ColumnFayyaz Malik

لاوارث محکمے کی یتیم اولاد … فیاض ملک

فیاض ملک

ایک دور تھا جب قانون کی نظر میں سب برابر تھے یعنی کوئی خاص اورکوئی عام نہیں تھا۔ پھر وقت بدلا، حالات بدلے اور سب کچھ ہی بدل گیا ، آج بھی قانون کی بالادستی کا نعرہ لگانے والے کچھ باشعور ، معروف شخصیات اور امیر گھرانوں کے افراد کسی غلطی پر پولیس کے روکنے کو اپنے لیے گستاخی شمار کرتے ہوئے اسے بہت برا سمجھتے اور انتہائی ڈھٹائی سے یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ پولیس نے ان کے ساتھ عام لوگوں جیسا سلوک کیا ہے جب کہ وہ خاص ہیں اور انہیں خاص مراعات بھی حاصل ہونی چاہئیں یعنی انہیں قانونی ضابطوں کی پاسداری سے ماورا تصور کیا جائے اورپولیس ان کے گھر کی باندی بن کر رہے ،اشرافیہ کے لیے قانون کا سرنگوں ہونا نہ صرف قانونی بلکہ ان کے احترام کے پیش نظر ان کے لیے مسائل پیدا کرنے والے ایماندار افسران کا قلع قمع کرنا بھی ان کا اولین فرض ہے۔ گزشتہ دنوں صوبائی دارالحکومت میں دو ایسے افسوسناک واقعات پیش آئے جن کو دیکھنے کے بعد میں سوچ میں پڑ گیا کہ ہمارا معاشرہ اور اس کی رہبری کرنے کے دعویدارکس قدر تیزی سے پستی کی جانب جارہے ہیں۔

پہلا واقعہ 16اپریل کو پنجاب اسمبلی میں پیش آیا جہاں پولیس افسران اور اہلکاروں کو عدالتی احکامات پر عمل درآمد کروانے اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی پاداش میں حکومتی ارکان اسمبلی کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔پنجاب اسمبلی کے اندرقائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر ڈپٹی سپیکر کو ارکان اسمبلی کے حملے سے بچاتے ہوئے پولیس اہلکاروںپر مردو خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے تشدد کیا گیا، یوں محسوس ہورہا تھا کہ یہ ارض پاک کی نہیں بلکہ کسی دشمن ملک کی پولیس ہے جس کو تبدیلی سرکار والے ثواب سمجھ کر ماررہے تھے ، پولیس پر قانون ساز اسمبلی میں تشدد کرنیوالے وہ حکومتی وزراء تھے، جن کی حفاظت کے لیے ان کے گھروں کے باہر ہر وقت پولیس کی گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں، جوپولیس پروٹوکول کے بغیر اپنے گھروں سے بھی باہرنہیں نکلتے تھے، یہ وہ وزراء تھے جوہر وقت اپنے سیاسی(ٹور ٹپے) کو برقرار رکھنے اپنے اضلاع میں آر پی او، ڈی پی او اور ایس پی سے لیکر ایس ڈی پی او ، ایس ایچ او کے ساتھ ساتھ محرر کی ٹرانسفر پوسٹنگ کی چٹیں لیکر سی ایم سیکرٹریٹ اور آئی جی آفس میںترلے منتیں کرتے نظر آتے تھے، پنجاب اسمبلی میں ہونیوالے اس پرتشدد واقعے پر بھی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے کوئی خاطر خواہ کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
ابھی اس واقعہ کی گونج ختم نہیں ہوئی تھی کہ 18 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ میں ضلع نارووال کے تھانہ بدوملہی میں تعینات سب انسپکٹر سلیمان کو روزے کی حالت میں احاطہ عدالت میں بہیمانہ تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، بدقسمت سلیمان کی لاش کی بے سروسامانی دیدنی تھی اوراس کی آنکھوں میں سوال تھا کہ اس کو کیوں مارا گیا آخر اس کا قصور کیا تھا ، وہ بھی کسی کا باپ اور کسی کا شوہر تھا۔گھر سے نکلتے ہوئے اس نے بھی اپنی بیوی اور بچوں کو جلد واپس آنے کا کہا ہوگا ،مگر جب اس کی لاش گھر میں پہنچی تو اس کے بیوی بچوں پر کیا بیتی ہوگی ،یہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے ،مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ عدالتوں اور کچہریوں کے احاطوں میں پیشی پر آنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں پر تشدد کا یہ کوئی پہلا واقعہ تو ہے نہیں، ماضی میں بھی ایسے بیشتر واقعات رونما ہوچکے ہیںاور ہر واقعے کے بعد اس کے سدباب کے لیے ہوا بھی کچھ نہیں ، بس صرف یہ کہ ارباب اختیار کی جانب سے سختی سے لیے جانے والے نوٹسز کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو صرف بیانات کی حد تک ہی محدود رہنے کے بعدازخود ہی کہیں نامعلوم مقام پر دفن ہوجاتاہے۔ سب انسپکٹر سلیمان کی شہادت پر بھی ایسا ہی ہوا،جیسے ہی یہ واقعہ رونما ہوا ، میڈیا پر اس کی خبر چلی تو فورا ًہی آئی جی پنجاب آفس سے ایک سرکاری نوٹ جاری ہوا کہ آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان نے سب انسپکٹر سلیمان پر بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں ہونیوالی ہلاکت کے واقعہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور لاہور پولیس کو ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کی کرتے ہوئے تشدد میں ملوث ملزمان کو سخت سزا دلوانے کی ہدایت بھی کی ہے،اس نوٹس کے بعد ہوا بھی صرف یہ کہ تھانہ پرانی انارکلی میں تشدد میں ملوث نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گویا پولیس افسران نے اپنا فرض اداکردیا۔
اوپر تلے پیش آنیوالے ان واقعات کو دیکھتے ہوئے اب یہی محسوس ہوتا ہے کہ پولیس ایک ایسا لاوارث محکمہ بن چکا ہے جس کے افسران ملازمین کے حصہ میں صرف ذلت اور رسوائی ہی آتی ہے، آزادی ہند کے بعد22مارچ 1861کو قائم ہونے والے اس محکمہ پولیس میں ہر حکومت کی جانب سے اصلاحات کے نام پر کی جانیوالی تمام
کوششیں بے سود رہی ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ چہرے بدلنے سے ایمان تھوڑی آ جاتا ہے ویسے بھی یہ کوششیں پولیس کو بہتر بنانے کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مفادات اور ذاتی حیثیت سے غلام بنانے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کی ہیں اور یہ سلسلہ 162 سالوں سے جاری و ساری ہے۔ارض پاک کی75 سالہ تاریخ کو دیکھا جائے تواس میں بیشتر پولیس افسران ایسے بھی آئے تھے جنہوں نے پرکشش عہدے کے حصول کی خاطراپنے سیاسی آقائوں کی چاپلوسی میںاس محکمے کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،محض چند ایک ہی افسران ایسے تھے جنہوںنے ان سیاسی بے شعور لوگوں کے اشاروں پر کام کرنے سے انکار کر دیاتھا،یہ وہ پولیس ہے جس نے ہر مشکل ٹاسک کو محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے بطریق احسن سر انجام دیا،سیاسی اتار چڑھاؤ کے دوران بڑے بڑے مگر مچھوں کو قابو کر کے قانون کے سامنے پیش کیا، اسی پولیس کے افسران و جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے دہشت گردی کا مقابلہ کیا
ارض پاک کی دوسری فورسز کی طرح معاشرے میں امن وامان کی صورتحال کو ہر وقت برقرار رکھنے کے لیے اس محکمہ کے افسران اور جوانوں نے بے مثال قربانیاں دیں جو تاریخ کا حصہ ہیں،اب اگرفرض کریں کہ پاکستانی پولیس بھی چینی ، ایرانی ، عرب ، یورپین یا امریکی پولیس کی طرح پروفیشنل اور باعزت بنا دی جائے تو کیا ہوگا ؟ سب سے زیادہ خسارہ حکمران طبقات کو ہوگا۔ان کے ذاتی ، سیاسی اور سماجی دبدبے کی قوت کو زک پہنچے گی۔ صرف ایف آئی آر کاٹنے کا نظام ہی سدھر جائے تو حکمران طبقے کی آدھی قوت مفلوج ہو جائے گی۔ایسی اصلاحات سے جرم ، سیاست اور پولیس کی تکون اگر ٹوٹ نہ بھی سکی تو کمزور ضرور پڑ جائے گی،مگر ان سب باتوں کو چھوڑ کر اب ذرا تصور کیجئے اگر ایک دن شہر میں محکمہ پولیس کام کرنا چھوڑ دے تو بدنظمی اور امن و امان کا کیا عالم ہو؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button