تو گناہ گار ہوتے ہیں نہیں بڑھاتے تو بھی گناہ گار ہوتے ہیںاُن کی اِس بات کا مقصد ہی یہی تھا کہ معیشت کی بحالی کے لیے قدم اُٹھائیں تو عوام متاثر ہوتی ہے اور اگر عوام کو ریلیف دینے کا سلسلہ جاری رکھیں تو معیشت مزید نیچے جاتی ہے، پس ثابت ہوا کہ اِس معاشی بحران سے نکلنا اتنا آسان نہیں جتنا آسان سمجھا
جارہا ہے ،
ایک روز پہلے بھی ہم نے معاشی مسئلے پر یہی گذارش کی تھی کہ اِس سنگین معاملے پر قومی سطح پر ڈائیلاگ کرایا جائے تاکہ متفقہ حل سامنے آسکے اور پھر اُسی لکیر پر بغیر نظریاتی اختلاف کے چلا جائے۔ بلاشبہ عوام کی معاشی حالات قابل رحم ہے لیکن ملکی معیشت کی حالت بھی قابل ترس اور فوری توجہ کی متقاضی ہے، آج پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحاد میں شامل دوسری جماعتوں کے تجربہ کار سیاست دان بھی ملک کے معاشی مسائل کی وجہ سے پریشان نظر آتے ہیں کیوں کہ صورتحال ہی ایسی ہے کہ عوام کو ریلیف دیں تو معیشت مزید غوطے کھاتی ہے ،
معیشت کو بچائیں تو عوام۔ ہم معاشی ماہرین اور وفاقی وزیر خزانہ سے متفق ہیں کہ معیشت کو فوری طور پر سنبھالنا بے حد ضروری ہے مگر اصلاحات کے سوا کوئی چارہ بھی نظر نہیں آتااور اگر معیشت کی بحالی کے لیے پٹرول سمیت بعض چیزوں پر سے سبسڈی ختم کردی جاتی ہے تب بھی سال ڈیڑھ سال سے پہلے اُس کے مثبت اثرات سامنے آنے کی امید نہیں۔ اگر قوم ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت وقت کے ساتھ ہر ممکن تعاون پر آمادہ نظر آئے تو معاشی شعبوں میں اصلاحات کرکے ملک و قوم کو بڑے بحران سے بچایاجاسکتا ہے، درآمدات کو ہر ممکن حد تک کم سے کم کیا جائے اور جہاد سمجھ کر ملکی مصنوعات کا استعمال کیا جائے تاکہ درآمدی بل کم سے کم ہو کیوں کہ مسئلہ ڈالر کی کمی کا ہے اسے حل کرنا چاہئے،ایک روز پہلے ڈالر مزید مہنگا ہوکر194 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، معاشی صورتحال کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں بڑی مندی ہوئی اور123 ارب ڈوب گئے کیوں کہ 77.35فیصد کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت گھٹ گئی تھی،سونا700روپےمہنگاہوکرایک لاکھ36ہزار 600 روپے کا تولہ ہوگیاجس پر وزیراعظم شہباز شریف نےصدر فاریکس ایسوسی ایشن سے رابطہ کرکے ڈالر کی قیمت بڑھنے پر اظہار تشویش کیا مگر انہوں نے بھی تجارتی خسارہ بڑی وجہ قراردے کر لگژری آئٹمز پر پابندی کی تجویز دیدی۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ڈالر کا ریٹ بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ تجارتی خسارہ اور آئی ایم ایف نے پاکستان کو جو ایک ارب ڈالر کا قرض دینا تھا اُس میں تاخیرہے یہی نہیں سیاسی عدم استحکام اوربے تحاشا قرضے بھی ڈالر کی قیمت بڑھنے کا باعث ہیں، پھر پورا ملک اس وقت افواہوں کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے معاشی عدم استحکام ہے ۔ آج ڈالر 194روپے کی بلند ترین سطح پر ہے لیکن جب میاں محمد شہبازشریف نے وزیراعظم پاکستان کا حلف اٹھایا تو ڈالر کا ریٹ 189 سے کم ہوکر 181 روپے پر آگیا مگرجوں جوں ملک میں سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ،ڈالر کی قیمت میں بھی بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق اِس وقت ملک میں روزانہ کی بنیاد پرقریباً 6.25 ارب ڈالرکی درآمدات ہورہی ہیں جبکہ برآمدات اور ترسیلات زر 6.10 ارب ڈالر ہے، یوں اگر ہر ماہ حکومت ایک ارب ڈالر کے لگژری آئٹم کم منگواتی ہے تو سال میں ہمارے بارہ ارب ڈالرز بچ سکتے ہیںجو قرضوں کی ادائیگی کے کام آسکتے ہیں ۔ اپنی بات کو یہاں سے سمیٹتے ہیں کہ
وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف ایک طرف اتحادی جماعتوں کو معیشت کے مسئلے پر اعتماد میں لیکر چل رہے ہیں تو دوسری طرف اپنے طور پر وہ ہر ممکن اقدامات کررہے ہیں جن کا تعلق معیشت کی بہتری سے متعلق ہے اور معاشی مسئلے پر انہوں نے  گذشتہ روز گورنرسٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ساتھ بیٹھ کر معاشی ماہرین خصوصاً ایکسچینج کمپنیوں کے مالکان سے بھی بات چیت کی ہے تاکہ ڈالر کی قیمت کو کم کیا جاسکے۔ ہم ایک بار پھر کہنا چاہیں گے کہ وطن عزیز جس معاشی گرداب میں پھنسا ہوا ہے صرف حکومت کو ہی نہیں بلکہ ہر سرمایہ کار، تاجر اور ہر پاکستانی کو اِس بحران سے باہر نکلنے کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہوگا تبھی ہم اِس خوفناک معاشی صورتحال سے باہر نکل سکتے ہیں اگر ہم سارا بوجھ حکومت کے کاندھوں پر ہی ڈال دیں گے اور مشکل فیصلوں میں ریاست کا ساتھ نہیں دیں گے تو ہم کبھی معاشی مشکلات سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button