تازہ ترینخبریںپاکستان سے

بلوچ طلبا کی پروفائلنگ اورگمشدگیوں کی تحقیقات کیلئےکمیشن بنانےکا فیصلہ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلوچ طلبا کی نسلی پروفائلنگ اور گمشدگیوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ بلوچ طلباء کی شکایات دور کرنے کیلئے میکنزم بنایا جائے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ حکومت میں آنے سے پہلے کچھ باتیں ہوتی ہیں مگر حکومت میں آکر سب بھول جاتے ہیں۔ نسلی پروفائلنگ سے متعلق شکایت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ کا کہنا تھا کہ عدالتیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آنکھیں بند نہیں کرسکتیں؟ کیا کابینہ کو معلوم نہیں ہوتا ملک میں کیا ہورہا ہے، جواس وقت کابینہ میں ہیں کل ان لاپتہ افراد کے پاس جا نہیں رہے تھے؟ جمہوری سوسائٹی میں سیاسی لیڈرشپ کا کام ہےوہ اس کا حل نکالے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ حقیقی ایشوز ہیں لیکن ہر سیاسی لیڈر انھیں نظرانداز کرتا ہے ، نسلی پروفائلنگ ہورہی ہے پھر وزارت انسانی حقوق بند کردیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کمیشن کے لیے نام مانگ لئے کہا سیکرٹری داخلہ میکنرم بنائیں تاکہ بلوچ طلبا کی شکایت دورکی جاسکیں، سیکرٹری داخلہ بلوچ طلبا کے آبائی علاقوں کا دورہ کرکے خدشات دور کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button