Editorial

مبینہ سازش پرآزاد انکوائری کمیشن کا اعلان

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بیرونی سازش کے حوالے سے انکوائری کمیشن کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد اور خودمختار کمیشن عمران خان کے سازش کے بیانیہ کی تحقیقات کرے گا، جلسے میں کاغذ لہرالہرا کرالزام لگانے والے اب عوامی کٹہرے میں آئیں گے،کمیشن کے قواعد وضوابط کی منظوری وفاقی کابینہ دے گی، کابینہ سے منظوری کے بعد اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا جائے گا جس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔ انکوائری رپورٹ پاکستان کے عوام کے سامنے رکھی جائے گی جس کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔بیرون ملک سازش کا ڈھونگ رچا کر یہ لوگ اپنی نااہلی، نالائقی اور لوٹ مار کو چھپانا چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی پریس کانفرنس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں فواد چودھری اور فرخ حبیب نے بذریعہ پریس کانفرنس غیر ملکی سازش کے الزام کی تحقیقات کے لیے وفاقی حکومت کے مجوزہ انکوائری کمیشن کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ کمیشن کا اعلان بدنیتی پر مبنی ہے، موجودہ حکومت امپورٹڈ سازش کا حصہ ہے، ہم صرف وہ کمیشن قبول کریں گے جو آزاد عدلیہ کے تحت ہو اور کمیشن کی کارروائی براہ راست دکھائی جائے۔پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے یعنی عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر کارروائی سے قبل ہی سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے قومی سلامتی کے ضامن اداروں کے خلاف ایسی رائے قائم کرنے کی کوشش کی گئی جو ہر پاکستانی کے لیے ناقابل برداشت اور تکلیف دہ تھی باوجود اِس کے کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد عمران خان نے خود پاک فوج کی اہمیت پر بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے لیے عمران خان سے زیادہ پاک فوج ضروری ہے،
اِس کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریاست کی سلامتی کے ضامن اداروں کے خلاف بے بنیاد اور بدگمانی پر مبنی تنقید کا سلسلہ ختم ہوجاتا لیکن پھر بھی یہ سلسلہ جاری رہا مگرہر طبقہ فکر نے مخصوص سوچ کے حامل افراد کے اِس پروپیگنڈا کو انتہائی ناپسند اورمسترد کیا۔ غیر ملکی سائفر کے معاملے پر افواج پاکستان کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار پریس کانفرنس کے ذریعے واضح کرچکے ہیں کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں ہے اور ڈیمارش صرف سازش پر نہیں دیے جاتے اور بھی وجوہ ہوتی ہیں۔ ترجمان پاک فوج نے موجودہ سیاسی صورتحال اور پروپیگنڈا پر نہ صرف اپنا موقف واضح کیا بلکہ ذرائع ابلاغ کے نمائندگان کی طرف سے پوچھے گئے ہر سوال کا تفصیلاً جواب دیا البتہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ اعلامیے میں لکھا ہوا ہے کہ سائفر میں غیر سفارتی زبان استعمال کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی سے قبل عمران خان کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ سامنے آیا تب بھی دونوں اطراف سے اپنے اپنے موقف کا
ڈٹ کر دفاع کیاگیا اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نو منتخب وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا اور اُس اجلاس کا اعلامیہ سامنے آیا تب بھی تحریک انصاف نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے اُن کے موقف کی تائید کی ہے۔
اِسی لیے ترجمان پاک فوج کو ایک موقعہ پر سامنے آکر تمام سوالات کے بالکل واضح اور مطمئن کردینے والے جوابات  دینا پڑے۔ ہم دوبارہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کے اعلان کا حوالہ دینا چاہتے ہیں جس کی بنیاد پر ہم نے بات کا آغاز کیا تھا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق انکوائری کمیشن آزاد اور خودمختار ہوگا اور وہ سابق وزیراعظم عمران خان کے سازش کے بیانیہ کی تحقیقات کرے گا،کمیشن کا سربراہ ایسا ہوگا جس پر کوئی انگلی نہیں اٹھاسکے گا لیکن تحریک انصاف نے اِس کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صرف وہی کمیشن تسلیم کیا جائے گا جو آزاد عدلیہ کے تحت ہو اور کمیشن کی کارروائی براہ راست دکھائی جائے۔ بظاہر ملکی سیاست میں گذشتہ کئی ماہ سے اِس غیر ملکی مراسلے (سائفر)کی وجہ سے بڑا بھونچال آچکا اور اُس بھونچال کے آفٹر شاکس ابھی تک محسوس کیے جارہے ہیں مگر جن کی شدت کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔پی ٹی آئی حکومت تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی وجہ سے ختم ہوئی تو انہوں نے اپنا موقف درست قرار دیا کہ اِسی مراسلے کے عین مطابق یعنی من و عن سب کچھ ہوا جبکہ دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے اِس بیانیہ کی یکسر تردید کی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نہ صرف اپنے بیانیے پر قائم ہیں بلکہ نظر تو یہ آرہا ہے کہ یہ بیانیہ اگلے کئی سال تک ملکی سیاست میں گونجتا رہے گا کیوں کہ عمران خان کا موقف ہے کہ اُن کی حکومت کو غیر ملکی سازش کے ذریعے ہٹایاگیا اور اِس کام کے لیے پاکستانی سیاسی جماعتوں نے کردار ادا کیا لیکن اِس بیانیے کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد یعنی پی ڈی ایم کی طرف سے یکسر نفی کی جارہی ہے۔ اِسی موقف کے ساتھ عمران خان رابطہ عوام مہم شروع کرچکے ہیں اور میانوالی میں جلسے کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ بیس مئی کے بعد کسی بھی وقت اسلام آباد آنے کی کال دے سکتے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ اِس مراسلے کی بنیاد پر ملکی سیاسی میں اُٹھنے والے طوفان کی اب گرد بیٹھ جانی چاہیے، حکومت کی جانب سے تحقیقات کے لیے آزاد کمیشن بنانے کا اعلان کیاگیا لیکن تحریک انصاف نے اِس کمیشن کو مسترد کرکے اپنا مطالبہ پیش کردیا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ اِس معاملے پر جتنا قومی سطح پر نقصان ابتک اُٹھایا جاچکا ہے وہ ناقابل برداشت ہے، عوام میں تقسیم اب واضح طور پر نظر آنا شروع ہوگئی ہے، سیاسی لوگوں کے رویے بدل چکے اور عدم برداشت بڑھتی جارہا ہے اِسی عدم برداشت کا ایک مظاہرہ مدینہ منورہ میں دیکھنے میں آیا جو کسی بھی مسلمان (چاہے وہ کسی بھی مسلمان ریاست سے تعلق رکھتا ہو)کے لیے قابل برداشت نہیں، عدم برداشت کے کئی اور افسوس ناک واقعات بھی رونماہوئے لیکن جو ارض مقدس پر ہوا اُس کی تاریخ اسلام میں مثال نہیں ملتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ اِس معاملے کو
غیر جانبداری اور افہام و تفہیم کے ساتھ جلد ازجلد نمٹادیا جائے تاکہ یہ باب بند ہو اور ملک و قوم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی قیادت کو سوچنے اور عملی اقدامات کے لیے وقت اور توانائی میسر ہو ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button