پاکستانی مردوں سے دنیا بھر کی خواتین ہراساں کیوں ہیں؟

ماڈل، ویڈیو جوکی (وی جے) اور اداکارہ انوشے اشرف نے پاکستانی مرد حضرات کی جانب سے ترکی میں مبینہ طور پر خواتین کو ہراساں کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگوں کو بیرون ممالک کا ویزا نہیں بلکہ کیریکٹر سرٹیفکیٹ دیا جانا چاہیے۔
انوشے اشرف نے انسٹاگرام پر ترکی میں پاکستانی مرد حضرات کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے اور بلا اجازت ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے متعلق خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے اظہار برہمی کیا۔
انوشے اشرف نے لکھا کہ حلیمہ سلطان کے لباس پر تشویش کا اظہار کرنے والے پاکستانیوں کی سوچ کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں دنیا میں کسی بھی ملک کا ویزا دیے جانے کے بجائے انہیں خواتین کو بطور انسان سمجھنے کا سرٹیفکیٹ یا ڈپلومہ دیا جانا چاہیے۔
ماڈل و اداکارہ نے لکھا کہ ایسے پاکستانی مرد حضرات کو یہ سرٹیفکیٹ تھمایا جائے کہ وہ خواتین کو ان کے لباس کی وجہ سے نہیں بلکہ انہیں ایک انسان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔
It’s actually quite pathetic that some Pakistani men travel to Turkey , to film Turkish ladies and upload the videos . Apparently they do this back home too and upload the videos or send the videos to the girls parents .
— Foz (@Faith_Zaib_k) May 13, 2022
انوشے اشرف نے لکھا کہ ایسے پاکستانی مرد حضرات سے دنیا کے تمام مرد تو نہیں البتہ بہت ساری خواتین ہمیشہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔
انہوں نے جس خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا، اس میں بتایا گیا تھا کہ ترکی کے سوشل میڈیا پر ’پاکستانی گیٹ آؤٹ‘ اور ’پاکستانیوں کا رویہ ناقابل قبول ہے‘ جیسے ٹرینڈ چلنے لگے۔
مذکورہ خبر کے مطابق ترکی کے سوشل میڈیا پر اس وقت مذکورہ ٹرینڈ ٹاپ پر آگئے جب کہ رواں ماہ مئی کے آغاز میں ترکی کے شہر استنبول میں پاکستانیوں کی جانب سے مبینہ طور پر خواتین کو ہراساں کرنے اور بلااجازت ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔
مذکورہ معاملے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر افواہیں پھیل رہی تھیں کہ استنبول میں پاکستانیوں نے وہاں بولڈ لباس میں گھومتی مقامی خواتین کی ویڈیوز بناکر ان کے لیے نامناسب جملے بھی کہے اور مذکورہ ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد پاکستانیوں کے خلاف ٹرینڈ چلائے گئے۔
’پاکستانی گیٹ آؤٹ‘ یا ’پاکستانی ناقابل قبول ہیں‘ جیسے ٹرینڈز پر اب بھی ترکی کے لوگ ٹوئٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
خبریں ہیں کہ مذکورہ واقعے کے بعد ترکی میں موجود پاکستانیوں کی کڑی نگرانی بھی کی جا رہی ہے اور وہاں کی حکومت نے کچھ نئی پالیسیاں بھی ترتیب دی ہیں۔
Pakistani men caught stalking Turkish women and taking their illegal photographs. Pakistanis take their extremist attitude abroad & then cause problems for countries who let them in. Sorry, the world is not like Pakistan. I don’t want Pakistanis in Turkey.#pakistaniperverts
— Piovera (@PioveraEksi) May 9, 2022