تازہ ترینجرم کہانیخبریں

خفیہ خزانے کے لیے بیٹی کو ’زندہ دفن‘ کرنے کا منصوبہ ناکام، ملزمان گرفتار

ہندوستان کی ریاست مہاراسٹرا میں پولیس نے نام نہاد چھپے ہوئے خزانے تک رسائی کے لیے اپنی بیٹی کو ’انسانی قربانی‘ کی فرسودہ رسم کے تحت زندہ دفن کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس نے باپ کے ہاتھوں زندہ بیٹی کی تدفین سے چند لمحے قبل موقع پر پہنچ کر باپ اور اس کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ریاست مہاراشٹرا میں ایک باپ اپنی 18 سالہ بیٹی کو گھر میں ایک ہندو تانترک اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتل کرنے والا تھا مگر پولیس نے عین وقت پر پہنچ کر لڑکی کو بچا لیا۔

پولیس نے کہا کہ انہوں نے لڑکی کی دوست کی طرف سے اطلاع ملنے پر گروہ کو ایک رسم ادا اور قتل کی تیاری کرتے ہوئے پکڑا۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے یواتمال ضلع کے پولیس چیف دلیپ بھجبال پٹیل نے کہا کہ وہ لڑکی کو کسی بھی وقت قتل کر دیتے مگر ہم نے انہیں رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ لڑکی نے اپنے والد کو دقیانوسی رسم کے آغاز سے ایک گھنٹہ پہلے اس منصوبے پر بات کرتے ہوئے سنا اور اپنے دوست کو اپنی جان کو لاحق خطرے کے بارے میں آگاہ کیا۔

بیٹی نے انکشاف کیا کہ والد نے گرفتاری سے ایک دن پہلے گھر کے صحن میں تدفین کے لیے گڑھا کھودا تھا۔

تاہم اس گروہ پر قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اور والد سے اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں الگ تفتیش کی جا رہی ہے۔

بھارت میں انسانی قربانی کے سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن ہر سال اس رسم کے تحت متعدد بچوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔

گزشتہ ہفتوں کے دوران بھارت کے مختلف علاقوں میں دو بچوں کو ’انسانی قربانی‘ کی رسم کے تحت قتل کر دیا گیا تھا جن میں سے ایک کی عمر سات سال اور دوسرے کی تین سال بتائی گئی ہے۔

ریاست اڑیسہ میں پولیس نے ایک ایسے ہی واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مقامی مندر میں ’بلی چڑھانے‘ کا وعدہ کرنے والی ماں نے بکرا خریدنے میں ناکامی پر اپنے چھوٹے بیٹے کی گردن کاٹ دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button