Editorial

انتخابی اصلاحات مگر فریقین کی مشاورت

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اورقائدمسلم لیگ(ن)میاں محمد نوازشریف کے درمیان ملاقات میں اتفاق پایاگیاہےکہ ملک میں فوری انتخابات کاکوئی امکان نہیں، پہلے اصلاحات لائی جائیں گی پھرالیکشن ہوں گے اور آئینی اصلاحات کا عمل جلد مکمل کیا جائے دوسری طرف اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے انتخابی اصلاحات کے بعد الیکشن پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے گیم پلان میں انتخابی اورنیب اصلاحات کرناشامل ہے، نواز شریف کو سمجھایا کہ جب تک انتخابی اصلاحات نہیں ہو جاتی ،انتخابات میں نہیں جائیں گے، خواجہ آصف کا بیان اپنی جگہ لیکن اصلاحات کے بعد انتخابات ہوں گے۔ ایک ہی دن میں عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق موقف وزیر دفاع خواجہ آصف کا بھی موقف سامنے آیا
انہوںنے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں امکان ظاہر کیاکہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل انتخابات کروا ئے جاسکتے ہیں تب تک نگران حکومت ہوگی اوریہ بھی ہوسکتا ہے کہ نومبر سے پہلے ہی نگران حکومت چلی جائے اور نئی حکومت آجائے۔ حکومت کا حصہ دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے عام انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی عام انتخابات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا جو اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے، پس امکان ہے کہ رواں سال کے اختتام سے قبل ہی عام انتخابات کا انعقاد مکمل ہوجائے اور نئی حکومت 2023کا نیا سورج دیکھے۔ دونوں بڑی جماعتیں عام انتخابات سے قبل آئینی اور انتخابی اصلاحات لانا چاہتی ہیں چونکہ پاکستان تحریک انصاف استعفے دیکر قومی اسمبلی سے باہر آچکی ہے
اِس لیے یقیناً حکمران جماعت اور اتحادیوں کو آئینی و انتخابی اصلاحات لانے اور اِن کی منظوری کے لیے کسی کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہوگا اور آسانی سے اصلاحات منظورکرلی جائیں گی مگر توجہ طلب گذارش ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف اِن اصلاحات اور اِن کے تحت ہونے والے عام انتخابات کو قبول کرے گی اور نتائج اپنے حق میں نہ آنے کی صورت میں نتائج کو مسترد نہیں کردے گی؟ تحریک عدم اعتماد کا شکار ہونے کے بعد سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی فوری انتخابات کا مطالبہ لیکر ایوانوں سے باہر میدانوں میں ہے، پی ٹی آئی کی قیادت فوری انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے کہ اُسے ہمدردی کا ووٹ بھی ملے گا لیکن مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی انتخابی عمل میں اصلاحات کے بعد ہی انتخابات کا انعقاد چاہتی ہیں جیسا کہ قائدین نے واضح طور پر کہہ بھی دیا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات کے معاملے پر تمام سٹیک ہولڈرز یعنی الیکشن کمیشن سمیت تمام سیاسی اور انتخابی عمل میں حصہ لینے والی مذہبی جماعتوں کا متفق ہونا ضروری ہے وگرنہ ہمیشہ کی طرح تمام تر کوششوں اوردن رات کی محنت کے باوجود انتخابی عمل کو غیر شفاف قراردینے میں ایک پل کی تاخیر نہیں ہوگی اور ایک بار پھر نئی حکومت کے خلاف اُسی طرح حزب اختلاف کے کارواں نکل پڑیں گے جیسے ہمیشہ سے نکلتے آئے ہیں اور پی ٹی آئی کی حکومت کو بھی پونے چار سال تک
’’سلیکٹڈ‘‘جیسے طعنے سننا پڑے جبکہ اِس سے پہلے انتخابات کو آراوز کے انتخابات کہا جاتا رہاکیوں کہ بدقسمتی سے ہماری ملکی سیاست میں ایک دوسرےپر عدم اعتماد اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے اور بسا اوقات نظر بھی آتا ہے کہ غیر ضروری طور پر مخالفت برائے مخالفت کی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے ملک و قوم کے لیے ناگزیر چیزوں کے معاملے پر بھی مخالفت کی جاتی ہے
ایسا ہی کچھ سلوک ہماری سیاسی جماعتوں نے انتخابی عمل میں اصلاحات کے ساتھ بھی کیا ہے، آج تک کسی حزب اختلاف نے حزب اقتدار کی طرف سے پیش کی گئی انتخابی اصلاحات کی تائید و توصیف نہیں کی شاید اِس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ تائید کی صورت میں انتخابی عمل کی شفافیت اور اپنی شکست کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی لیکن اِس سے قبل مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی ہی ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں تھیں جو ایک دوسرے کے مدمقابل انتخابی میدان میں اُترتی تھیں، تاریخ دیکھی جائے تو دونوں جماعتوں نے انتخابات میں اپنی شکست کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم نہیں کیا اور صرف وہی انتخابات صاف و شفاف قرار دیئے جن کے ذریعے اُنہیں اقتدار میں آنے کا موقعہ ملا۔ کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ حزب اختلاف نے کبھی حزب اقتدار کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا اور پہلے روز سے ہی سڑکوں پر آکر حکومت کو دھاندلی کی پیداوار قرار دیااور جب صورتحال ناقابل برداشت ہوتی تو حکمران جماعت حزب اختلاف کو انتخابی عمل میں اصلاحات کی پیشکش کرتی لیکن کبھی حزب اختلاف نے اصلاحاتی عمل میں حصہ نہیں لیا اور ایسا ایک بار نہیں بلکہ ایک سے زائد بار ہوچکا ہے کہ حزب اختلاف کے طور پر کوئی بھی جماعت انتخابی اصلاحات کو ایوان کے اندر اور باہر تسلیم نہیں کرتی۔ 2018کے عام انتخابات سے قبل قومی اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے تین برس کی مسلسل کوشش کے بعد انتخابی عمل کے بارے میں اصلاحات کے بل کی منظوری دی لیکن پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کا بائیکاٹ کر کے اس عمل سے اپنے آپ کو الگ کر لیاپھر برسراقتدار آنے کے بعدپاکستان تحریک انصاف نے اپنی انتخابی اصلاحات متعارف کرائیں تو صرف حزب اختلاف ہی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی بعض چیزوں کو مسترد کردیا ،
بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور پولنگ کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی تو موجودہ حکمران اتحاد نے تب بطور حزب اختلاف کھل کر مخالفت کی حالانکہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کی جانب سے حزب اختلاف کو بارہا دعوت دی گئی مگر حزب اختلاف کی طرف سے پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد حکومت نے عددی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سمیت کئی ایک کی منظوری دے دی لیکن حزب اختلاف نے اُن اصلاحات کو یکسر مسترد کردیا جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے بھی اُس وقت پاکستان تحریک انصاف کی بعض اصلاحات سے اختلاف کیا گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکمران اتحاد جس میں دیگر سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں اگر مشاورت کا دائرہ وسیع کرے اور اِس میں تمام سٹیک ہولڈرز شامل کیے جائیں اور سبھی اُن اصلاحات پر متفق ہوں تبھی یہ بیل منڈھے چڑھے گی وگرنہ سیاسی عدم استحکام اور انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے کی روش ہمیشہ کی طرح برقرار رہےگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button