ColumnHabib Ullah Qamar

مقبوضہ کشمیر میں نئی حد بندی کا متنازعہ فیصلہ .. حبیب اللہ قمر

حبیب اللہ قمر

مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد جموں کشمیر حدبندی کمیشن کی طرف سے نئی حد بندی کے تحت جموں کے لیے چھ اور وادی کشمیر کے لیے ایک سیٹ کا اضافہ کیا گیا۔ بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس رنجنا پرکاش ڈیسائی کی قیادت میں قائم حدبندی کمیشن نے رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر اسمبلی کی83 سیٹوں میںسات کا اضافہ کرکے نوے کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے چھ سیٹیں جموں کی بڑھائی گئی ہیں اور ایک سیٹ کا اضافہ وادی کشمیر کیلئے کیا گیا ہے۔ مقبوضہ جموں کی آبادی 44 فیصد ہے لیکن اسے سیٹوں میں 58 فیصد حصہ داری دی گئی ہے جبکہ 56فیصد آبادی والے کشمیر کو سیٹوں میں صرف 52فیصد حصہ دیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد حدبندی کمیشن کی اس رپورٹ پر کشمیری سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کو مکمل طور پر بے اختیاراور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازشوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ پاکستانی وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی سلامتی کونسل کے صدر اور سیکرٹری جنرل کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی حدبندی سے مسلم آبادی کی نمائندگی کم کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان کا یہ اقدام اقوام متحدہ چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اس لیے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو بھارت کے اس غیرقانونی اقدام کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کرنی چاہیے۔
مقبوضہ جموں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کے بعد سے بھارت کی سبھی حکومتوں کی کوشش رہی ہے کہ جنت اراضی کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کیا جائے تاکہ اگر بین الاقوامی دبائو کے نتیجہ میں کبھی رائے شماری کرنا بھی پڑے تو ہندوئوں کی اکثریت زیادہ ہو۔ اس کے لیے سب سے پہلے انہوںنے جموں میں مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کیااور یہاں کی مسلم آبادی کو ڈرا دھمکا کر ہجرت کرنے پر مجبور کیا جس کے نتیجہ میں ابھی تک وہاں مسلمانوں کی عزتیں و حقوق محفوظ نہیں ہیں جبکہ دوسری جانب وادی کشمیر میں آباد ہندوئوں کو سازش کے تحت جموں میں لاکر آباد کیا تاکہ یہاں ان کی آبادی زیادہ ہو۔ بھارت سرکار کی جانب سے یہ کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں کہ کشمیر میں ڈیوٹی کرنے والے لاکھوں ہندوستانی فوجیوں کو ریٹائرڈ ہونے کے بعد کشمیر میں ہی بسا دیا جائے اور ان کے لیے مختلف شہروں و علاقوں میں باقاعدہ سینک(فوجی) کالونیاں بنائی جائیں تاکہ ہندوئوں کی آبادی بڑھے اورہر شہر میں بہت بڑی تعداد میں ان تربیت یافتہ اہلکاروں کو بسا کر تحریک آزادی کچلنے میں بھی انہیں آسانی ہو۔بھارتی حکمرانوں کے ان مذموم عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35اے تھی جنہیں مودی سرکار کی جانب سے ختم کردیا گیا ہے ۔
اس قانون کی وجہ سے غیر کشمیریوں کو یہاں زمینیں و جائیداد
خریدنے، شہریت حاصل کرنے اور ووٹ وغیرہ ڈالنے کا حق حاصل نہیں تھا لیکن اب یہ ختم کر کے مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر بھارت کی دیگر ریاستوں میں نافذ قوانین کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ آسام، اروناچل پردیش،ناگا لینڈ، میزورام،سکم،آندھراپردیش، منی پور ، گوا اور دیگر ریاستوں میں بھی ایسے قوانین نافذ ہیں جن کی وجہ سے دوسری ریاستوں کے شہریوں کو یہاں جائیداد وغیرہ خریدنے کی پابندی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کا معاملہ چونکہ خالصتاً مسلمانوں کا ہے اس لیے مودی سرکاراپنا غاصبانہ قبضہ برقرار رکھنے، ہندوئوں کی آبادی بڑھانے اور جموں کشمیر کی مسلم حیثیت و شناخت ختم کرنے کی کوششیں کر رہی ہے اور اسے دوسری ریاستوں میں نافذ خصوصی قوانین نظر نہیں آتے۔ بھارت کی جانب سے جس طرح کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے پورا زور لگایا جارہا ہے اسی طرح کشمیر کی مسلم آبادی کو ہمیشہ کے لیے سیاسی طور پر بے وزن کرنے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ نام نہاد جموں کشمیر حدبندی کمیشن کا حالیہ فیصلہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔
مودی سرکار نے پانچ اگست 2019ء کو جب جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دفعات ختم کیں تو اسی وقت ہی کہا گیا تھا کہ جموں کشمیر کی نئی اسمبلی میں کل114نشستیں ہوں گی جن میں سے 90 نشستوں پر انتخابات ہوں گے، یعنی جموں کی تینتالیس اور وادی کشمیر کی سینتالیس سیٹوں پر انتخابات کروائے جائیں گے۔ اس موقع پر یہ بھی کہا گیا تھا کہ چوبیس سیٹیں آزاد کشمیر یا پاکستان کے زیر انتظام خطے کے لیے مخصوص ہوں گی۔ نام نہاد حدبندی کمیشن کی جانب سے اسمبلی حلقوں کے لیے جموں کشمیر کی آبادی کی بجائے رقبے کو معیار بناکر کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں کا رقبہ 26293مربع کلومیٹر اور وادی کشمیر کا رقبہ 15940 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے، اس لیے نئی حدبندی میں جموں کے لیے چھ سیٹوں کااضافہ کیا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس حوالے سے یو این کی باقاعدہ قراردادیں موجود ہیں لہٰذا بھارت کو کسی طور یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایک متنازعے علاقے میں اس طرح کے
اقدامات کرے لیکن بھارت کو چونکہ بین الاقوامی قوتوں اور اداروں کی درپردہ مکمل سرپرستی حاصل ہے ، اس لئے وہ ان مذموم حرکتوں سے باز نہیں آتا اور نام نہاد عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے ٹھیکیدار ملکوں کی طرف سے اسکا ہاتھ روکنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ اگر بھارت کے نام نہاد حدبندی کمیشن کی طرف سے رقبے کے لحاظ سے سیٹوں کے استدلال کو تسلیم کیا جائے توہندوستانی ریاست اترپردیش میں اسی سے زائد سیٹیں کم کرنا پڑیں گی، اسی طرح کئی دوسری ریاستیں ہیں جن میں بیسیوں کی تعداد میں سیٹوں میں اضافہ کرنا پڑیگا۔ آپ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کو دیکھ لیںتواس ایک شہر کی سات سیٹیں ہیں لیکن اگر رقبے کی حیثیت سے دیکھا جائے تو دہلی شہر کی بمشکل ایک سیٹ ہی بن سکے گی۔ اس ساری صورتحال سے پتا چلتا ہے کہ بی جے پی حکام کی جانب سے یہ کھیل محض کشمیر کا مسلم اکثریتی کردارختم کرنے اور مسلمانوں کی حیثیت کمزور کرنے کیلئے سب کچھ کیا جارہا ہے۔
بھارتی کمیٹی کی جانب سے نئی حدبندی پر کشمیری عوام میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے اور اس پر انہوںنے شدید احتجاج کیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی بھارتی کمیشن کی طرف سے نئی حدبندی رپورٹ کو مسترد کیا اور بھارتی ناظم الامور کو وزارت خارجہ بلا کراپنے اس فیصلہ سے آگاہ کیا ہے۔ بھارتی ناظم الامور کو دیے گئے مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت غیرقانونی قبضے والے جموں کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو حق رائے دہی سے محروم اور بے اختیار کرنا چاہتا ہے۔ جموں کشمیر کا تنازع بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ ایسے میںہندو آبادی کو غیر متناسب طور پر زیادہ انتخابی نمائندگی کی اجازت دینے کی کوئی بھی غیر قانونی، یکطرفہ اور شرارتی کوشش مسلم آبادی کو نقصان پہنچانے کے لیے جمہوریت، اخلاقیات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے تحت ہندوستان کی ذمہ داریوں کا مذاق اڑاتی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا درست ہے کہ نئی حدبندیوں نے بھارتی حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی اس دلیل کو توڑ دیاہے کہ اس کوشش کا مقصد مقامی آبادی کو بااختیار بنانا تھا تاہم، حقیقت میں نئی انتخابی حدود مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو مزید کمزور، پسماندہ اور تقسیم کر دیں گی۔ یہ صرف ایک اور کٹھ پتلی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرے گا جس کو بی جے پی اورآر ایس ایس اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھارتی حکومت کے اس متنازعہ فیصلے کے خلاف مضبوط اقدام اٹھائے اور دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کر تے ہوئے جموں کشمیر کی اصل صورت حال سے دنیا کو آگاہ کیا جائے تاکہ بھارت کے متنازعہ اور دہشت گردانہ اقدامات کے آگے بند باندھا جاسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button