ColumnKashif Bashir Khan

خارجہ امور پر ناراضگیاں؟ … کاشف بشیر خان

کاشف بشیر خان

چند یوم قبل نئی حکومت کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کیوبا کے بارے میں ایک متنازعہ بیان دیا اور کہا کہ ہم امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو شمالی کوریا یا کیوبا نہیں بنانا چاہتے۔کیوبا کے پاکستان میں سفیرZener Caro (جو چارج ڈی آفیر بھی ہیں اور قریباً دو سال سے پاکستان میں بطور سفیر کیوبا کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں)نے احسن اقبال کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پربھرپوراحتجاج ریکارڈ کرایا۔ میرا زینر کارو سے اچھا تعلق ہے۔جب میں نے ان کو اسلام آباد میں کال کی تو وہ مصروف تھے اور سفارت خانے کی سیکرٹری ڈارلین نارنجو نے مجھ سے بات کی۔میں نے وفاقی وزیر کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر بطور پاکستانی شہری اور صحافی ان سے اظہار مذمت کرنے کے ساتھ پاک کیوبا دوستی پر اظہار یکجہتی کی تو انہوں نے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے سفیر کے میٹنگ سے فارغ ہونے پر بات کروانے کا کہا۔ اب سوچئے کہ احسن اقبال نے شمالی کوریااور کیوبا کی استعمار و سامراج کے خلاف طویل جدوجہد کا ادارک نہ ہونے کی بناء پریا پھر امریکہ کو خوش کرنے کے لیے ایسا بیان دیا جس نے کیوبا اور شمالی کوریا کے پاکستان سے تعلق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔70 کی دہائی میں سابق وزیر اعظم بھٹو نے جب سامراجی نظام کے خلاف اپنی آزاد خارجہ پالیسی ترتیب دی تو سوشلزم کو سپورٹ کرتے ہوئے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بڑھائے اور شمالی کوریا کا ایک یادگار دورہ بھی کیا تھا۔

نوے کی دہائی میں چین نے مغرب کے بے پناہ دباؤ کی وجہ سے پاکستان کو دور مار کرنے والے M11میزائل فراہم کرنے سے معذوری ظاہر کی اور جب محترمہ بینظیر بھٹو وزیر اعظم پاکستان بنیں تو پاکستان نے شمالی کوریا کے ساتھ کچھ دفاعی معاہدے کئے ۔ گو کہ یہ دفاعی معاہدے عام نہیں کئے گئے تھے لیکن ان معاہدوں کی بدولت شمالی کوریا نے پاکستان کو جدید میزائل ٹیکنالوجی فراہم کی تھی جس کے بدلے میں ہم نے شمالی کوریا کو ایٹمی پروگرام میں غیر اعلانیہ مدد فراہم کی ۔اس معاہدے کی خوبصورتی یہ تھی کہ خراب معاشی صورتحال کے پیش نظر میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کے عوض پاکستان نے شمالی کوریا کو کوئی ادائیگی نہیں کرنا تھی بلکہ انہیں ایٹمی پروگرام میں مدد کرنا تھی۔آنے والے سالوں میں پاکستان نے میزائل پروگرام نے جو مہارت اور خود مختاری حاصل کی اس میں شمالی کوریا کے ساتھ دفاعی تعاون اور خاموش معاہدے کا عمل دخل تھا۔
فروری 2019 میں جب بھارت نے پاکستان
کے خلاف فضائی جارحیت کا مظاہرہ کیا تو ہماری میزائل برتری نے ہی بھارت کے جہاز مار گرائے اوربھارتی ہوا باز ابھینندن کو زندہ گرفتار کر کے دنیا بھر میں اپنی سرحدوں کی حفاظت کے تناظر میں برتری دکھائی۔ آج اگر ہم ایک مضبوط دفاعی ملک کی حیثیت سے دنیا میں پہچانے جاتے ہیں تو اس میں بلا شبہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے شمالی کوریا سے بروقت دفاعی معاہدوں اور ٹیکنالوجی کے تبادلوں کا بنیادی کردار ہے۔
احسن اقبال کے بیان کو سنیں تو ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین اور امریکہ کی بات نہ مان کر ہم شمالی کوریا یا کیوبا نہیں بننا چاہتے۔کیوبا دنیا بھر میں ایک ایسا ملک ہے جو 1959 سے امریکی مداخلت اور آزاد خارجہ پالیسی کے خلاف دلیری سے سینہ سپر ہے۔ پاکستان کے ساتھ کیوبا کے تعلقات پرانے ہیں لیکن ان میں گرمجوشی اس وقت آئی جب 2005 میں پاکستان میں تاریخ کا سب سے ہولناک زلزلہ آیا۔ کیوبا نے اس دکھ کی گھڑی میں فوری طور پر2400 ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو آزاد کشمیر اور خیبر پختون خوا(سرحد)میں بھیجا اور فوری طور پر زلزلہ زدہ علاقوں میں 32 فیلڈ ہسپتال بنا ڈالے۔
کیوبا نے اس مشکل کی گھڑی میں 36 مرتبہ جہاز بھربھر کر دوایاں اور دوسرا میڈیکل سامان پاکستان بھیجا۔ ان 36 فلائٹس میں سے پہلی دو فلائٹس میں کیوبا کی آرمی کے ٹرینڈ ڈاکٹرز
اور نرسیں پاکستان آئے اور انہوں نے فوری طور پر زلزلہ زدہ عوام کا علاج شروع کردیا تھا۔کیوبا کی میڈیکل ٹیموں نے30 ایسے متاثرین کو فوری طور پر علاج کے لیے کیوبا پہنچایا۔ اکتوبر 2005 سے 25 جنوری 2006 تک کیوبا سے آئی ٹیموں نے نہ صرف ان ہسپتالوں میں بیڈ فراہم کئے بلکہ وہاں پر بجلی اور پلمبرنگ وغیرہ کا کام بھی کیوبا سے لائے ٹیکنیکل سٹاف سے کروائے۔ اس عرصہ میں کیوبا کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف نے زلزلہ سے متاثرہ 44 علاقوں میں قریباً 6 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جبکہ قریباً 6ہزار متاثرین کی سرجری بھی کی گئی۔ ان آپریشنوں میںقریباً 3 ہزار آپریشن بڑے اور سیریس تھے۔اگر قارئین کو یاد ہوتو یہ مصیبت کی ایسی گھڑی تھی کہ جس نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور پاکستان میں اس زلزلہ کے نتیجے میں بہت بڑی تباہی آئی تھی۔کیوبا کے انقلابی لیڈر فیڈل کاسترو نے دکھ کی اس نازک گھڑی میں جس طرح سے پاکستان کے عوام کے دکھ میں ساتھ دیا اس کی مثال نہیں ملتی۔اس وقت صدر پاکستان پرویز مشرف نے اس مدد پر ایوان صدر میں ایک تقریب بھی منعقد کی جس میں کیوبا کے اس بڑے مشن کے سربراہ نے کہا تھا کہ فیڈل کاسترو نے حکم دیا تھا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستان کو جو بھی مدد درکار ہو وہ انہیں پہنچائی جائے۔
اب سوچنے کی بات ہے کہ کیوبا اور شمالی کوریا وہ دو ممالک ہیں جنہوں نے امریکی استعمار اور سامراج کے خلاف طویل جدوجہد کی اور دونوں ممالک ہی غیر وابستہ تحریک اور خارجہ پالیسی کا عملی نمونہ ہیں۔ گوکہ شمالی کوریا کے چین اور کیوبا کے روس سے ماضی میں قریبی تعلق رہے ہیں لیکن ان دو ممالک نے دنیا کو اپنے عمل سے دکھایا ہے کہ امریکہ کو اپنے ممالک میں دخل اندازی اور سازش سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ احسن اقبال نے ایک ایسے موقعہ پرجب تحریک انصاف اپنی حکومت کی تبدیلی کا سبب بیرونی مداخلت اور سازش اور 13 جماعتوں کی اس اتحادی حکومت کوامپورٹڈ حکومت قرار دے رہی ہے۔ ایسے میں شمالی کوریا اور کیوبا کے بارے میں بیان دے کر جہاں موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات نمایاں کی ہیں وہاں انہوں نے پاکستان کے دوست ممالک سے تعلقات میں بھی بگاڑ پیدا کیا ہے۔اب سوچنے کی بات ہے کہ کیا ہماری خارجہ پالیسی اب بھی یورپ اور امریکہ کی خواہشات کے تابع ہو گی یا پھر پاکستان ایک آزاد خارجہ پالیسی جو کہ غیر وابستہ ہو، کی جانب سفر کرے گا؟ موجودہ بدلتے ہوئے عالمی حالات اور پاکستان میں تبدیلی حکومت کے بعد عوام میں جو اضطراب پایا جا رہا ہے اس میں ایسا کوئی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان راکھ میں دبی چنگاری کوایسی ہوا دے سکتا ہے، جو سب کچھ جلا سکتی ہے۔حکومت کو شمالی کوریا اور کیوبا کے حکمرانوں سے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر فوری معذرت کرنی چاہیے۔حکومتی وزراء کو مستقبل میں ایسے حساس خارجہ معاملات پر بولنے سے پہلے سوچنا اور پاکستان کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کی تاریخ کا احاطہ ضرور کرنا چاہیے کہ یہ کوئی سیاسی جلسے کی مانند بڑھک نہیں کہ آپ کا جو دل چاہے، کہہ دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button