ColumnRoshan Lal

قحط اور قحط الرجال ….. روشن لعل

روشن لعل

اس وقت ملک میں جس بہت بڑے مسئلے کو مناسب اہمیت نہیں دی جارہی وہ یہ ہے کہ ایک طرف سندھ کے مختلف علاقوں (خاص طو رپر ٹھٹھہ ، بدین اور سجاول جیسے اضلاع )میں موجود زرعی زمینیں پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہیںتو دوسری طرف سرائیکی بیلٹ کے چولستان اور ڈیرہ غازی خان جیسے علاقوں میں پانی کی شدید کمی کی وجہ سے مویشی موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ ریاست اور حکومتوںپر یہ واجب ہے کہ وہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح ان پسماندہ ترین علاقوں کے لوگوں کے حقوق کا بھی خیال رکھیں مگر افسوس کہ ریاست اور حکومتوںنے کبھی بھی ایسی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ واجب ذمہ داری وہ ہوتی ہے جسے بلا عذر پورا نہ کرنے والا جرمانے اور سزا کا مستوجب ٹھہرایا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں اس وقت پانی نہ ہونے کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو چکی ہیں اور مویشی مر رہے ہیں وہاں اگر پانی ناپید ہے تو سوچا جا سکتا ہے کہ پانی فراہم کرنے والے اداروں کے پاس پانی کی کمی کے حوالے سے کوئی نہ کوئی عذر ضرور موجود ہوگا۔ کسی قابل قبول عذر کی بجائے اگر پانی کی فراہمی پر مامور لوگوں کی انتظامی کوتاہیاں فصلوں کی تباہی اور مویشیوں کے مرنے کی وجہ ہیں تو پھر ضروری ہے کہ کوتاہیوں کے مرتکب لوگوں سے باز پرس اور جواب طلبی کی جائے۔

اگر کسی کو یاد ہو تو گزشتہ برس بھی صوبہ سندھ کے مختلف بیراجوں اور نہروں میں پانی کی کمی کے خلاف آوازیں اٹھیں تو راقم نے اس موضوع پر اعداد وشمار کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا تھا۔ گزشتہ برس مئی کے مہینے میں اگر سندھ کے مختلف بیراجوں پر پانی کی کمی 30 سے 50 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی تو ان دنوں 50 سے 80 فیصد کمی کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ پچھلے سال سندھ میں تو پانی کی کمی کے خلاف آوازیں بلند ہوئی تھیں مگر سرائیکی بیلٹ میں پانی ناپید ہونے کے متعلق کسی نے ایسے ہا ہا کار نہیں مچائی جس طرح اس برس دیکھنے میں آرہی ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے فصلوں کی تباہی اور مویشیوں کی ہلاکت پر متاثرہ علاقوں کے لوگ اگر بلک بلک کر اپنے رنج و الم کا اظہار کر رہے ہیں تو غیر متاثرہ علاقوں کے عوام کی طرف سے بھی ان کی حالت پر تشویش کا اظہار دیکھنے میں آرہا ہے ۔
مگر حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے سیاسی بیانیے میں اس رنج والم اور تشویش کا
عکس کہیں نظر نہیں آرہا ۔ہمارے اجتماعی سیاسی بیانیے میں اگر کچھ نظر آرہا ہے تو وہ غدار غدار کے نعرے ہیں اور بیرونی سازش کے الزمات ہیںیا پھر ان نعروں اور الزامات کی تردید ہے۔اس صورتحال میں یہ بات سمجھ نہیں آرہی اگر کسی کی کوتاہیوں کی وجہ سے لوگ پانی کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہیں تو اس کی جواب طلبی کس سے کی جائے۔یہاں ایک طرف سابقہ عمران حکومت کے وہ لوگ ہیں جو گزشتہ چار سال تک ملک کے سیاہ سفید کے مالک رہنے کے باوجود اس وقت ظاہر ہونے والی کسی خرابی کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں ، دوسری طرف تین ہفتے قبل بننے والی موجودہ حکومت ہے جس کے متعلق یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی کہ اس سے کیا پوچھا جائے اور کیا نہ پوچھا جائے۔ حکومتیں ، نئی یا پرانی ہو سکتی ہیں مگر ان کے ماتحت کام کرنے والے لوگ اور حکومتی ادارے نئے یا پرانے نہیں ہوتے بلکہ ایک تسلسل میں کام کرتے ہیں۔
موجود حکومت کے لوگوں نے اگرچہ تین ہفتے قبل اپنی ذمہ داریاں سنبھالی ہیں مگر انہیں یہ ادراک ضرور ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ماتحت محکموں کے لوگوں سے معلومات لے کر عوام کو آگاہ کر سکتے ہیں کہ اگر اس وقت مختلف علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے تو اس کی وجہ کسی کی غفلت اور کوتاہی ہے یا پھر موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے
ایسا ہوا ہے۔ یہ بات تصدیق شدہ تو نہیں مگرسننے میں آرہی ہے کہ گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی پانی کی کمی کی وجہ یہ ہے کہ ڈیموں میں زرعی ضرورتوں کے لیے ذخیرہ کیا گیا پانی ، پن بجلی بنانے میں صرف کردیا گیاہے ۔ پھر کہا جارہا ہے
کہ یہ بات تصدیق شدہ نہیں بلکہ سنی سنائی ہے ۔ گو کہ یہ بات سنی سنائی ہے مگر اس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے ۔ موجودہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کی تہہ تک پہنچے اور اگر یہ بات سچ ثابت ہوتو کم از کم آئندہ کے لیے ایسا ہونے کو ناممکن بنا دیا جائے۔
دیگر امکانات کی طرح اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ دریائوں اور نہروں میں اگر پانی ماضی کی نسبت انتہائی کم مقدار میں دستیاب ہے تو ایسا قدرت اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ سندھ میں پانی کی کمی کے متعلق تو یہ سوچا جاسکتا ہے مگر سرائیکی بیلٹ کے چولستانی علاقوں میں پانی کی کمی کے باعث مویشیوں کی ہلاکتوں کے لیے موسمیاتی تبدیلیوںکے علاوہ کسی اور امر کو ذمہ دار ٹھہرایا نہیں جاسکتا۔ ان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث رونما ہونے والی گرمی کی لہر کی وجہ سے چولستان میں جو صورتحال دکھائی دے رہی ہے اسے برملا قحط کہا جاسکتا ہے۔ یاد رہے قحط کی تعریف یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں پانی اس حد تک کم ہو جائے کہ انسانوں اور جانوروں کی پینے کی ضرورتوں کے لیے بھی میسر نہ رہے اور پانی کی کمی کی وجہ سے خوراک کی دستیابی بھی ناممکن ہو جائے تواس صورتحال کو قحط کہتے ہیں۔ قحط ایک قدرتی امر ہے اور قدرتی آفتوں میں شمار ہوتا ہے ۔
دیگر قدرتی آفتوں کی طرح قحط کے ظہور میں بھی براہ راست انسانی کوتاہیوں کا عمل دخل نہیں ہوتا لیکن قحط سے پہلے اور قحط کے دوران اس آفت سے متاثرہونے والے لوگوں کو قحط کی آمد سے آگاہ کرنا اور ان کی مدد کرنا حکومتوں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ضرور ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے 2004 سے National Drought Monitoring Center (NDMC)کے نام سے ایک ادارہ موجود ہے ۔ اس ادارے کی ذمہ داری ہے اگر کسی علاقے میں قحط کا امکان نظر آئے تو وہ فوری طور پر حکومت کو آگاہ کرے۔ چولستان میں قحط کا امکان موجود تھا اور این ڈی ایم سی نے اپریل میں جاری کردہ اپنے بلیٹن میں چولستان سمیت پاکستان کے کچھ علاقوں میں قحط کی پیش گوئی کردی تھی۔اس پیش گوئی کے بعد ضرورت تو اس امر کی تھی کہ قحط کے امکان کی زد میں موجو د علاقوں کے لوگوں کو ان کے مال مویشیوں سمیت وہاں سے ایسی جگہ منتقل کیے جانے کا انتظام کیا جاتا جہاں ان کے مویشی پیاس سے مرنے سے محفوظ رہتے ۔ مگر پاکستان میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ جن لوگوں کے مویشی مرگئے ہیں ان کی تو اپنی جان بچانا بھی کسی حکومت یا ادارے کی ترجیحات میں شامل نہیں ۔ یاد رہے کہ یہاں پانی کے قحط کے ساتھ ساتھ احساس کا قحط الرجال بھی موجود ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button