ColumnFayyaz Malik

پولیس پر تنقید کا کلچر …. فیاض ملک

فیاض ملک

اگر آپ کو پولیس کی مدد چاہیے تو پہلے پولیس کی مدد کرنا ہوگی، پولیس کو دنیا بھر میں پہلی دفاعی لائن سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے یہاں الٹی ہی گنگا بہہ رہی ہے۔ عملی صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ پہلی دفاعی لائن ہونے کے باوجود اقتدار کی مسند اعلیٰ سے لیکر گلی محلے کے کونسلر تک جس کو دیکھو وہ پولیس پر بے جا تنقید کرتا نظر آتا ہے، ویسے بھی محکمہ پولیس پر بے جا تنقید کرنا دور حاضر میں سب سے آسان کام ہے، سوشل میڈیا نے تو یہ کام بہت زیادہ آسان بنا دیا ہے جس کو دیکھو وہ موبائل فون پر چند روپوں کا ماہانہ انٹرنیٹ پیکیج کروا کر جب چاہے، جس وقت چاہے پولیس پر بے جا تنقید شروع کردیتا ہے۔ یہی نہیں موبائل فونز پرکاپی پیسٹ اور شیئرکے آپشن نے تو یہ کام اور بھی آسان پیدا کر دیا ہے۔ ویسے دیکھا جائے توپولیس ڈیپارٹمنٹ پر تنقید کرنا دور حاضر میں باعث ثواب اور بلندی درجات کا موجب سمجھا جاتا ہے،اور یہ بھی سچ ہے کہ ہر وقت عوامی تنقید کی زد میں رہنے والی اسی پولیس کی ایک خالی اسامی پر بھرتی ہونے کے لیے ہزاروں امیدوار درخواست دے دیتے ہیں، پولیس پر تنقید کرنےوالے بھی ایک دوسرے سے یہی پوچھتے نظر آتے ہیں کہ پولیس کی نئی بھرتی کب آ رہی ہے،

مجھے پولیس میں بھرتی کا بہت شوق ہے ،یقین جانئے ہر وقت پولیس پر تنقید کرنےوالوں کی اپنی یہی خواہش ہوتی ہے کہ کسی طرح ان کا بیٹا، بھائی، بھانجا، بھتیجا،چچا،ماموں غرضیکہ کوئی بھی رشتے دار کسی طرح پولیس میں بھرتی ہوجائے تاکہ ان کا بھی علاقے میں کوئی ،ٹھکانہ بن سکے ،ان تمام تر باتوں کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ارض پاک کے شہروں کا امن، تحفظ کی فضاءیوں ہی خود بخود تو قائم نہیں ہو جاتی نا؟ اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں کسی کی محنت کار فرما ہے، کہیں نہ کہیں کوئی جاگ رہا ہوتا ہے،کہیں نہ کہیں کوئی چوکیدار بن کر آپ کی رکھوالی کر رہا ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی اپنی نیند قربان کر رہا ہوتا ہے، اور وہ ہر وقت آ پ کی تنقید کی زد میں رہنے والے محکمہ پولیس کا جوان ہی ہوتا ہے ،

 

اور یہ سچ ہے کہ پنجاب پولیس کے کانسٹیبل کس حال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ، شہریوں کی حفاظت کے لیے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرنےوالےپولیس ملازمین کی زندگیوں میں کیا چل رہا ہوتا ہے یہ اکثر اوقات تو خود ان کو بھی نہیں پتاہوتا،ہاںالبتہ بے وقت کی ڈیوٹی،بے وقت کا کھانا اور اعلیٰ افسران کے ہاتھوں ہونےوالی بلاوجہ کی بے عزتی کو سہتے ہوئے گھر میں بیوی بچوں، ماں باپ اور بہن بھائی کو وقت نہ دینے والے عوام کی نظر میں بدمعاش،ڈشکرے اور سرکاری غنڈے کہلاتے ہیں لیکن اگر پولیس اتنی ہی بری اور نااہل ہے تو پھر یہ محکمہ اب تک قائم کیوں
ہے؟

 

اس پر سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کا جواز کیا ہے ؟ اور نتیجہ ہمیشہ ڈھاک کے تین پات ہی کیوں ہے ؟اگر پولیس کو واقعی سیاسی بیساکھیوں سے آزاد کرکے اس کے پائوں پر کھڑا کر دیا جائے گا تو یقین مانئے بہت سوں کی روزی روٹی ، اللے تللے اور اضافی اختیارات و مراعات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔یقین جانئے اگر انصاف بلا تفریق رنگ و نسل، ذات برادری اور جیب،سب کو میسر ہونا شروع ہو گیا، تو پھر تھانہ کلچر نہیں، پاکستان کلچر تبدیل ہو جائے گا۔ جس کی بدقسمتی سے نہ عوام کو ضرورت ہے، نہ افسران کو، نہ سیاستدان کو اور نہ حکمرانوں کو۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ گزشتہ 75 برس میں کیا ہمارے حکمرانوں کو برطانیہ یا امریکہ نے پولیس اصلاحات سے روکا ہوا ہے ؟

اگر اس عرصے میں برطانیہ نے اپنے پولیس نظام میں جو اصلاحات کیںتو ان کی نقالی سے آپ کو کس نے باز رکھا ہے ؟یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پولیس ریفارمز اور ان کے ملازمتی حالات بہتر بنانے کے وسائل میسر نہیں۔ چنانچہ دیگر زیادہ منظم اداروں سے مدد لیناایک مجبوری ہے۔مگر یہ جواز دینے والے یہ نہیں بتاتے کہ ایک اچھی پولیسنگ کےلیے بس تھوڑی سی عزتِ نفس ، بنیادی پیشہ ورانہ سہولتیں اور آلات ، خاندانی تحفظ اور طاقتوروں کی بیگار سے آزادی اور مورال برقرار رکھنے کےلیے اچھے کام پر انعام اور برے کام پر سرزنش کافی ہے۔اس پراجیکٹ میں آخر کتنے پیسے لگتے ہیں ؟ لہٰذا اگر آپ کو پولیس کی مدد چاہیے توپہلے پولیس کی مدد کرنا ہوگی۔ اسے ایک باعزت پروفیشنل فورس بنانا ہوگا جس کا ہر جوان اور افسر اس یقین سے سرشار ہو کہ ریاست اسے تنہا نہیں چھوڑے گی۔وہ مرگیا تو ریاست اس کے خاندان کی ماں اور باپ ہوگی۔

 

اس کے بعد دیکھئے گا چمتکار کہ کیسے وہ شہر یوں کے جان ومال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے دل و جان سے کام کرتا ہے۔ یقیناً کسی بھی ملک کے اندر امن و سکون اور انصاف کے اداروں میں سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ادارہ پولیس کا بھی ہے، پولیس ایسا ادارہ ہے جو
انسانی دوستی کی بنیاد پر انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت بنایا گیا تھا۔ یہ وہ محکمہ ہے جو اپنی جان ہتھیلیوں پر رکھ کر معاشرے کے اندر مجرم اور جر م کے خلاف ہر وقت جنگ کے لیے تیار رہتے ہیں اور وقت آنے پر عملاً ثابت کر دیتے ہیں کہ ہم ہی انسانی معاشرے میں بگاڑ کا سبب بننے والے عناصر کے خاتمہ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا پولیس کبھی بھی غیر سیاسی ہوپائے گی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب قیام پاکستان سے لیکر آج تک کسی کو بھی نہیں مل سکا اور نہ ہی مل پائے گا کیونکہ برسر اقتدار آنےوالی ہر جماعت اور اس کے حواریوں کی اولین خواہشوں میں پہلی خواہش یہی ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح وہ محکمہ پولیس کو فتح کرکے اپنے زیر اثر کرلیں جس کے لیے وہ دھڑا دھڑ اپنے من پسند افسران کی پرکشش عہدوں پر تعیناتیوں کا سلسلہ شروع کروادیتے ہیں،

یہی وجہ ہے کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کے نام پر رچائے جانےوالے اس کھیل کی وجہ سے ہی آج تک پولیس غیر سیاسی نہیں ہو پائی ، حکمران طبقات، ارکان اسمبلی سمیت وزیر اعظم ، وزرائے اعلیٰ اور وزرا نے پولیس کے تبادلوں ، تقرریوں میں میرٹ کی دھجیاں اڑانے اور اپنے من پسند افراد کو سامنے لانے کی پالیسی نے پورے پولیس کے مجموعی نظام کو خراب کیا ہے۔ بالخصوص پنجاب اور سندھ کی پولیس میں بگاڑ سب سے زیادہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ پولیس کے نظام میں بے پناہ اصلاحات کے باوجود یہ ادارہ عوامی سطح پر اپنی ساکھ نہیں بناسکا جس کا وہ مستحق ہے۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ حکمران طبقہ پولیس کے نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر پولیس خود مختاراور شفاف ہوگی تو ان کی بھی جوابدہی ہوگی جس کےلیے حکمران طبقہ تیار نہیں،

ہماری پارلیمنٹ، پالیسی ساز ادار وں میں پولیس کو درپیش مسائل پر شور تو بہت سننے کو ملتا ہے مگر دیکھا جائے تو عمومی رویہ پولیس مخالفت میں سامنے آتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پولیس کو غیرسیاسی بنائے بغیر دہشت گردی اور بڑے جرائم کی روک تھام ممکن نہیں، یہی فورس دیرپا امن کی ضامن ہے کیونکہ اسی نے روزمرہ مسائل کو نمٹانا ہوتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر پولیس کے محکمہ کو ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے پاک کردیا جائے، ناکامیوں کے اسباب کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی طے کی جائے اور وسائل کو صحیح سمت پر استعمال کرتے ہوئے اس کو جدید اسلحہ و سہولیات سے آراستہ کیا جائے تو یقیناًمعاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم اور کرپشن جیسے ناسور کا خاتمہ ممکن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button