Ali HassanColumn

 جلد انتخابات کا مطالبہ … علی حسن

علی حسن

عمران حکومت تو اپنی مدت پوری کئے بغیر ہی اسلام آباد سے رخصت ہو گئی اور حکومت کی باگ ڈور عمران خان مخالف سیاسی عناصر کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ ابتداء میں سبھی کا خیال یہی تھا کہ پارلیمنٹ کو اپنی مدت پوری کرنا چاہیے ۔ مطلب یہ کہ اس دوران جو بھی حکومت ہے وہ ہی برقرار رہے۔ عمران خان نے قومی اسمبلی سے اپنے اراکین کو مستعفی کرایا جس کا فیصلہ ہنوز نہیں ہو سکا۔ تحریک انصاف کے کئی اراکین بھی استعفیٰ دینے کے حق میں نہیں اور اسمبلی میں بیٹھنا چاہتے ہیں۔ اسمبلی میں رہنے کی صورت میں وہ اپنے حلقوں میں کچھ نہ کچھ کام کرا سکتے ہیں۔ دوم اسمبلی میں موجود رہنے سے مالی منعفت کے تقاضے بھی پورے ہوتے ہیں۔ اسی دوران ایک سے زائد آرا آئی تھیں کہ انتخابات فوری کرائے جائیں، انتخابات پارلیمنٹ کی مدت ختم ہونے پر کرائی جائیں۔مولانافضل الرحمان ملک کی صدارت کے امیدوار تھے لیکن جب ان کی تمنا پوری نہ ہو سکی تو انہوں نے بھی فوری انتخابات کے حق میں رائے دی جیسی نون لیگ کی رائے ہے۔ نون لیگ کی رائے میں تبدیلی بھی ہوتی رہتی ہے۔ نون لیگ عمران خان کے جلسوں میں ان کے سامعین کی تعداد دیکھنے کے بعد رائے تبدیل کرتی ہے۔ آصف علی زرداری توپارلیمنٹ کی مدت کے بعد ہی انتخابات کے انعقاد کی رائے رکھتے ہیں۔ وہ پنجاب میں نون لیگ کے ساتھ سیٹوں کے معاملے پر حتمی فیصلہ لینا چاہتے ہیں۔ نواز شریف بلاول بھٹو کو ملاقات میں ایک اور میثاق کے تحت جمہوریت کی خاطر حکومت سازی کی نوید سنا چکے ہیں لیکن میثاق جمہوریت کرنے والی خواہش تو اپنی جگہ لیکن لندن میں دست خط کئے جانے والے سابقہ میثاق پر عمل در آمد نہیں کرا سکے تھے ۔ اب تو نون لیگ سمجھتی ہے کہ پنجاب کی عوام میں نون لیگ مقبولیت حاصل کررہی ہے اس لیے وقت کا تقاضہ ہے کہ انتخابات فوری ہو جائیں۔ فوری انتخابات کا مقصد یہ ہے کہ نون لیگ کو زیادہ نشستیں مل جائیں گی جو اسے تن تنہا حکومت سازی میں مدد دے گی اور وزیر اعظم بھی اپنا ہی منتخب کرا سکے گی۔ نون لیگ اور تحریک انصاف آئندہ قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کی خواہش رکھتے ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی میں پاور شیئرنگ اور وزارتوں کی تقسیم کا معاملہ تاحال حل نہیں ہو سکا ۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے درمیان پاور شیئرنگ اور وزارتوں کی تقسیم کے حوالے سے اتوار کے روز ہونے والی ملاقات ناگزیر وجوہات پر منسوخ ہوگئی تھی۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے رہنما سید حسن مرتضیٰ کے مطابق دونوں جماعتوں کی لیڈرشپ کی اسلام آباد میں ملاقات متوقع ہے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر
اطلاعات مریم اورنگزیب کی رائے ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی لیکن اسحاق ڈار کا بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے مریم اورنگزیب، شاہد خاقان عباسی اور الیکشن کمیشن سے الگ رائے رکھتے ہوئے اکتوبر میں عام انتخابات کا عندیہ دیا ہے۔ان کا بیان ایک طرح سے نون لیگ کے تاحیات قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیانیے کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلیوں کو اپنی حکومت پوری نہیں کرنی چاہیے اوراکتوبر تک نئے انتخابات کی جانب جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈیڑھ سال کے لیے نہیں آئے ہمیں جلد انتخابات کی جانب جانا ہوگا۔ ہم بالکل مخلص ہیں کہ ہمیں ضروری اقدامات کرنے ہیں اور اس کے بعد الیکشن کی جانب جانا ہے۔ ضروری اقدامات کے ضمن میں انتخابی اصلاحات شامل ہیں، جو بقول ان کے ملک کے مفاد میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے اتحادی سمجھتے ہیں کہ انہیں ڈیڑھ سال حکومت میں رہنا ہے۔ٹھیک ہے کہ الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ معمول کے حالات کے باوجود بھی انتخابات اکتوبر میں ہوسکتے ہیں مگر جب ہم سب بھی کہتے رہے ہیں کہ الیکشن چوری کا تھا تو پھر ہمیں نیا مینڈینٹ لینے کی طرف جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ان کی ذاتی رائے ہے ، میاں نواز شریف بھی جلد از جلد فری اینڈ فیئر الیکشن کرانے کے حق میں ہیں تاکہ عوام کو موقع ملے کہ وہ اپنی مرضی کے نمائندے چنیں۔اس سے قبل سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ملک میں جلد انتخابات کے حق میں تھے مگر اب ان کی ذاتی رائے یہ ہے کہ حکومت کو اگست 2023 تک اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔22 اپریل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ ملک میں عام انتخابات حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد ہوں گے۔
ایک جانب حکومت مدت پوری کرے یا فوری انتخابات کی طرف جانے کا مسئلہ در پیش ہے لیکن عمران خان اور نون لیگ تو ایک طرح سے انتخابی مہم کی سرگرمی سے مصروف ہیں۔ جلسوں میں شعلہ بیانی وہ سب کچھ کہلوادیتی ہے جو عام طور پر نہیں کہا جاتا۔ ان جلسوں میں کی جانے والی بعض تقاریرکی وجہ سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ مسلح افواج کو سیاسی گفتگو میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔افواج کو ملکی بہترین مفاد میں سیاسی گفتگو سے دور رکھیں۔توقع ہے سب قانون کی پاسداری کریں گے، غیر مصدقہ اشتعال انگیز بیانات انتہائی نقصان دہ ہیں‘‘۔
سیاسی رہنما بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کی معاشی صورت حال نا گفتہ بہ ہے۔گزشتہ کئی سالوں سے لندن میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کئے ہوئے نواز شریف دور کے ایک سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے ملک کے یہ حالات پچھلی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ ڈالر 187روپے کا نہ ہوتا تو مہنگائی بھی کم ہوتی، پی ٹی آئی نے روپے کا بیڑہ غرق کرنے کے لیے اسے کھلا چھوڑ دیا، ڈالر 187روپے ہونا مانیٹری اور فزکل پالیسی کی ناکامی تھی، پچھلی حکومت ریونیو نہیں بڑھا سکی، ملکی اخراجات میں 35فیصد سالانہ اضافہ ہوا اس کی وجہ سے قرضوں کا انبار لگ گیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھا کر ایک دم عوام پر بوجھ نہیں ڈال سکتے،پی ٹی آئی نے روپے کا بیڑہ غرق نہ کیا ہوتا تو آج پٹرول پر سبسڈی کی ضرورت نہ پڑتی، پچھلے حکمرانوں کی پالیسی کی سزا عوام کو نہیں دے سکتے،آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھائیں مگر یہ حل نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کو پتا تھا کہ وہ حکومت سے جارہے ہیں اس لیے انہوں نے پٹرولیم قیمتوں میں کمی کی۔
اطلاعات ہیں کہ جہانگیر ترین نے موجودہ سیاسی بحران میں فی الحال خاموشی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جہانگیر ترین آئندہ سیاسی اقدامات کے حوالے سے تاحال کوئی بھی حتمی فیصلہ نہ لے سکے ۔ امیر ِ جماعتِ اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ موجودہ اور سابقہ حکومت میں کوئی فرق نہیں، 10 اپریل کو نظام نہیں پہرے دار بدلا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کل بھی مافیاز کی حکومت تھی، آج بھی اربوں کمانے والے حکومت میں ہیں۔ ملکی قرضہ 51 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور وزیرِ خزانہ آتے ہی آئی ایم ایف کے پاس مزید قرض لینے پہنچ گئے۔یہ حکومت پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں مزید بڑھانے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button