Columnعبدالرشید مرزا

معاشی ترقی کا روڈ میپ … عبدالرشید مرزا

عبدالرشید مرزا

(پہلا حصہ )
وطن عزیز معاشی بحران کا شکار ہے اور سات کروڑ ستر لاکھ عوام غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے۔ دوکروڑ چالیس لاکھ بچے غربت کی وجہ سے سکولوں سے باہر ہیں۔ پاکستان 127 بلین ڈالر کا مقروض ہے۔ بھوک اور افلاس کی وجہ سے حوا کی بیٹی اپنی عزت نیلام کرکے بچوں کا پیٹ پالنے پر مجبور ہے۔ سرمایہ دارانہ معاشی نظام نے غریب کو غریب تر کر دیا ہے۔ سترلاکھ سے زائد نوجوان بے روزگار ہیں۔ جی ڈی پی انڈیا اور بنگلہ دیش سے بھی کم ہے۔ پاکستان کی اقتصادی ترقی کا انحصار اس کی برآمدات پر ہے جس سے درآمدات کی مالی اعانت، خدمات کے قرضے، اپنی کرنسی کو مستحکم کرنے اور اس کے توازن کے خسارے کے مسلسل مسئلے پر قابو پانے کے لیے غیر ملکی آمدنی حاصل کی جاتی ہے۔

کسی ملک کی برآمدات مارکیٹ کے رجحانات اور معیار کے مطابق اور بین الاقوامی طور پر قابل قبول معیارات پر تصدیق شدہ ہونی چاہئیں۔ بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی تین پوائنٹس کم ہونے کے بعد 124 سے گِر کر 140 تک پہنچ گئی ہے۔ گذشتہ گیارہ برسوں میں یہ پاکستان کی سب سے بُری درجہ بندی رہی ہے۔ آج وطن عزیز کو تنقید سے زیادہ ضرورت معاشی ترقی کے روڈمیپ کی ہے تاکہ ملک ترقی کرے تودنیا پاکستان میں ویزا لینے کو ترسے سرمایہ دار سے پیسہ غریب کو منتقل ہو جیسے علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا، خضر کا جواب ایک پیغام کی صورت بندہ مزدور کے نام کچھ یوں ہے؛

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
اٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

ماہر اقتصادیات ہونے کے ناطے ایک مزدور کو دیکھتا ہوں جس کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کرسکتا، تین وقت کا کھانا نہیں کھا سکتا، کوڑے کے ڈھیر سے اپنا رزق تلاش کرتا ہے دوسری طرف زرداریوں کے گھوڑوں کو آسائشات میسر ہیں۔ ایسے میں علامہ محمد اقبالؒ کے اشعار سامنے آتے ہی دل بھر جاتا ہے

اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امراء کے درو دیوار ہلا دو
سلطانیء جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہء گندم کو جلا دو

غریب کی بھوک اور ملک کے معاشی بحران نے مجبور کیا ہے کہ پاکستان کو معاشی ترقی کے لیے روڈ میپ دیا جائے تاکہ ہمارا ملک جس کی آزادی کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانی دی وہ دنیا کی قیادت کرے، یہ روڈ میپ پاکستان کو معاشی ترقی کے راستے پر گامزن کرے گا۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ ایک انتہائی قابل سیاست دان ہونے کے ساتھ ساتھ اقتصادی حالات سے بھی مکمل طور پر آگاہ تھے اورپاکستان کی اقتصادی پالیسی کے بارے میں گاہے بگاہے اظہار خیال کرتے رہتے تھے۔ آپ کی تقاریر و بیانات سے یہ امر واضح ہے کہ آپ جاگیرداروں اور سرمایہ داری نظام کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔ قائداعظمؒ کے تصور مملکت کا جائزہ لیتے وقت ایک بنیادی نقطہ یہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ آپؒ کے نزدیک قائم ہونے والے پاکستان میں غرباء کے لیے معیارِ معیشت بلند ہونا تھا۔ قائداعظمؒ پاکستان کے اقتصادی نظام کو اسلام کے غیر فانی اصولوں پر ترتیب دینا چاہتے تھے یعنی ان اصولوں پر جنہوں نے غلاموں کو تخت و تاج کا مالک بنا دیا تھا۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ قائداعظمؒ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم بنانے کے خواہش مند تھے اور پاکستان کے قیام کا ایک مقصد مسلمانوں کی اقتصادی ترقی بھی تھا اور گیارہ اگست 1947ء کی تقریر میں آپؒ نے فرمایا کہ:-
”اگر ہم اس عظیم مملکت کو خوش اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اور بالخصوص غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرنی پڑے گی۔“

یہ ملک مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر بننے والی دوسری بڑی ریاست ہے لیکن افسوس پاکستان کا معاشی نظام سود ہے، آج وطن عزیز میں پیدا ہونے والا ہربچہ دو لاکھ کا مقروض ہے۔پاکستان میں شرح سود 12.25 فیصد ہے جو معیشت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ شرح سود کی بلند سطح ملک میں سرمایہ کاری، سٹاک مارکیٹ میں مندی اور مہنگائی کی وجہ بنتی ہے۔ ملک کی ترقی کے لیے سب سے پہلا قدم غیر سودی معیشت کا آغاز ہوگا تب ہم غلامی سے باہر نکل سکیں گے۔

ٹیکس فری زونز کا قیام معاشی ترقی، بیروزگاری، غربت اور مہنگائی کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ملکی آمدنی میں اضافہ سودسے چھٹکارے کا سبب بنے گااور یہ زونز اس طرح ترتیب دیئے جائیں جیسے وہاڑی، بوریوالہ کے قریب ٹیکسٹائل انڈسٹری لگانے سے خام مال اور لیبر سستی ملے گی کیونکہ پاکستان میں سب سے زیادہ کپاس اسی علاقہ میں ہوتی ہے۔سیمنٹ انڈسٹری کے لیے خام مال ٹیکسلا کے مقام پر مل سکتاہے۔ بچوں کے کھانے والی مصنوعات جیسے چپس آلو سے بنتی ہے تو آلو اوکاڑہ ضلع میں سستا اور اچھا میسر ہے، اسی طرح آم کی فصل جنوبی پنجاب اور سندھ میں زیادہ ہوتی ہے وہاں مینگو جوس فیکٹریز لگائی جاسکتی ہیں ان علاقوں میں ایف بی آر کو ٹیکس کی 10 سال کے لیے چھوٹ دینی چاہیے ۔پاکستان میں فوری طور پر غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرتے ہوئے وزیراعظم ہائوس اور ایوانِ صدر میں سادگی اختیار کرنا ہوگی۔

کرپشن ہماری ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں قریباً 5ہزار ارب کی سالانہ کرپشن ہوتی ہے۔ اگر ایف بی آر، کسٹمز، پی آر اے کے افسران بالا اورپارلیمنٹیرینز کرپشن چھوڑ دیں تو پاکستان کا سالانہ ریوینیو 300فیصد بڑھ جائے گا جس سے غربت ختم ہو گی اور قرض بھی ادا ہو جائے گا۔

معاشی ترقی کے لیے پیداواری اشیاء کا سستا ہوناضروری ہے تاکہ عالمی منڈی میں فروخت ہوسکیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں کم ہوں لیکن پاکستان میں بجلی اور گیس کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اس کا حل یہی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پرہائیڈرو پاور منصوبوں کی تعمیر مکمل ہوتاکہ تھرمل پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوار کا استعمال کم ہو اور بجلی سستی دستیاب ہو۔

پاکستان زرعی ملک ہے لیکن اس شعبے کو توجہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا کل رقبہ 79.6ملین ایکڑ ہے جس میں سے 23.7ملین ایکڑ، زرعی رقبہ ہے جو کُل رقبے کا 28فیصد بنتا ہے۔اس میں سے بھی 8ملین ایکڑ
رقبہ زیرِ کاشت نہ ہونے کے باعث بے کار پڑا ہے، جس کی اصل وجہ پانی کی فراہمی کا نہ ہونا ہے۔ اس شعبے سے بھی برآمدات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اچھا بیج، کھاد کی فراہمی، کسانوں کو فصل کی بہتری کے لیے مشورے فراہم کرنا، نئے نئے طریقے سے متعارف کروانا جیسے آسٹریلیا، امریکہ اور ایسے ممالک میں رائج ہیں جہاں فی ایکڑ پیداوار پاکستان سے 3 سو فیصد زیادہ ہوتی ہے ساٹھ، ستر اور اسی کی دہائی میں پاکستان زرعی شعبے کا نیٹ ایکسپورٹر تھا یعنی درآمد سے زیادہ برآمد کیا کرتا تھا اور اب ہمیں ساڑھے تین ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے۔ سال قبل پاکستان نے ایک کروڑ چالیس لاکھ کاٹن بیلز پیدا کی تھیں جو اس وقت انڈیا کی پیداوار سے بھی زیادہ تھی اس کے بعدپیداوار میں مسلسل تنزلی دیکھنے میں آئی اور آج حالت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ پاکستان بمشکل 70 لاکھ کاٹن بیلز کی پیداوار حاصل کرنے کے قابل ہوا ہے۔ گندم بیس سال پہلے درآمد کی گئی تھی اور جب پاکستان اس کی پیداوار میں خود کفیل ہو گیا تو یہ سلسلہ روک دیا گیا۔

مقامی پیداوار ضرورت کے لیے کافی رہی تاہم اب گندم درآمد کرنا پڑ گئی تاکہ مقامی طور پر ضرورت کو پورا کرنے کے علاوہ قیمتوں کو بھی مستحکم کیا جاسکے۔ ہماری کپاس کی 10لاکھ بیلوں کی قیمت ایک ارب ڈالر ہے جبکہ چائنہ اتنی ہی بیلوں کی قیمت 4 ارب ڈالر وصول کرتا ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ ان کی مصنوعات میں اضافی قدر شامل ہوتی ہے۔ اگر ہم 10لاکھ بیلوں کی قیمت 4 ارب ڈالر مقرر کریں تو ہم صرف ٹیکسٹائل کے شعبہ میں 140 لاکھ بیلوں سے اضافی قدر کی مد میں 45 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف حاصل کر سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ صنعتوں کو سبسڈی مہیا کرے جس سے درآمدات کی بجائے برآمدات اور اس کی قیمت میں بھی اضافہ ہو اور یہ شعبہ ملکی ترقی کا سبب بنے گا۔  (جاری ہے )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button