ColumnImtiaz Aasi

حج انتظامات میں تاخیراور تبدیلیاں …. امتیاز عاصی

امتیاز عاصی
سعودی حکومت نے دو سال کے وقفے کے بعد عازمین حج کو سعودی عرب آنے کے اجازت دے دی ہے۔امسال کل دس لاکھ فرزندان توحید حج کی سعادت حاصل کر یں گے ۔ سب سے زیادہ ایک لاکھ عازمین حج انڈونیشیا کے ہوں گے۔ عازمین حج کی تعداد کے لحاظ سے ہماراملک دوسرے نمبر پر ہے یہاں سے اٹھاسی ہزار عازمین حج فریضہ حج ادا کریں گے۔سعودی حکومت نے امسال حج انتظامات میں بعض تبدیلیاں کی ہیں ۔گذشتہ برسوں میں معلم کے پاس کم از کم پانچ ہزار عازمین حج ہوتے تھے۔ رواں حج میں سعودی حکومت نے عازمین حج کی کم تعداد کے پیش نظرتین تین معلم یکجاکردیئے ہیں،جن میں ایک چیئرمین اور دوسرا نائب چیئرمین ہوگا۔
اب معلم صرف حاجیوںکو ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے ذمہ دار ہوں گے۔حجاج کرام کو کھانے کی سہولت اور منی اور عرفات میں خیموں کی فراہمی اب پرائیویٹ کمپنیوں کی ذمہ داری ہو گی۔وزارت مذہبی امور نے عازمین حج کے کوٹہ میں ساٹھ فیصد عازمین حج کو سرکاری انتظام اور چالیس فیصد کو پرائیویٹ گروپس میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔عازمین حج کے اخراجات بارے ابھی تک خاموشی ہے۔ عازمین حج کی سعودی عرب روانگی کو صرف ایک ماہ باقی ہے اور یکم ذو القعدہ سے حج فلائٹس شروع ہو جاتی ہیں۔وفاقی وزیرمذہبی امور نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ سرکاری سکیم کے اخراجات سات سے دس لاکھ روپے تک ہو سکتے ہیں تو توجہ طلب پہلو یہ ہے کرونا پابندیوں سے قبل آخری بار 2019 سرکاری سکیم کے اخراجات 4لاکھ 55 ہزار تھے۔جیساکہ وزیر مذہبی امور نے بتایاہے کہ سرکاری اسکیم کے اخراجات سات سے دس لاکھ روپے تک ہو سکتے ہیں جس کے بعد یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ امسال سرکاری سکیم والے عازمین حج کے اخراجات 8 سے 10لاکھ روپے تک ہوں گے ۔عازمین حج کی روانگی کو اتنا کم وقت رہنے کے باوجو د وزیرمذہبی امور سرکاری سکیم والے عازمین حج کے حتمی اخراجات بتانے سے قاصر رہے۔ کیا اتنے تھوڑے وقت میں سعودی عرب میں حج مشن قریباً پچاس ہزار عازمین حج کے لیے رہائشی انتظامات کرسکے گا؟بعض پرائیویٹ گروپ آرگنائزرز نے جوپیکیج بنایا ہے اس میں کم سے کم اخراجات بارہ لاکھ روپے تک ہو سکتے ہیں۔جس میں عازمین حج کو زیادہ سے زیادہ اٹھارہ روز اور کم سے کم چودہ روز تک قیام کرنا ہوگا۔ سرکاری انتظام میں جانے والے عازمین حج کے رہائشی انتظامات کرنے کے لیے وزارت مذہبی امور کو رقم ڈالر کی صورت میں سٹیٹ بنک سے لینا ہوتی ہے ۔پرائیویٹ گروپ لے جانے والوں کو ڈالر عام مارکیٹ سے لینا پڑتے ہیں ۔حاجیوں کومنی سے عرفات جانے کے لیے گذشتہ کئی سالوں سے بسوں کے ساتھ مونو ٹرین کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔ایسے عازمین حج جن کے خیموں کاانتظام مونو ٹرین کے اسٹیشن کے قریب ہوتا ہے انہیں ٹرین کے ذریعے حج کے روز وقوف عرفات کرنے کے لیے جانا آسان ہو جاتا ہے۔ وزارت مذہبی امور پر عازمین حج کو سعودی عرب بھیجنے کا ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ دبائوہوگا۔
حال ہی میں وفاقی کابینہ کی تشکیل کے بعد وفاقی وزراء اور مشیروں کی طرف سے اپنے لوگوں کو حج پر بھیجنے کے لیے خاصا دبائو ہوگا۔موجودہ حکومت میں پیپلز پارٹی کے وزراء بھی شامل ہیں اس بات کا قومی امکان ہے کہ پیپلز پارٹی کے جیالوں کو حج پر بھجوانے کے لیے پریشر پڑ سکتا ہے۔سعودی عرب میں ٹیکسوں کے نفاذکے بعد حرمین شریفین میں ہوٹلوں کے کرایوں میں خاصا اضافہ ہوچکاہے۔ کھانے پینے کی اشیاء تو پہلے ہی مہنگی تھیںلہٰذا اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ حاجیوں کے رہائشی کرایوں ، ٹرانسپورٹ اور خیموں کے کرایوں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا گیا ہوگا۔سعودی حکومت نے عمرہ زائرین پر انفرادی طور پر ٹیکسی یا بسوں پر سفر کرنے پر پہلے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے ان حالات میں حاجیوں کے ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ یقینی بات ہے۔مسجد الحرام کے قرب میں واقع ہوٹلوں کے کرایوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔وزارت مذہبی امور سرکاری انتظام میں جانے والے حاحیوں کے قیام کے لیے مکہ مکرمہ سے تین چار کلو میٹر عزیزیہ میں رہائشی انتظامات کرتی ہے کیونکہ سرکاری انتظام میں جانے والوں کے لیے مسجد الحرام کے قرب میں واقع بڑے بڑے ہوٹلوں کے کرایوں کی ادائیگی مشکل ہوجاتی ہے۔ پرائیویٹ حج گروپ میں جانے والے عازمین حج کے لیے ٹور آپریٹروں نے مختلف پیکیج بنائے ہوتے ہیں جو کوئی مسجد الحرام کے قریب قیام کا خواہش مند ہوتاہے اسے زیادہ سے زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ سعودی قوانین کے مطابق اگر کسی معلم کے پاس حاجی نہ بھی ہوں تو سعودی وزارت حج کی طرف سے ایسے معلم کو باقاعدہ اعزازیہ ادا کیاجاتا ہے۔ عازمین حج کے کھانے کے انتظامات معلم سے لے کر کیٹرنگ کمپنیوں کو دینے سے حاجیوںکے اخراجات میں گذشتہ سالوں کی نسبت بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔تاہم یہ امر سمجھ سے بالاتر ہے کہ سعودی حکومت ماضی میں کم ازکم بیس لاکھ عازمین حج کے لیے انتظامات کرلیتی تھی تو امسال عازمین حج کی اتنی تعداد کے لیے انتظامات کرنے میں کون سا امرمانع ہے۔
اگر امسال حج اخراجات آٹھ لاکھ ہوئے تو موجودہ حکومت کو سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔جیسا کہ ہمارا ملک پہلے ہی معاشی بحران سے دوچار ہے اور ان حالات میں حکومت عازمین حج کا سارا کوٹہ پرائیویٹ گروپ آرگنائز کو دے دیتی ہے تو حکومت کوچار کروڑ ڈالر سے زیادہ قومی خزانے سے دینے کی بجائے پرائیویٹ گروپس لے جانے والوں کو عام مارکیٹ سے زرمبادلہ خرید کر رہائشی انتظامات کر نا پڑتے ۔سعودی حکومت کی پابندی سے امسال 65سال سے زائد عمر کے افراد فریضہ حج کے لیے نہیں جا سکیں گے۔وزارت مذہبی امور نے اس تھوڑے وقت میں عازمین حج کے لیے چاروں صوبوں میں تربیتی پروگراموں کا اہتمام بھی کرنا ہے۔وزارت مذہبی امور نے قبل ازیں یہ اعلان کیا تھا کہ جن لوگوں نے دو سال پہلے حج کے لیے درخواستیں دی تھیں انہی میں سے لوگوں کو حج کے لیے بھیجا جائے گا لیکن حکومت کی تبدیلی کے بعد وزارت مذہبی امور نے عازمین حج کو سعودی عرب بھیجنے کی پالیسی میں تبدیلی کر دی ہے۔تعجب تو اس پر ہے جب سعودی حکومت نے حج کوٹہ کا اعلان کر دیا ہے تو انہیں عازمین حج کے ٹرانسپورٹ اور خیموں کے اخراجات کے علاوہ حج فیس کا اعلان ایک ساتھ کر دینا چاہیے تھا ۔سرکاری اور پرائیویٹ انتظام میں جانے والے عازمین حج کے لیے انتظامات کرنے میں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button