Editorial

سنگین معاشی بحران اور سیاسی تقسیم

ملکی معاشی صورتحال پروزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں اضافہ عمران خان کے آئی ایم ایف سے معاہدے اور پھر اس کی خلاف ورزی کے اثرات ہیں۔ عمران خان نے جو معاہدے کیے ،ان کے چنگل سے نکلیں گے تو ڈالر نیچے آئے گا، عمران خان معیشت کو جس نہج پر چھوڑ کر گئے واپس لانا آسان کام نہیں۔پٹرول پر سبسڈی نے پاکستان کی معیشت کو شدید مالی دباؤ سے دوچار کیا، عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت خرید اور پاکستان میں قیمت فروخت کے درمیان فرق ہے، پٹرول پر سبسڈی سے حکومت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، اس مہینے قریباً 120 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ تھا جو سویلین حکومت چلانے کے خرچ سے تین گنا زیادہ ہے۔
اتنا بڑا خسارہ کوئی بھی حکومت برداشت نہیں کرسکتی۔ اسی وجہ سے تمام مارکیٹوں میں ہلچل ہوئی اور مہنگائی پھیل رہی ہے دوسری طرف سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے موجودہ معاشی صورتحال کی ذمہ دار نئی اتحادی حکومت کو قرار دیا ہے۔ اِس وقت حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان لفظی جنگ جاری ہے۔ لندن میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور نون لیگی قائد نواز شریف کی ایک اور اہم ملاقات ہوئی جس میں ملک کی معاشی بحالی کے اقدامات پر مشاورت کی گئی۔وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں حتمی فیصلے کرکے پاکستان کے عوام کو اعتماد میں لیں گے۔ دیکھا جائے تو پوری دنیا میں اِس وقت مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے، اشیائے خورونوش سے لیکر عام استعمال کی اشیائے ضروریہ ہر چیز کی قیمت ناقابل یقین حد تک بڑھ چکی ہے ظاہر ہے کہ ہم اِس طوفان سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں حالانکہ قرضوں کا پہاڑ، کمزور معیشت سمیت دیگر بڑے مسائل سنگین بیماریوں کی طرح ہماری معیشت کو لاحق ہیں۔
اگرچہ مہنگائی تو کبھی کسی ملک میں کم نہیں ہوئی لیکن ہمارے ہاں جس رفتار سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا رہا ہے اِس پر بطور پاکستانی ہم تحسین کے مستحق ہیں، ہماری سیاسی حکومتیں اپنی انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے انتظامی مشینری سے مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی جیسے کام نہ لے سکیں، مستقبل کے چیلنجز اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر بھی منصوبہ بندی نہیں کی گئی یہی وجہ ہے کہ آج ہم گندم، چینی اور دیگر اجناس عام مارکیٹ سے خریدنے پر مجبور ہیں مگر سب سے زیادہ مصائب کے پہاڑ کرونا وائرس کے نام سے آنے والی عفریت کی وجہ سے ہم پر ٹوٹے، تصور تو یہی کیا جارہا تھا کہ یہ وبا ٹل گئی تو مہنگائی بھی کم ہوجائے گی لیکن آج عالمی حالات ایسے ہوچکے ہیں کہ مہنگائی کسی سطح پر رکنے کا نام نہیں لے رہی اور  امریکی آٹو موبیل ایسوسی ایشن کے مطابق امریکہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تاریخ کی ریکارڈ بلند سطح پر آ چکی ہیںیوںپٹرول کے ایک گیلن کی قیمت 3.785سے بڑھ کر 4.432ڈالر ہوگئی ہے،
اِس کے بعد کیسے تصور کرلیا جائے کہ ہمیں آج بھی پٹرول پرانے نرخوں پر ہی ملے گا اِس منظر کشی کے بعد وزیر خزانہ کا موقف کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے، دوسری طرف پاکستانی روپےکی قدر میں مسلسل کمی ہورہی ہے اور گذشتہ روز شائع ہونے والی خبروں کے مطابق ڈالر193 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیاپھر  یورو اور پاؤنڈ کی قیمت کیوں کم رہتی ؟ فاریکس ایسوسی ایشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جمعہ کو انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت خرید مزید 90پیسے اضافے سے 191.60روپے سے بڑھ کر 192.50روپے ہوگئی جو  ملکی تاریخ کا ایک نیا ریکارڈ ہے، یورو کی قیمت خرید ایک روپے کے اضافے سے199روپے ہوگئی۔ مارکیٹ میں  مختلف برانڈز کے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں 4روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیاجس کے بعد درجہ دوم گھی و کوکنگ آئل مزید بھی مہنگا کر دیا گیایہی نہیں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے مئی کے لیے سوئی ناردرن سسٹم پرایل این جی کی اوسط قیمت 6.22 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کے بعد نئی قیمت 21.83ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کردی ہے۔ ڈالر، یورو، پٹرول، ایل این جی، گھی، کوکنگ آئل وغیرہ کے نئے نرخ اور بین الاقوامی مارکیٹ کی صورتحال بیان کرنے کا واحد مقصد مہنگائی کی عالمی سطح پر موجود صورتحال اور ہمارے حالات ہے،
نئی حکومت کے لیے سیاسی چیلنجز تو اپنی جگہ معاشی چیلنجز سے نمٹنا سب سے بڑا چیلنج ہے، لندن میں وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف اور اُن کی ساری کابینہ اِس سیاسی اور معاشی بحران سے نکلنے کے لیے مشاورت کررہی ہے، حالیہ دنوں میں وزیراعظم کا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا دورہ اور اُس کے معاشی اغراض و مقاصد بھی ہمارے سامنے آچکے ہیں، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف حکام سے ملاقاتیں کرچکے اور اِن سبھی کاوشوں کا مقصد موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کے سوا کچھ نہیں، ہم ماضی کی کسی حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتے البتہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ وطن عزیز جن معاشی مشکلات کا شکار ہے اِس میں سبھی جماعتیں ایک پیج پر یعنی پارلیمان میں سر جوڑ بیٹھتیں اور متفقہ لائحہ عمل قوم کو سامنے لاتیں، پھر روکھی سوکھی کھانا پڑتی یا جو بھی بن پڑتا قومی سطح پر کیا جاتا لیکن پوری قوم اِس بحران سے نکلنے کے لیے جدوجہد کرتی ہم یہی گذارش یا خواہش پہلے بھی ظاہر کرچکے ہیں کہ ہم معاشی مسائل کی جس دلدل میں بری طرح دھنس چکے ہیں کسی ایک حکومت کے بس کا کام نہیں کہ وہ قرضوں کے بوجھ تلے بری طرح دبے ملک کو باہر نکال سکے،
وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ عمران خان نے تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیااور اس قرض کی وجہ سے پاکستان کی حکومت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہوئی بلاشبہ ہم اِس کی تردید نہیں کرتے مگر سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ کونسی حکومت نے قرض نہیں لیا اور پہلے سے موجود قرضوں میں اضافہ نہیں کیا، اب سابقین کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے قومی سطح پر اِس دلدل سے باہر نکلنے کی ترکیب تلاشی کرنی چاہیے مگر یہ تبھی ممکن ہے جب ہمارے ملک میں سیاسی استحکام ہوگا اور سیاسی قائدین ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کریں گے۔ موجودہ نئی حکومت سیاسی اور معاشی مسائل سے بری طرح دوچار ہے مگر اِس کا بظاہر کوئی آسان حل نظر نہیں آرہا اوپر سے بعض سیاست دانوں کے بیانات سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا رہے ہیں تو پھر یہی سمجھا جائے کہ سیاست اور صرف سیاست ہی ہوتی رہے گی اور ہم سری لنکا اوردوسرے ملکوں کی صورتحال دیکھ کر بھی خوفزدہ نہ ہوں گے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ ملکی معاشی صورتحال میں کسی بھی جماعت کو عوام کے سامنے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں رواں کرنے کے دعوے نہیں کرنے چاہئیں کیوں کہ ایسا ممکن ہے اور نہ ہی ہماری معشیت میں اتنی سکت ہے اِس لیے فی الحال یہ تمام دعوے پٹاریوں میں رکھ کر اُس وقت کے لیے محفوظ کرلیے جائیں جب ہم معاشی اور سیاسی بحرانوں سے آزاد ہوجائیں گے۔ آج ہر طرف سے یہی صلاح دی جارہی ہے کہ فوری انتخابات کے ذریعے نئی منتخب حکومت کو اِس معاشی بحران سے نمٹنے کا موقعہ فراہم کیا جائے اور باقی تمام سیاسی جماعتیں اِس کی مکمل مدد کریں وگرنہ اُس کو دلجمعی سے آئینی مدت پوری کرنے دیں تاکہ قوم کو دعویداروں کی صلاحیتوں کا پتا چل سکے،
لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ اگر سیاسی قیادت موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے فوری عام انتخابات کے انعقاد کا سوچتی ہے تو یقیناً یہ اچھا فیصلہ ہوگا کیوں کہ اِس فیصلے سے ایک تو سیاسی بحران کا خاتمہ ہوگا دوسرا نئی حکومت کو پورے مینڈیٹ اور دلجمعی سے معاشی مسائل سے نمٹنے کا موقعہ مل سکے گا۔ پاکستان مسلم لیگ نون ایک سے زائد بار ملکی باگ ڈور سنبھال چکی ہے، سنیئر وزرا کی ٹیم کے باوجود معاشی بحران اِس کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے اِس سے عامتہ الناس کو بخوبی سمجھ لینا چاہیے کہ عالمی سطح پر مہنگائی کی لہر کی وجہ سے ہم بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے مگر ہمیں قومی سطح پر اِس بحرانی کیفیت سے باہر آنے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی وگرنہ کوئی ایک جماعت کمزور معیشت اور مقروض ملک کے غریب عوام کو اِس عالمی معاشی بحران سے باہر نکال لے گی ایسا سوچنا بھی ممکن نہیں کیوں کہ تقسیم کی اِس سیاست میں نہ تو اقتصادی بحران حل ہو سکتا ہے اور نہ ہی سیاسی۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کی بجائے بحرانوں کا حل تلاش کیا جائے یہی ملک و قوم کی خدمت ہے اور یہی بحرانوں سے نمٹنے کی نیک نیت کوشش ۔ ہماری سیاسی قیادت ملک و قوم کو اِس معاشی اور سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے متحد و متفق ہوجائے تو یقیناً ہر کوشش بارآور ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button