ColumnImran Riaz

انجام گلستاں کیا ہوگا؟ …. عمران ریاض

عمران ریاض

پاکستان کی 2014 سے شروع ہونے والی ٹکراؤ کی سیاست  مزید آگے بڑھتے ہوئے تقسیم در تقسیم کی سیاست میں تبدیل ہوگئی اور اب شاید عدم برداشت کے خوفناک مرحلے میں داخل ہوگئی جس کی کئی مثالیں آپ کو دیکھنے اور سننے کو ملیں ہوں گی مسجد نبوی اور غار حرا کے واقعات کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ ہم یہاں تک پہنچے کیسے اور اس صورتحال سے واپسی کیسے ممکن ہے یہ سیاسی منافرت،ٹکراو اور عدم برداشت سیاست سے ہوتا ہوا ہماری معاشرت میں سرایت کرگیا ہے ۔سیاست کے اس نئے وائرس نے ہماری معاشرت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے حقیقت یہ 2008 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے بہت سیاسی میچورٹی کا مظاہرہ کیا دونوں نے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ایک دوسرے کو اپنی اپنی آئینی مدت پوری کی۔ ایشوز پر اختلاف رائے ضرور رہا لیکن دونوں اطراف سے یہ کوشش کی گئی کہ تیسرے فریق کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے دو جماعتی نظام مضبوط ہورہا تھا اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں اپنا ہوتا ہوا رول وارے میں نہیں تھا تو اسٹیبلشمنٹ کو چہرہ عمران خان کی صورت مل گیا جس سے دونوں بڑی پارٹیوں کی لیڈرشپ کیخلاف کرپشن کا ایسا ایسا پروپیگنڈا کرایا گیا جس پر نوجوان نسل یقین کر بیٹھی اور انہوں نے دونوں پارٹیوں کو ملک دشمن،چور،ڈاکو سمجھ لیا اور اس پر یقین بھی کرلیا۔یہ نسل جہاں ایک طرف مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی سے متفر ہوگئی تو ساتھ ہی وہ عمران خان کی شخصیت کو پروپیگنڈا کرکے اس طرح پینٹ کیا گیا کہ یہی نوجوان نسل اس کو سیاسی مسیحا اور نجات دہندہ سمجھنا شروع ہوگئی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی لیکر کرپٹ لوگوں کو سزائیں بیرونی قرضوں سے چھٹکارا، معیشت میں اتنی بہتری کہ بیرون ملک سے لوگ پاکستان نوکریاں لینے آئیں گے اور کیا کچھ عمران خان نے قوم ایسے ایسے خواب دکھائے کہ لوگوں کو اپنے تمام مسائل کا حل عمران خان میں نظر آنے لگا  2013 کے الیکشن میں شکست کے بعد عمران خان نے 126 روز کا جو دھرنا دیا میڈیا میں خوب پذیرائی ملی اور عمران خان ایک دن میں چار چار مرتبہ لمبی لمبی تقریریں کرکے مخالفین پر اتنا
گند اچھالا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہ تھی منصوبہ سازوں کے ذہن شاید یہ تھا کہ ان دونوں پارٹیوں کی قیادت کے خلاف اتنا زیادہ پروپیگنڈا کرو کہ لوگوں کو یقین ہو جائے کہ انکی تمام محرومیوں کے ذمہ دار شریف خاندان اور زرداری کی کرپشن ہی کار فرما ہے منصوبہ سازوں کوبولنے کے لیے ایک ایسا چہرہ عمران خان کی صورت میں مل گیا کہ جب وہ بولتا تو منصوبہ سازوں کے کہے سے بھی کہیں زیادہ بول جاتا آپ کو یاد ہوگا جب کہا جاتا تھا کہ اگر پٹرول مہنگا ہو تو سمجھو تمہارا وزیراعظم کرپٹ،چینی مہنگی ہو تو سمجھو تمہارا وزیراعظم شوگر مافیا سے ملا ہوا ہے۔اس طرح کا ماحول بنا دیا گیا اوپر سے سونے پے سہاگہ دیکھیں عمران خان کے دھرنوں کی گرد ابھی پوری بیٹھی نہیں تھی کہ پانامہ پیپرز کا ڈرامہ آگیا پھر اربوں کھربوں کی کرپشن کی کہانیاں میڈیا کے ذریعے گھڑی گئیں لیکن بھی ثابت نہ ہوسکا تو نواز شریف کو اقامہ کیس میں سزا دیکر نااہل کرکے عمران خان کا راستہ بالکل صاف کردیا گیا گویا نواز شریف کا یہ دور حکومت مسلسل عدم استحکام کا شکار جس کی وجہ ملک کے لیے سی پیک کے علاوہ کوئی منصوبہ شروع نہ کیا جاسکا اور پانچ سمجھیں ضائع ہی ہوگئے باقی ساری تفصیل تاریخ کا حصہ ہے 2018کے الیکشن ہوتے جیسے بھی ہوئے اس بات
سے قطع نظر بہرحال عمران خان اقتدار آتے ہی ایکسپوز ہوگئے انکی ٹیم کے معاشی افلاطون تھے اسد عمر انکی معیشت کے بارے تو تیاری ہی نہیں 4ماہ تک عمران حکومت یہ ہی نہ طے کر پائی کہ آئی ایم ایف کے پاس جایا جائے یا نہیں تو تب معیشت بدحال ہوچکی تھی پھر ہر 50ہزار کی خریداری پر شناختی کی کاپی دینے کی شرط اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ جو کوئی 5لاکھ تک کا لین دین کرے گا اس اپنے زرائع آمدن بتانا ہونگے ملک میں ایک خوف کی فضا پیدا کر دی گئی یہاں تک کہ پورا معاشی سسٹم زمین بوس ہوگیا حکومت سرمایہ کے درمیان بداعتمادی پھیل گئی۔کبھی ایک پالیسی پھر دوسری اس سے 180ڈگری الٹ کبھی ایک وزیر کبھی دوسرا کبھی ایک سیکرٹری فنانس کبھی دوسرا بس ایک تماشہ سا لگا رہااس سارے عرصے میں وزیراعظم کی توجہ صرف مخالفین کو کچلنے پر مرکوز تھی روز معیشت پر اجلاس بلانے کی بجائے ترجمانوں کا اجلاس بلا لیا جاتا اور اس میں بھی مخالفین کیخلاف بیانیہ تشکیل دیا جاتا رہا۔ ملک کے متعلق کوئی لانگ ٹرم،مڈ ٹرم یا شارٹ ٹرم پالیسی سازی نہ کی گئی چینی مافیا،آٹامافیا،کھاد مافیاسب نے خوب عوام کو لوٹا ملک میں ساڑھے تین سال بس بحرانی کیفیت رہی نہ کسی ملک سے مستقبل کے لیے کوئی معاہدے ہوئے نہ ہی کوئی پلاننگ نتیجہ یہ ان ساڑھے تین سالوں میں ملک آگے جانے کی پیچھے کی جانب ہی گیا چلیں جیسے تیسے اس حکومت سے چھٹکارا ملا اور شہباز شریف کے زیر قیادت ایک کثیر الجماعتی حکومت معرض وجود میں آئی تو اس کے ساتھ عمران خان احتجاجی مظاہرے شروع کررکھے ہیں اور مئی کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ اور دھرنے کی کال دینے جارہےہیں مطلب پچھلے آٹھ سالوں میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ملک جس قدر معاشی سیاسی اور سماجی تنزلی کا شکار چلا آرہا ابھی اس تنزلی کے رکنے کا کوئی چانس نہیں اگر ہم سری لنکا کے حالات کا جائزہ لیں تو کوئی فرق نہیں دنیا بھر کے ممالک میں جہاں جہاں جموریت وہاں سیاسی قیادتوں کا اختلاف ہوتا ہے لیکن وہاں قومی مفادکے گرد ایک دائرہ کھینچ دیا جاتا ہے اس دائرے کے اندر کوئی گھسنے کی کوشش نہیں کرتا ہے لیکن ہمارے ہاں نہ تو آج تک قومی مفاد کی تشریح کی گئی اور نہ ہی اسکے گرد کوئی دائرہ لگایا ہماری قیادت میں یا دور اندیشی نہیں یہ سٹیٹس مین شپ کی سپرٹ نہیں۔ایک دہائی سے ہم بطور مملکت تنزلی کی طرف جارہے ہیں عمران خان فیکڑ جب سے سیاست میں ہے تب سے نہ صرف ہمارا سوشل فیبرک تباہی ہو کررہ گیا ہے بلکہ معاشی فیبرک تباہی کے دہانے پے کھڑا ہے اگر ہم نے بطور ریاست آگے آناہے تو اس فیکڑ سے پیدا ہونے منفی اثرات کو مزید پھیلنے سے روکنا ہوگا اور یہ کام وہی کرسکتے ہیں جنہوں نے اس فیکڑ کے پھلنے پھولنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button