Editorial

ملک و قوم کیلئے تلخیاں ختم کردیں

اتحادی جماعتوں کی متفقہ حکومت اور سابق حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی کشیدگی کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھ رہی ہے۔ مرکز اور پنجاب میں آنے والی تبدیلی متحاربین کے رویوں میں تلخی نمایاں کررہی ہے، وہ بھی تلخ ہیں جو اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکالے گئے اور وہ بھی جو حزب اختلاف سے حزب اقتدار ہوئے۔ ایک فریق کہتا ہے کہ آئینی طریقے سے تبدیلی لائی گئی دوسرا کہتا ہے کہ سازش رچائی گئی اِس لیے فوراً عام انتخابات کا اعلان کیا جائے، انہیں جواب ملتا ہے کہ جب موزوں وقت سمجھیں گے انتخابات کرائیں گے۔ پھر سنتے ہیں کہ موجودہ حکومت پر عام انتخابات کے انعقاد کے واسطے دبائو بڑھانے کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ ہوگا اگر حکومت نے گڑ بڑ کی تو لانگ مارچ خونی مارچ میں بدل جائے گا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان ملک بھر میں جلسوں کے ذریعے رابطہ عوام مہم کاآغاز کرچکے ہیں تو دوسری طرف حکمران جماعت بھی جوابی جلسے کررہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارچ خونی ہونے کا بیان اگرواپس نہ لیا تو شیخ رشید کو گھر سے نکلنے نہیں دوں گا، لوگوں کو آگ لگانے کی ترغیب دے رہے ہو، انتشار،افراتفری کی منصوبہ بندی کروگے تو تمہیں گھروں سے نہیں نکلنے دیں گے ، لوگوں کو اُکسانے کی بجائے خود کو آگ لگائیں ، یہ لوگ اسی طرح انارکی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کریں گے اس کا سامنا آپ لوگوں کو بھی کرنا پڑے گا، آپ اپنی حرکتوں سے باز آجائیں، آپ مجھے ابھی جانتے نہیں ،سابق وزیراعظم اپنے کارکنوں کو بدتمیزی پر اُکساتے ہیں، ان کو جوتے پڑیں گے تو یہ ٹھیک ہو جائیں گے۔
سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے جواباً کہا کہ ہمیں آج ہی اٹھوالیں، یہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ گھروں سے پکڑیں گے پھر اگر کل پکڑنا ہے تو آج پکڑیں، ہم تیار ہیں،ملک تشویش ناک حالت میں جانے دیا جا رہا ہے اور ہمیں الیکشن کی تاریخ چاہیے، رانا ثنا اللہ ملک میں تشویشناک صورتحال پیدا کرے گا، ملک میں ہنگامہ آرائی ہو گی اور رانا ثنا اللہ معاملات خراب کرے گا،ابھی وہ حالات نہیں آئے، یہ منہ اور مسور کی دال۔ موجودہ اورسابق وزیر داخلہ کے درمیان مکالمہ کئی روز سے جاری ہے ، کم و بیش روز ایسے جواب الجواب سن کر عام پاکستانی تشویش میں مبتلا ہیں کیوں کہ بات زبانی جمع خرچ سے بڑھ کر اُن دعوئوں پر عمل ہونے تک پہنچ چکی ہے جس کی انتہائی افسوسناک مثال مدینہ منورہ میں دیکھنے کو ملی ۔عمران خان چاہتے ہیں کہ فوری عام انتخابات کا اعلان ہو کیوں کہ ایسا سمجھا جارہا ہے کہ وہ رائے عامہ کو کافی حد تک اپنے حق میں کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں لیکن وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کا کہنا اپنی جگہ اہم ہے کہ پارلیمان کی مدت ڈیڑھ سال ہے، ان کی حکومت نے کتنا رہنا ہے اِس کا فیصلہ اتحادی مل کر کریں گے لیکن اُن کی جماعت مسلم لیگ نون کی سوچ ہے کہ اصلاحات کریں اور الیکشن میں جائیں۔
سیاسی سرگرمیوں کی سب کو اجازت ہے مگر انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وطن عزیز کی سیاسی صورتحال، درپیش چیلنجز اور سوشل میڈیا پر جاری لاحاصل کج بحثی کو دیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی قیادت کو بالغ نظری کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہیے کہ ہمارا ملک پہلے ہی چاروں اطراف سے چیلنجز کی زد میں ہے، معاشی بحران عامۃ الناس کو نگلنے کے قریب ہے، لوگ روزگار اور اپنی معاشی پریشانیوں کی وجہ
سے اضطراب میں مبتلا ہیں لیکن جب وہ سیاسی قیادت کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں زیادہ بے چینی نظر آتی ہے،
اگرچہ سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے آئینی طریقے سے اپنے مقاصد حاصل کرلیے ہیں لیکن کیا اِس کے بعد سیاسی صورتحال میں ٹھہرائو آگیا ہے اور وہ سب کچھ ٹھیک ہوگیا ہے جو اُس وقت غلط نظرآرہا تھا؟ یقیناً نہیں، کیوں کہ سیاسی سطح پر اِس وقت سیاست بمقابلہ سیاست ہورہی ہے ، پہلی حکومت حزب اختلاف سے شکوہ کناں تھی کہ اُسے کام نہیں کرنے دیا تو موجودہ حکومت کے لیے بھی حالات کام کے لیے سازگار نظر نہیں آرہے۔  چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اعلان کرچکے ہیں کہ وہ رواں ماہ کے آخر میں اسلام آباد پہنچنے کے لیے کال دیں گے، اِس سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ سیاسی درجہ حرارت نیچے جانے کی بجائے روز بروز اوپر جارہا ہے، ملک و قوم کو معیشت سمیت دیگر درپیش چیلنجز کا سامنا ہے، عوام اپنی جگہ پر ٹھیک ہیں کہ کم آمدن میں لوگوں کے لیے سفرِ زیست ناممکن ہوچکا ہے،
مگر سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومت قریباً سال، سوا سال میں ملک کو اُن تمام بحرانوں سے باہر نکال پائے گی جن سے قریباً پونے چار پی ٹی آئی کی حکومت نبرد آزما آرہی لیکن پھر بھی نااہل کہلواتی رہی؟ وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کا کہنا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا چیلنج تباہ حال معیشت اور مہنگائی پر قابو پانا ہے۔ مہنگائی کم کرنے کے لیے شارٹ اور میڈیم ٹرم پلان بنا رہے ہیں لیکن پھر سوال وہی اُٹھتا ہے کہ کیا موجودہ حکومت تمام تر توانائیاں صرف کرکے بھی اِس سوا سال میں وہ تمام اہداف حاصل کرلے گی جو بظاہر ممکن نظر نہیں؟ سیاسی بے یقینی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کے رویے نے عام سیاسی کارکنوں کو تو مشعل کیا ہی ہے لیکن عوام اِس صورتحال سے زیادہ پریشان ہیں جو صرف ووٹ دینے کی حد تک سیاسی معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں اور پھر کامیاب سیاسی جماعت سے وابستہ اپنی توقعات پوری ہونے کا سالہا سال انتظار کرتے ہیں۔ سیاسی تربیت کے فقدان کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کے کارکنان اپنی قیادت کی محبت میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں اور یہی جیالے و متوالے بسا اوقات اشتعال میں آکر سیاسی رواداری کو بری طرح پامال کردیتے ہیں حالانکہ سیاست میں تو رواداری، شائستگی اور اخلاقی اقدارکی پاسداری ہر فریق پر لازم ہوتی ہے، مگر جب سیاسی قائدین اپنے مخالفین کو للکارتے ہیں تو اُن کے کارکنان بھی اُن سے اثر لیے بغیر نہیں رہتے اور پہلے پہل تو تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا ہے جیسا کہ آج کل ہم سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر دیکھ بھی رہے ہیں، ملک و قوم کی سلامتی اور اداروں کی توقیر کہیں پیچھے چھوٹ جاتی ہے کیوں کہ ہمیں صرف وہی سننا پسند ہوتا ہے جو ہم سننا چاہتے ہیں حالانکہ جمہوریت میں تو دلائل اور اکثریت کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن ہمارے ہاں عدم برداشت کی نوبت آنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی اِس لیے ہماری سیاسی قیادت ہو یا اُن کے کارکنان، سبھی کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سب سے پہلے پاکستان۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں ، پاکستان ہے تو سیاست ہے اگر ہم ملکی سلامتی اور درپیش چیلنجز کو ایک طرف رکھ کر سیاست برائے سیاست ہی کریں گے تو اِس کا ملک کو فائدہ ہوگا نہ ہی عوام کو اور ہم وہیں کے وہیں کھڑے رہ جائیں گے اِس لیے سیاست کسی بھی سطح پر ہو لیکن تہذیب کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے کیوں کہ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ افراد کے مابین گہرے روابط اور آپس کے تعلقات بڑی تیزی سے متاثر ہورہے ہیں اِس کی واضح مثال سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈے کو سامنے رکھتے ہوئے دی جاسکتی ہے، جلسوں میں تقاریر سن کر چارج ہونے والے لوگ سوشل میڈیا پر مخالفین کو دیکھ کر مارنے اور مرنے پرتیار نظر آتے ہیں۔سیاسی حالات پر بات چیت کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ہر ایک کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے لیکن اس وقت عدم برداشت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ سیاسی قیادت ایک دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار ہے نہ ہی سیاسی کارکن، بلکہ عدم برداشت اور تلخیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے پر بضد نظر آتے ہیں۔ اِس لیے ضروری ہے کہ سیاسی شخصیات حالات کی سنجیدگی کا ادراک کرتے ہوئے مداخلت کریں اور جس نوعیت کی تلخیاں اب عام ہوچکی ہیں اِن کو ختم کرنے کے لیے تمام فریقین کو ایک میز پر بٹھائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button