ColumnNasir Sherazi

جَھرلو …… ناصر شیرازی

ناصر شیرازی
دنیا بھر میں جو ملک پس ماندہ ہیں یا ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں، ان کے ہاتھ میں مغرب اور بالخصوص ترقی یافتہ ترین سات ممالک نے جمہوریت کا لالی پاپ تھمادیا ہے، انہیں باور کرایاگیا ہے کہ تمام ترقی جمہوریت کے سبب ہے اور اس کا پہلا زینہ آزادانہ و منصفانہ انتخابات ہیں، انہوں نے اپنے یہاں میک اپ سے آراستہ وہ پیراستہ جمہوریت دنیا کے سامنے سجا رکھی ہے جبکہ پس پردہ ان کے یہاں بھی جھرلو نظام ہی چل رہا ہے، جمہوریت کے پہلے زینے یعنی انتخابات میں وہاں بھی جھرلو چلتا ہے اورخوب چلتا ہے، دو مثالیں تو ابھی کل کی بات ہیں، لہٰذا سب کو یاد ہوں گی، پاکستان بھی اسی دنیا کا حصہ ہے، یہاں بھی انتخابات اسی طرح ہوتے ہیں، جانے والی حکومت ایک نگران سیٹ اپ دیا کرتی تھی جو انتخابات کراتی اور جیتنے والوں کو حکومت منتقل کرتی، سیاسی جماعتوں کے مابین کشیدگی بڑھی تو پھر انہوں نے آپس میں طے کیا کہ نگران حکومت میں عہدیدار مشاورت سے لگائے جائیں گے، یوں اب ٹرم ختم کرنے والی حکومت اور اپوزیشن دونوں باہم مشورے سے ان کا تعین کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی اور مرکزی وزیر وسابق وزیراعلیٰ سندھ جتوئی صاحب نگران وزیراعظم بنائے گئے تو اُس زمانے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوچکی تھی۔
بینظیر بھٹو اپنے سیاسی انکلز کو خود سے دور کرچکی تھیں جن میں جتوئی صاحب بھی شامل تھے، پس ان کی اسی دوری کو مسلم لیگ نون نے خود سے قربت سمجھتے ہوئے نگران وزیراعظم کے طور پر قبول کیا، جتوئی صاحب خود بھی اپنے آبائی حلقے سے الیکشن لڑ رہے تھے، یوں ان کی مصروفیت دوگنا تھی، وہ ہیلی کاپٹر یا جہاز میں سوار کبھی ایک شہر ہوتے کبھی دوسرے شہر، ان انتخابات میں وہی کچھ ہوا جو ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے، جیتنے والوں نے اسے منصفانہ اور ہارنے والوں نے اِسے جھرلو قرار دیا، جھرلو چل گیا، جتوئی صاحب بے خبر رہے، اگلے انتخابات بھی وقت سے قبل ہوئے، حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکی، اس مرتبہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سنیئر سیاست دان بلخ شیر مزاری نگران وزیراعظم بنے، وہ سیاسی و سماجی روایات کے امین، معتدل مزاج شخصیت کے طور پر اچھی شہرت رکھتے تھے، انتخابات کے انعقاد اور اقتدار کی منتقلی کے بعد وہ آخری ایام میں اپنے تمام ہمسایوں سے ملنے فرداً فرداً ان کے گھروں میں گئے اور اُن سے معذرت کی جس پر اُن کے ہمسایوں نے حیران ہوکر اُن سے پوچھا کہ وہ کس بات پر معذرت خواہ ہیں انہیں تو ایسی کوئی بات یاد نہیں جس سے ان کا دل دُکھا ہو، مزاری صاحب
کہنے لگے میں نگران وزیراعظم بنا تو سرکاری اہلکاروں کے ناکے، صبح سے لیکر رات گئے تک گھروں کے آس پاس سرکاری گاڑیوں کا اژدھام تمام ہمسایوں کے لیے تکلیف کا باعث بنا رہا جس پر وہ معذرت کرنے آئے ہیں، ان کا دھیان بھی جھرلو کی طرف نہ گیا،
نئی حکومت مدت پوری کرنے سے قبل رخصت کردی گئی، یہ زمانہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے اختلافات کی انتہا کا زمانہ تھا، اچانک خبر آئی کہ معین قریشی نگران وزیراعظم مقرر ہوئے ہیں، انہیں ملک بھر میں کوئی نہ جانتا تھا، اتنا معلوم ہوا کہ وہ امریکی شہریت رکھتے ہیں اور امریکی مالیاتی اداروں میں اہم پوزیشن پر کام کرچکے ہیں، عرصہ دراز قبل وہ پاکستان چھوڑ گئے تھے اور امریکی انتظامات کے تحت انتخابات کرانے کے لیے منتخب کیے گئے ہیں، انہیں بنکاک کے ہوائی اڈے پر پاکستان کا شناختی کارڈ حوالے کیاگیا، عجلت میں فون پر ان کی شیروانی اور کچھ دوسرے ہلکے و گہرے رنگ کی شیروانیاں تیار کرائی گئیں، اس کے ساتھ پہننے کے لیے چوڑی دار پاجامے بنائے گئے تاکہ پہن کر جب تصویریں اتروائیں تو قائد ثانی لگیں۔ پاکستان لینڈ کرنے کے بعد انہوں نے جو پہلی شکایت کی وہ چوڑی دار پاجامے کے بارے میں تھی، انہوںنے فرمایا اِسے پہننے اور اتارنے میں بہت وقت ضائع ہوتا ہے لہٰذا اس کا متبادل مہیا کیا جائے، ایک مرتبہ پھر عجلت میں ان کے لیے لٹھے کی شلواریں سلائی گئیں لیکن کمربند کی بجائے زنانہ طرز کی بیلٹ رکھی گئی تاکہ انہیں گھیردار شلوار سے زیادہ پریشانی نہ ہو، ان شلواروں میں پینٹ کی طرز پر سامنے زپ بھی لگائی گئی تھی، وہ سہولت دیکھ کر بہت خوش ہوئے، انہوں نے آتے ہی اعلان کیا جو شخص حکومت پاکستان کا ڈیفالٹر ہے وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے گا، اس فیصلے پر خوب واہ واہ ہوئی، الیکشن لڑنے کے خواہشمندوں نے پانی، بجلی و گیس کے بل جمع کرادیئے اور اہل قرار پائے، کروڑوں کے بینک قرضوں پر کسی نے دھیان دیا اورنہ ہی  انہیں ہڑپ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی، انہیں مزید سچا اور کھرا پاکستانی
ثابت کرنے کے لیے فیصلہ کیاگیا کہ وہ نصف صدی قبل اپنی انتقال کرجانے والی والدہ کی قبرپر جائیں گے اور پھولوں کی چادر چڑھانے کے بعد فاتحہ پڑھیں گے،
یہ فیصلہ ہونے کے بعد اُن کی والدہ کی قبر کی تلاش شروع ہوئی، معین قریشی سمیت ان کے خاندان کے کسی فرد کو یاد نہ تھا کہ ان کی قبر کس قبرستان میں اور کہاں ہے، ان کے ایک کزن جو اس وقت ڈی آئی تھے، ان سے رابطہ کیاگیا لیکن وہ بھی اس حوالے سے کچھ نہ بتاسکے، معاملہ کچھ اُلجھ گیاجو اُس وقت مسلم لیگ نون میں شامل تھے انہوں نے مشورہ دیا کہ کسی بھی پرانی ٹوٹی پھوٹی قبر پر کتبہ لگادو، کس نے چیلنج کرنا ہے، میانی صاحب لاہور کا قدیم ترین قبرستان ہے، اس کے انچارج سے کہاگیا کہ ایسی قبر بتائو جس کا کوئی والی وارث اس پر کبھی نہ آیا ہو، انچارج قبرستان نے ایسی ایک کچی قبر کی نشاندہی کی جسے راتوں رات پکا کرکے اس پر سفید قیمتی ماربل لگاکر نگران وزیراعظم کے شانِ شایان بنادیاگیا، معین قریشی آئے، انہوںنے فرضی ماں کی قبر پر فاتحہ پڑھی جس کی میڈیا نے خوب خوب تشہیر کی، یوں وہ ایک سچے اور فرمان بردار فرزند پاکستان قرار پائے، ہرطرف ان کی تعریف و توصیف ہورہی تھی، سرکاری انتظامات کے تحت ان کی ذاتی خوبیوں اور خاص طور پر ایمانداری کا خوب ڈھول پیٹا گیا اور قوم کو باور کرادیاگیا کہ ایسا نگران وزیراعظم مقرر کیاگیا ہے جو نہایت ایماندار ہونے کے ساتھ ساتھ ہر وقت خوف ِخدا میں مبتلا رہتا ہے، ان تمام کارروائیوں کا مقصد فقط ایک تھا کہ وہ جس قسم کا الیکشن کرانے جارہے ہیں، ان کے نتائج کو پوری قوم آزادانہ و منصفانہ الیکشن تسلیم کرے، وہ اور ان کے امریکی آقا اور ان کے پاکستان میں موجود تمام نمائندے اپنے مشن کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات متحرک رہے، قوم الیکشن بخار میں مبتلا تھی، ایسے میں ماں کو بچے کی فکر نہ تھی، پس انہوں نے اپنا اصل اور مکروہ ترین کھیل کھیلا جس کے لیے انہیں نگران وزیراعظم بنایاگیا تھا اور تمام سیاست دانوں کو حکم دیاگیا کہ خبردار جو کسی نے ان کے اِس گھنائونے قدم کے خلاف آواز بلند کی، معین قریشی نے بہ یک جنبش قلم پاکستان کی کرنسی کی قیمت تیس فیصد کم کرنے کا اعلان کردیا، قوم اس اعلان پر دم بخود رہ گئی، پاکستان کے بیرونی قرضوں میں ایک رات میں کئی ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ انتخابات ہوگئے، کچھ نے انہیں آزادانہ اور منصفانہ قرار دیا، ہارنے والوں نے اِسے جھرلو نتیجہ کہا، ٹھیک چند ماہ بعد سب بھول گئے، معین قریشی نے اِس ملک کو کتنا نقصان پہنچایا۔ (جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button