تازہ ترینخبریںکاروبار

وزیر توانائی خرم دستگیر کا بجلی کی قیمت بڑھانے کا عندیہ

لاہور ٟ علی فاروق ملک ٞ وفاقی وزیر برائے توانائی انجینئر خرم دستگیر خان نے بجلی کی قیمتوں میں وقتی طور پر اضافے کا عندیہ دے دیا ہے۔ حکومت غیر ترقیاتی اخراجات میں نمایاں کمی کرنے جارہی ہے۔ سادگی کو عملی طور پر اپنانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ یہ بالکل بے بنیاد اور جھوٹا تاثر ہے کہ عمران خان روس سے سستی گیس اور پٹرول لے رہا تھا۔ اس طرح کا کوئی معاہدہ یا کاغذ سامنے نہیں آیا ۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات اور کوئلے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے بجلی کی قیمت فوری طور پر بڑھ سکتی ہیں تاہم بجلی کو سستا کرنے کے لئے لانگ ٹرم منصوبے بنائیں گے۔ اس وقت صرف پن بجلی اور سولر ٹیکنالوجی سستی ہے۔ سولر ٹیکنالوجی کے حوالے سے عوام کو سہولت فراہم کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لیسکو ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری پاور ڈویږن مصدق احمد خان، چیف ایگزیکٹو لیسکو محمد امین اور ڈائریکٹر ایڈمن میاں محمد افضل بھی موجود تھے۔ خرم دستگیر خان نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن نے جب مئی 2018 میں حکومت چھوڑی تھی اس وقت گردشی قرضے1040 ارب روپے تھے جس کے بعد عمران خان کی نااہل حکومت کے دوران گردشی قرضے ڈبل سے بھی زیادہ کر 2400 ارب تک پہنچ گئے۔ گردشی قرضوں کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے ناگزیر ہیں۔ فی الوقت حکومت عذاب عمرانی سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمرانی حکومت نے لوڈشیڈنگ سے نمٹنے کے لیے ایندھن نہیں خریدا جس کی وجہ سے حکومت کو اقتدار میں آتے ہی بجلی کے بڑے شارٹ فال کا سامنا تھا۔ شہباز حکومت آئی تو 8 سے 10 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا تھا ۔ عمرانی عذاب میں بدانتظامی اور مافیاز کی سرپرستی کی وجہ سے بجلی کا بحران پیدا ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ تیس فیصد سے کم لاسز والے فیڈرز پر صفر لوڈشیڈنگ ہے ۔ لیسکو میں تیسری اور چوتھی کیٹیگری میں بھی لوڈ شیڈنگ صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کی شکایات کا فوری ازالہ اولین ترجیح ہے۔ بلوں کی وصولی دوسری جبکہ کارکنوں کی جانوں کا تحفظ تیسری بڑی ترجیح ہے ۔ پورے نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے پلاننگ کی ہدایت کی ہے۔ جدید میٹرز کی تنصیب کی جائے گی۔ دس دن کے اندر نئے گھریلو کنکشن کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں 7104 میگاواٹ کے پلانٹس ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑے تھے فرنس آئل، ایل این جی حاصل کرکے بند پلانٹس چلائے اور پن بجلی کی پیداوار بڑھائی جس کے بعد یکم مئی سے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کردی۔ حکومت عمرانی کا خاتمہ ہوگیا لیکن عذاب عمرانی کے اثرات ابھی بھی باقی ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button