Editorial

بلوچستان کے فوری توجہ طلب مسائل

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچ عمائدین بلوچستان کے مسائل اور لاپتا افراد کی بات کرتے ہیں۔ اِس مسئلے پر خلوص دل کے ساتھ آواز اٹھائوں گا اور جو لوگ با اختیار ہیں، اِن سے میرٹ پر بات کریں گے، انصاف اور قانون کے مطابق یہ بات ہم حل نہ کرپائے تو یہ محرومی بڑھے گی۔ وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار ایک روزہ دورہ کوئٹہ کے دوران کیا۔ وزیراعظم نے کوئٹہ میں مصروف دن گزارا اور خضدار کچلاک قومی شاہراہ کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔
میاں محمد شہباز شریف نے لاپتا افراد کے معاملے پر تفصیلی گفتگو کی کیوں کہ بلوچ عمائدین اور دیگر بلوچ شخصیات نے اُن سے جہاں بلوچستان کے مسائل پر بات کی وہیں لاپتا افراد کا معاملہ بھی اٹھایا ۔ بلاشبہ بلوچستان کے معاملات کئی دہائیوں سے حل طلب رہے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ بلوچستان کو قومی دھارے سے باہر رکھاگیا ہے، ہم متفق ہیں کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ اوروسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اسی لیے ترقی اور وسائل کی فراہمی کے لحاظ سے بلوچستان دوسرے صوبوں سے پیچھے نظر آتا ہے لیکن جب ہم اِس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں تو اِس کے عوامل پر بھی بات کرنی چاہیے۔ مرکز میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو، دوسرے صوبوں کا حصہ کاٹ کر بلوچستان کے لیے زیادہ حصہ مختص کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ پنجاب نے تو بلوچستان میں بے شمارترقیاتی کام اپنے فنڈز سے کرائے ہیں جن میں ہسپتال اور سکولزکی تعمیر قابل ذکر ہیں،
پینے کے صاف پانی سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی پنجاب نے طویل عرصے سے اپنے ذمے لی ہوئی ہے۔ بلوچ طلبہ و طالبات کو خصوصی کوٹے پر پنجاب کی یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجوں میں جگہ دی جاتی ہے۔ درحقیقت یہ ہماری سیاسی قیادت کی ماضی کی عدم توجہی کا اعتراف اور ازالہ ہے جو ہر موقعے پر ہم بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر کررہے ہیں لیکن اِس میں کہیں نہ کہیں مقامی بلوچ قیادت کو بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا انہوں نے بلوچوں کا مقدمہ وفاق کے سامنے من و عن پیش کیا یا نہیں۔ ہم ماضی کی بعض کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہیں لیکن ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا اِن محرومیوں کا ازالہ ملک و قوم دشمن کا آلہ کار بن کر ہوسکتا ہے؟ اپنی ہی پاک سرزمین اور ریاست کے خلاف ہتھیار اُٹھانا محرومیوں کا ازالہ کرنے کے لیے درست اقدام گردانا جاسکتا ہے؟ دشمن بھارت نے کیونکر بلوچستان کو اپنی سازشوں کا مرکز بنایا ہوا ہے اور کیوں بعض لوگ اپنی ہی ریاست اور محافظوں کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مصروف ہیں؟ ہم سمجھتے ہیں کہ وفاق تو بلوچ عوام کی محرومیوں کا اعتراف بھی کرتا ہے اور اِن کے ازالے کے لیے ہر ممکن حد تک کوشاں بھی رہتا ہے۔ مرکز میں کوئی بھی جماعت ہو وہ بلوچستان کو خصوصی توجہ سے دیکھتی ہے اس لیے اب مسلح کارروائیوں کا جواز باقی نہیں رہ جاتااور جب ہم مسنگ پرسنز کی بات کرتے ہیں تو یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ صرف مخصوص علاقوں اور مخصوص کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں ہی افراد کیوں مسنگ پرسنز ہوتے ہیں؟
اگرچہ ہمارا موقف ہے کہ جس شخص پر جو بھی الزام ہو اُسے عدالت کے روبرو پیش کرکے عدالتی فیصلے کا احترام کیا جائے لیکن اِس کا مطلب قطعی یہ نہیں کہ ہم ریاست مخالف اُن افراد کو اپنے درمیان پانا چاہتے ہیں جو دشمن کے اشاروں پر وطن عزیز اور ہم وطنوں کے خلاف کارروائیوں کا تہیہ رکھتے ہیں۔ جہاں تک بلوچستان کی ترقی کا معاملہ ہے تو گوادر بلوچستان ہی نہیں بلکہ پاکستان بلکہ پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی کا منصوبہ ہے اور یقیناً سب سے زیادہ بلوچ عوام اِس کے ثمرات سے مستفید ہوں گے۔ حال ہی میں سینڈک منصوبے پر بھی تصفیہ سامنے آچکا ہے، اِس منصوبے کی بدولت بلوچیوں کی بڑی تعداد کو نہ صرف روزگار کے مواقعے میسر آئیں گے بلکہ اِس منصوبے کی شرائط کے تحت بلوچستان میں تعمیر وترقی بھی کمپنی کے ذمے ہوگی۔ وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف نے دورہ کوئٹہ میں کہا کہ نوجوانوں کو بندوق کی بجائے لیپ ٹاپ دیں گے اور بلوچستان کے طلبہ و طالبات کے لیے  وظائف کا سلسلہ جو روک دیا گیا تھا وہ دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورہ کوئٹہ میں متعدد اجلاسوں کی صدارت کی جن میں اُنہیں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی
علاوہ ازیں پورے صوبے کے لیے ایک جامع پیکیج کے اعلان کی تجویز بھی دی گئی اور وزیراعظم نے کہا کہ مجھے بلوچستان کابینہ کا تعاون درکار ہے ، منصوبوں پر عمل درآمد آپ کے تعاون سے یقینی ہو سکے گا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اُمید کے عین مطابق ہدایت کی کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کو خوشحالی کی سڑک بنانے میں تاخیر سے کام نہ لیں۔ ڈیڑھ سال میں کراچی سے چمن تک شاہراہ مکمل کرنا ہے، منصوبے کی تعمیر میں سست روی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جیسے بھی ہو اس پر جیکٹ کے لیے پیسا لے کر آئیں گے۔ کوئٹہ میں میٹرو بس کی فزیبلٹی رپورٹ بھی تیار کی جائے۔ بلوچستان کو پاکستان کی مایہ ناز ٹیکنیکل یونیورسٹی کا تحفہ دیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم نے اپنے دورہ کوئٹہ میں دہشت گردی کو شکست دینے اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنے کا عزم ظاہر کیا۔
بلاشبہ بلوچ عوام نے خیبر پختونخوا کے عوام کی طرح طویل دہشت گردی کا سامنا انتہائی صبر اور ثابت قدمی سے کیا ہے ۔ دہشت گردی نے بلوچستان میں تباہی مچائی، خیبر پختونخوا، بلوچستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دیں انہی قربانیوں کے نتیجے میں ہماری بہادر افواج نے دہشت گردی کو شکست فاش دی اور حالیہ دنوں میں پھر دہشت گردی نے سر اٹھایا ہے لیکن ہم باہمی اتفاق سے دوبارہ دہشت گردی کو شکست فاش دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button