ColumnImtiaz Ahmad Shad

غلطی کی کوئی گنجائش نہیں …. امتیاز احمد شاد

امتیاز احمد شاد

یوں تو ساری جنگیں ہی مفادات کی خاطر لڑی جاتی ہیں مگر مختلف ممالک میں موجود ایک قسم کا گروہ جسے لوگ ’اشرافیہ‘ بھی کہتے ہیں، اپنے مفادات کی لڑائیاں لڑ تے ہیں۔ یہ گروہ ہر سطح پر متحرک اور بہت بااثر ہوتے ہیں اس لیے سیاست،تجارت، حکومت، معیشت،سرمایہ کاری کے ساتھ طاقت کے تمام مراکزمیں ان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ان کا مقصد ہر حال میں خود کو نفع پہنچانا اور مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ اس غرض سے یہ گرگٹ کی طرح ہر پل رنگ بدلتے ہیں۔یہ موم کی ناک کی ماند جب جدھر چاہیں مڑ جاتے ہیں اور پورے نظام کو لپیٹنے کے فن سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں،انہیں پہلے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ کب کس کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور کس موڑ پر کس کو لال جھنڈی دکھانی ہے، خاص طور پرسیاست کے میدان ان کی تقسیم کاری بہت خوب ہوتی ہے، یہ لوگ خاندان کے افراد اور کاروباری تعلق داریوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتے ہیں،ہر فرد کو مختلف ذمہ داریاں تفویض کی جاتی ہیں اور انہیں سیاست اور طاقت کے تمام چھوٹے بڑے مراکز میں بڑی مہارت سے داخل کر دیا جاتا ہے،

جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ملک پر حکمرانی کسی کی بھی ہو ان کے مفادات کو کسی قسم کی ٹھیس نہیں پہنچتی،ان کا روزگار برقرار رہتا ہے۔
ہماری سیاست میں مفاد پرست ٹولوں (ابن الوقت)کی ہمیشہ سے بہتات رہی ہے، یہ ہر جماعت  یا گروہ میں اس حد تک سرایت کر جاتے ہیں کہ ایک ہی خاندان یامشترکہ کاروبارکے باوجود بیک وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں میں اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔ ہماری موجودہ سیاسی جماعتوں کا بغور جائزہ لیںتو آپ کو پوری کہانی سمجھ میں آجائے گی ۔بعض اوقات ایک ہی گھر یا خاندان میں تمام جماعتوں کی نمائندگی موجود ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج تک کوشش کے باوجود ان کا احتساب نہیں کیا جاسکا۔ عمران خان بطور وزیر اعظم پوری طاقت کے باوجود ان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکے۔ احتساب،مہنگائی،بے روزگاری اور معاشی ترقی ایسے الفاظ قیام پاکستان سے لے کر آج تک بار بار دہرائے جاتے رہے مگر ہر بار ان کا استعمال بطور نعرہ ہی رہا۔ موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو ایک پلڑے میں عمران خان اور دوسرے میں تمام سیاسی قوتیں موجود ہیں بلکہ حکومت میں جو سیاسی قوتیں عمران خان کے ساتھ تھیں وہ بھی اس وقت عمران مخالف پلڑے میں جا چکیں۔

لطیفہ یہ ہے کہ بعض جماعتوں کے آدھے لوگ عمران خان کے ساتھ بھی رہے اور آدھے بحکم غائبی عمران خان مخالف کیمپ کو پیارے ہو گئے۔یہ وہ عمل اور کارروائی ہے جس کی جانب میں اشارہ کر رہا ہوں کہ مفاد پرست لوگ ہمیشہ منقسم ہو کر ہر جا اپنی موجودگی رکھتے ہیں تاکہ ان کے مفادات کو کوئی نقصان نہ پہنچے 2018کے الیکشن میں جس طرح تحریک انصاف  کے لیے جہازوں ،رکشوں اور ٹرکوں میں لاد کر لوگ لائے گئے اور عمران خان بغیر تصدیق پارٹی پرچم ان کے گلے میں ڈالتے گئے یہ سب اسی کا نتیجہ ہے کہ جب امتحان کا وقت آیا تو یہ سب امتحانی مرکز سے رفو چکر ہو گئے۔اس وقت بھی میں نے متواتر لکھا کہ عمران خان بہت جلدی میں لگ رہے ہیں ،یہ جلد بازی انہیں اور ان کی جماعت کو کاری ضرب لگائے گی۔ مرحوم نعیم الحق میری اس ناقص رائے سے متفق تھے،مگر اس وقت فیصلہ ہو چکا تھا کہ کسی بھی طرح اقتدار حاصل کیا جائے باقی بعد میں دیکھا جائے گا۔ اقتدار تو مل گیا مگر اختیار کہاں تھا؟

عمران خان شاید ایک خوش قسمت آدمی ہیں کہ اقتدار سے نکلتے ہی عوام میں آگئے اور عوامی نبض پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایسا بیانہ دیا جو نہ صرف اپنوں بلکہ کسی حد تک مخالفین میں تقویت پکڑ گیا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان  اقتدار سے علیحدگی کے بعد اب تک متعدد جلسے کر چکے ہیں۔ بلا شبہ یہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے بڑے جلسے ہیں۔ وہ یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ عوام ان کے دور کی مہنگائی،بے روزگاری،بیڈ گورنس اور احتساب کے عمل میں ناکامی کو بھول کر ان کے بیانیے کو قبول کر چکے ہیں۔اس سب کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ گوکہ عمران خان یہ اعلان کر چکے کہ میں اس دفعہ خود جانچ پڑتال کر کے امیدواروں کو ٹکٹ جاری کروں گا، پچھلی بار ٹکٹ بانٹنے کی ذمہ داری جن لوگوں کو دی انہوں نے درست انتخاب نہیں کیا۔

دیر آید درست آید۔ مگر آپ یہ بھی اعلان کر چکے کہ جنہوں نے اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا ان سب کو لازمی ٹکٹ
دیئے جائیں گے،آپ کے اس اعلان پر میرے وہی خدشات ہیں جو2018 میں تھے۔اس بار آپ کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔جن مفاد پرست یا اشرافیہ کا میں ذکر کر رہاہوں وہ آپ کے اس دوسرے اعلان کا فائدہ اٹھائیں گے۔یہ عمل کرنے سے پہلے آپ کو پنجاب کے امیدواروں کا  بغور جائزہ لینا ہو گا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو بظاہر آپ کے سپاہی ہیں مگر تنخواہ آج بھی جہانگیر ترین،علیم خان اور سابق گورنر سرور سے وصول کر رہے ہیں۔ان میں سے اکثر وہ بھی ہیںجن کو ٹکٹ آپ کے علم میں لائے بغیرجہانگیر ترین،علیم خان اور سابق گورنر سرور کی سفارش پر  جاری ہوئے۔

یقینی بات ہے کہ وہ آج بھی انہیں اپنا محسن گردانتے ہیں اور مشکل وقت کے اگلے مرحلے میں یعنی آپ کو ناکام کرنے کے فیز ٹو میں وہ اپنا کردار ادا کریں ۔عوامی پزیرائی کے زعم میں مبتلا ہوکر ایسی غلطی دوبارہ مت کیجئے گا جس سے آپ کی یقینی کامیابی بد ترین شکست میں تبدیل ہو جائے۔آپ کے بڑے بڑے جلسے ،عوامی شعور کی بیداری،آپ کے بیانیے کی دھوم اور مخالفین کی اخلاقی پستی اپنی جگہ مگر زمینی حقائق کا ادراک بھی ایک رہنما کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا سچا اور ایماندارہونا۔اس کہانی کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے تصدیقی عمل کا آغاز  لاہور سے کریں۔لاہور کے امیدواروں کو ملیں ان کی جہانگیر ترین،علیم خان اور سابق گورنر سرور سے کاروباری اور سماجی تعلق داری کومد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔حقیقی کارکنان کو ذمہ داری دیں تاکہ وہ ان کے بارے میںآپ کو درست معلومات فراہم کریں

۔یقیناً بہت سے پرانے احباب آپ سے ناراض ہیں ،انہیں اعتماد میں لیں،ان سے ملاقاتیں کریں ،اپنے جلسوں میں ان کو نمائندگی دیں تاکہ اس عوامی سمندر کو الیکشن کی سائنس کو مد نظر رکھتے ہوئے پر جوش لہروں میں تبدیل کیا جاسکے۔ اگر ایسا نہ کیا تو پھر ایک بارمفاد پرست اشرافیہ آپ کے گر د اکھٹی ہو جائے گی اور حقیقی کارکنان جو آپ کا اثاثہ ہیںانہیں آپ سے دور کر دے گی۔یہ وقت اور ماحول ہے سخت فیصلے کر جائیں عوام آپ کے ساتھ کھڑی ہے،آپ عوام میں ہیں اگر فیصلے غلط ہوئے تو آپ کو رد عمل نظر آتا جائے گا اور آپ اصلاح کرتے جائیں گے۔ اس بار آپ درست فیصلے کرنے میںناکام ہوتے ہیں تو یاد رکھیں داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button