Editorial

جامعہ کراچی میں خودکش حملہ

چینی وزارت خارجہ نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاک افراد کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت اور ہمدردی کی ہے۔چینی وزارت خارجہ نے اِس حملے کی شدید مذمت اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی باشندوں کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے۔چینی شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔پاکستان میں چینی سفارتخانے نے بھی کراچی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان میں چینی شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی درخواست کی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے جامعہ کراچی دھماکے کے مجرموں کو عبرت کا نشان بنانے کے عزم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چینی بھائیوں سے بھرپور یکجہتی کرتا ہے، یہ مشترکہ غم ہے، پاک چین دوستی پر حملہ ہوا ہے، پوری قوت سے نمٹیں گے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے وفاقی حکومت بھرپور تعاون کرے گی۔کراچی یونیورسٹی میں رونما ہونے والے اِس افسوسناک واقعے کے فوری بعد وزیراعظم شہباز شریف اسلام آباد میں قائم چینی سفارتخانے پہنچے اور ناظم الامور سے ملاقات کرکے چینی باشندوں کی ہلاکت پر تعزیت کیااور چین کے صدر کے لیے خصوصی تعزیتی پیغام بھی تحریر کیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی دھماکے کے بعد چینی قونصلیٹ پہنچے اور چینی ناظم الامور سے ملاقات کرکے افسوس کا اظہار کیا۔ وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے سرزمین پاکستان سے دہشت گردی کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے آئرن برادر پر وحشیانہ حملے پر پوری پاکستانی قوم صدمے میں ہے، پورا پاکستان چین کی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے،واقعے کی تیزی سے تحقیقات کرکے مجرموں کو قانون کے مطابق عبرت کا نشان بنائیں گے۔ چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ چینی سفارتخانے کو واقعے کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور نیشنل ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، کراچی واقعے کی تحقیقات کا آغاز ہوچکا ہے۔
چینی باشندوں پر خودکش حملے پر پاکستانی قوم غم میں مبتلا ہے اور تمام سیاسی قیادت نے اِس افسوس ناک واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ خودکش حملہ  کئی پہلوئوں سے انتہائی غور وفکر طلب ہے اور یقیناً اِن پہلوئوں پر سبھی کو تشویش میں مبتلا ہونا چاہیے۔ دہشت گردوں نے جامعہ کراچی میں خودکش حملہ کیا اور اُن کا ٹارگٹ دراصل چینی باشندے تھے، حملے کے لیے اسی جامعہ کی ہی طالبہ کو منتخب کیاگیا اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔خودکش حملہ آور شاری بلوچ کا تعلق کراچی یونیورسٹی کے شعبہ طبعیات سے تھااور اس نے 2018 میں داخلہ لیا تھا۔ پولیس نے اِس واقعے کے مقدمے میں کالعدم بی ایل اے کے عہدیداروں کو
بھی نامزد کیا ہے کیوں کہ ایک بلوچ علیحدگی پسند گروپ نے اِس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔
ہمارے لیے قابل تشویش پہلو خودکش حملہ آور کا تعلیم یافتہ اور شادی شدہ ہونا ہے، کیوں کہ آج تک بیس سال میں جتنے بھی خودکش حملے ہوئے اُن میں سے یہ اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے، تحقیقاتی اداروں کے مطابق حملہ آور ناخواندہ ہونے کے ساتھ مخصوص نظریات کے تحت تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور انہیں ایسی ادویات استعمال کرائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے اُن کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت قریباً ختم ہوجاتی ہے اور آسانی سے وہ سب کچھ کرگذرتے ہیں جو عام انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا مگر حالیہ واقعے میں خاتون خودکش حملہ آور خاصی تعلیم یافتہ، شادی شدہ اور بچوں کی ماں تھی ۔ اُسے اِس حملے کے لیے کیسے قائل کیا ہوگایقیناً بلوچ علیحدگی پسند گروپ نے منظم انداز میں یہ جال بچھایا اور اپنے مقاصد حاصل کیے لیکن یہ معاملہ صرف اِسی کیس تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس واقعے کو بنیاد بناکر گہرائی تک پہنچا جائے کہیں ایسے علیحدگی پسند گروپ جن کو پاکستان دشمن سپورٹ کررہے ہیں ، ان گروپوں نے اپنا طریقہ کار تبدیل کرلیا ہے؟
کیا وہ تعلیم یافتہ افراد کو بھی اپنے نظریات پر لے آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اُنہوںنے اپنا دائرہ کس حد تک وسیع کرلیا ہے؟ اِن پہلوئوں پر سوچا جائے اور ابھی سے سدباب کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ خدانخواستہ ایسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہوسکے۔ چند روز قبل وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے دورہ کوئٹہ کے دوران بلوچوں کی محرومیوں کے ازالہ اور لاپتا افراد کے معاملے پر بات کرنے کی یقین دہانی کرائی اِس کے ساتھ ہی بلوچستان کے لیے کئی نئے منصوبوں کا اعلان بھی کیا یوں موجودہ حکومت نے بھی پچھلی حکومتوں کے تسلسل میں بلوچستان کے لیے کچھ خاص کرنے کا تہیہ کیا ہے تاکہ ہر جلد ازجلد ناراض بلوچوں کے تحفظات دور کیے جاسکیں مگر باوجود اِس کے کہ بلوچستان میں گوادر سمیت بے شمار ترقیاتی منصوبوں پر کام ہورہا ہے، روزگار کے مواقعے فراہم کیے جارہے ہیں،
مرکز میں بھی بلوچستان کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے مگر پھر بھی بلوچ علیحدگی پسند گروپ اپنی مسلح کارروائیوں سے باز نہیں آرہے توپھر صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ صرف بنیادی سہولیات کے فقدان اور نظر انداز کیے جانے کا نہیں ، کیوں کہ ایسا ہوتاتودو دہائیوں سے زائد عرصے سے بلوچستان میں جگہ جگہ غیرمعمولی رفتار سے جاری ترقیاتی کام اِن تحفظات کے ازالے کے لیے کافی نہیں تو حوصلہ افزا ضرور تھے مگر بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کا اپنی کارروائیاں ختم کرنے کی بجائے اِن میں تیزی لانے کا مطلب یہی ہے کہ یہ مسلح گروپس دراصل بلوچوں کے حقوق کے نام پر پاکستان دشمنوں کے مفادات کے لیے کام کررہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نہ صرف ریاست کو متذکرہ خدشات اور حقائق پر غور کرنا چاہیے بلکہ بلوچوں کو بھی دیکھنا چاہیے کہ کیسے علیحدگی پسند گروپس جو خود کو بلوچ بھی کہلاتے ہیں درحقیقت ملک و قوم بلکہ بلوچوں کے مفادات کے خلاف کام کررہے ہیں اور کیسے ان کے بڑھتے قدم روکے جاسکتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button