Columnمحمد مبشر انوار

دبنگ اینٹری … محمد مبشر انوار

محمد مبشر انوار

2018کے انتخابی نتائج پر مجھ سمیت بہت سے سیاست اور تاریخ کے طالبعلموں نے عمران خان کو اقتدار میں نہ آنے کا مشورہ دیا اور اسے وہی غلطی سمجھا تھا جو بے نظیر بھٹو نے 1988میں کی تھی لیکن اس خواہش اقتدار کہیں یا کچھ کرگذرنے کی آرزو یا ضرورت سے زیادہ اعتماد کہ عمران خان نے کسی کے مشورے کو درخور اعتنا نہ سمجھا اور حکومت قبول کر لی۔ ابتدائی دھچکوں کے بعد دنیا کروناکی عالمی وبا کا شکار ہوکر عالمی بحران میں دھنس گئی،دنیا بھر میں معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، عالمی معیشت زبوں حالی و کسادبازاری کا شکار ہوئی البتہ چند ایک ممالک نے اس بحران کا مقابلہ کیا،ان میں سے ایک ملک پاکستان بھی تھا کہ عمران خان کی ذاتی دلچسپی نے کاروباری سرگرمیوں کو رکنے نہیں دیا اور معاشی پہیہ مسلسل حرکت میں رہا۔ عمران خان نے ایک عام دیہاڑی دار مزدور کو پیش نظر رکھتے ہوئے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی ،جس کا فائدہ بہرکیف پاکستانی معیشت کے مسلسل متحرک رہنے سے ہوا جبکہ اسی دوران کرونا وبا کا نقصان پاکستان میں دیگر دنیا کے مقابلے میں قدرے کم رہا۔ کرونا اینٹری سے نپٹنے کے بعد عمران خان اپنے تئیں مسلسل معاشی سرگرمیوں کو مستحکم کرنے کے لیے کوششیں کرتے رہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان جس معاشی گرداب میں پھنس چکا اور اس کے محرکات ایسے ہیں کہ ان سے کسی صورت انکار ممکن نہیں ،اپنی گذشتہ تحریر میں اس کا اظہار کرچکا ہوں کہ پاکستان میں ہر طرح کا عدم استحکام بہرطور امریکی خواہشات کے عین مطابق ہے اور امریکہ ہر صورت یہ چاہتا ہے کہ اس کے زیر اثر ممالک ،امریکی تسلط اور اثر سے باہر نہ نکل سکیں، پاکستان انہی ممالک میں سے ایک ہے۔

البتہ جو سیاسی قوتیں اس امر سے انکار کرتی یا یہ سمجھتی ہیں کہ امریکہ کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ وہ پاکستانی حکومتوں یا سیاست میں دخل اندازی کریں،تو اسے تجاہل عارفانہ کہا جا سکتا ہے کہ عالمی طاقت کی حیثیت میں امریکہ کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ دنیا کے نقشے پر کسی بھی ملک کی اہمیت سے انکار کرسکے۔ اس کے جواز میں یہ سیاسی قوتیں جو بائیڈن کا عمران خان سے رابطہ نہ کرنے کو بطور ثبوت پیش کرتی ہیں لیکن یہ بھول جاتی ہیں کہ امریکی ہمیشہ گاجر اور چھری کا استعمال کرتے ہیں کہ جہاں گاجر سے اپنا مفاد حاصل ہو سکتا ہووہاں چھری سے زخم نہیں لگاتے البتہ رابطہ نہ کرنے کا دوسرا رخ یہی ہے کہ انہیں عمرانی حکومت سے اپنے مفادات کشید ہوتے نظر نہیں آتے تھے۔

بہرطور حکومت گرانے سے قبل ،تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے امریکی مراسلے کی اینٹری یقینی طور پر زبردست تھی اور عمران خان نے اپنے ستائیس مارچ کے جلسے میں اس مراسلے کو لہرا کر عوامی ہمدردیاں سمیٹ لی تھیںجو ہنوزعمران کے ساتھ ہیں،بعد ازاں حکومت سے بیدخلی کے بعد عمران خان نے اپنے دعوی کے مطابق مزید خطرناک ہوناثابت کر دیا اور اقتدار کے ماخذومنبع کو یہ باور کروادیا کہ وہ حقیقتاً ایک سیاسی قوت ہیں اور ان کے بغیر پاکستان کی سیاست نا مکمل ہی ہو گی۔ لہٰذا جو قوتیں عمران خان کو حکومت میں غیر مقبول تصور کر رہی تھیں ،انہیں اس کے متعلق اپنی رائے پر نظر ثانی کرناہو گی اور جو متبادل قیادت پاکستان کو مہیا کی گئی ہے،اس کی کارکردگی بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے کہ آئے روز مہنگائی عفریت کی طرح غریب عوام کو نگل رہی ہے،آئی ایم ایف کی شرائط،دوست ممالک کی بے رخی اور ملکی پیداواری وسائل میں اضافہ کا نہ ہونا،مہنگائی کے عفریت کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔

یہاں یہ امر برمحل ہے کہ سابقہ حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں نے پاکستان کی معیشت کو ایک ایسی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے کہ اب اس سے نکلنے کی دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو لوٹی ہوئی دولت کو واپس لایا جائے خواہ لٹیرے ملکی محبت میںاس کو واپس لائیں یا قانوناً اس کا حصول ممکن بنایا جائے اور بد قسمتی سے یہ دونوں باتیں ہی قریباً ناممکن دکھائی دیتی ہیں۔ لوٹنے والوں نے ملکی وسائل کو اس لیے نہیں لوٹا کہ وہ اسے واپس لائیں اور نہ ہی وہ واپس لائیںگے اور بظاہر قانون میں اتنی سکت نظر نہیںآتی کہ وہ ان لٹیروں سے اس دولت کی برآمدگی کرواسکے۔ بصورت دیگر یہ ہے کہ عوام اور ریاست ،لمحہ موجود کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے ازخود ملک کی سالمیت کے لیے خودانحصاری پر توجہ دیتے ہوئے غیرملکی مصنوعات کے استعمال سے گریز کریںجبکہ حقیقت یہ ہے کہ غیرملکی مصنوعات کا استعمال بھی چند فیصدہی کرتے ہیں اور اس چند فیصد کی خاطر ملکی وسائل کا بیشتر حصہ برآمد شدہ مصنوعات کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے۔

بات کہیں اور نکل گئی لیکن کیا کریں کہ جب بھی ملکی مسائل کا ذکر ہوگا یہ حقائق بیان کرنا ضروری ہو جائے گا تا کہ موجودہ صورتحال کی صحیح عکاسی ہو سکے۔ خیر حکومت تبدیل ہو چکی اور نئی حکومت نے امور مملکت بھی سنبھال لیے ،گو کہ ابتدا ء میں کابینہ کی تشکیل ہی بہت زیادہ وقت لے گئی اور وزیراعظم شہباز شریف اکیلے مگر ادھوری حکومت کی نمائندگی کرتے رہے کہ اتحادی یک نکاتی ایجنڈے پر کامیابی حاصل کرنے کے بعد،حصہ طلب کرتے رہے۔  تاہم یہ مشکل بھی کسی حد تک حل ہوئی اور کابینہ تشکیل دے دی گئی،اس کابینہ کے اراکین کی تفصیل اس لحاظ سے دلچسپ رہی کہ اس کے بیشتر ارکان ضمانتوں پر رہا اور اکثریت قانونی کارروائیوں میں الجھی ہوئی ہے،اپنے دعوؤں کے باوجود مسلم لیگ نون اور اتحادی حکومت کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھانے میں ناکام نظر آتی ہے۔دوسری طرف عمران خان مسلسل اور برق رفتاری کے ساتھ بڑے جلسوں سے خطاب کر تے عوامی رائے کو اپنے حق میں کرتے جا رہے ہیں،چھوٹے شہروں میں بھی ان کے جلسے پررونق اور عوامی جذبے کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں اور عوام ان کی ہمنوائی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے،مسلم لیگ نون کی سنیئر نائب صدر اور نواز شریف کی صاحبزادی نے اپنی حکومت ہونے کے باوجودبھی عوامی جلسوںمیں اینٹری کر دی ہے اور کسی حد تک قابل ذکر جلسے بھی کئے ہیں۔ عوامی اجتماع کا رجحان دیکھا جائے تو مسلم لیگ نون کے جلسوں میں بھی کسی قدر جذبہ نظر آ رہا ہے تاہم اس کا لیول تحریک انصاف کے عوامی جلسوں کی نسبت کم ہی ہے۔میاں نواز شریف ،مریم نواز اور ان کے رفقاء اس سیاسی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں اور انہیں اس امر کا احساس ہے کہ پاکستان جس سیاسی و معاشی گرداب میں پھنسا ہوا ہے،اس سے نکلنے کے لیے انہیں نئے انتخابات کے ذریعے جلدازجلدعوامی مینڈیٹ حاصل کرنا چاہیے تا کہ موجودہ صورتحال کا طوق،نئے انتخابات میں تاخیر کے باعث،مسلم لیگ نون کے گلے میں نہ پڑے۔

سیاسی حرکیات کو سمجھنے والوں کے نزدیک ،نواز شریف،مریم نواز اور ان کے رفقاء کا یہ فیصلہ صائب ہے لیکن کیا یہ ان کے لیے اس پر عمل درآمد کروانا بھی اتنا ہی آسان ہو گا؟

سابق صدر زرداری نے اپنی دبنگ اینٹری دی اور ایک پریس کانفرنس میں انتہائی خوشگوار موڈ میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کے امکان کو مسترد کیا اور واضح طور پر کہا کہ اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔پس پردہ یہ باتیں بھی سننے میں آ رہی ہیں کہ زرداری و نوازشریف کی اس انتہائی اہم معاملے پر گفتگو بھی ہوئی ہے اور نواز شریف نے زرداری کو یہ آفر دی ہے کہ پیپلز پارٹی اگر مدت پوری کرنے کے حق میں ہے تو وہ اپنی حکومت بنائے اور مسلم لیگ نون اس کی اتحادی بن جاتی ہے۔بظاہر یہ ایک عجیب بات دکھائی دیتی ہے کہ اسمبلی میں تیسری اکثریتی جماعت حکومت بنائے لیکن پاکستان میں کچھ بھی ممکن ہے اور اگر زرداری نے اس پیشکش کو قبول کر لیا ،جس کا امکان ان کی پریس گفتگوسے نظر آتا ہے کہ انہوں نے اپنے لائحہ عمل کو واضح کیا ہے کہ جب تک نیب اور انتخابی اصلاحات نہیں ہوتی،نئے انتخابات میں نہیں جائیں گے ۔مزید معاشی حوالے سے ان کا یہ کہنا کہ ان کے کاروباری افراد سے بھی ملاقاتیں رہتی ہیں اور ان کے پاس پلان موجود ہیں البتہ اس کے ساتھ ہی انہوں نے معاشی مسائل سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا عندیہ بھی دیا،یہ خاصی حیران کن بات ہے کہ ہوئے بیمار جس کے سبب،اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیں گے،لیکن کن شرائط پر؟کیا باقی ماندہ پاکستان کو بھی لٹانے چلے ہیں اور کیا اسی لیے تحریک عدم اعتماد کامیاب کروائی گئی؟بہرکیف اس تمام صورتحال میں زرداری کی موجودہ اینٹری سب سے دبنگ نظر آتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button