تازہ ترینخبریںٹیکنالوجی

ناقابل یقین: بجلی کو وائرلیس طریقے سے ایک کلومیٹر دور بھیجنے کا تجربہ

سائنس کا حیرت انگیز کارنامہ، ڈیڑھ کلوواٹ بجلی کو وائرلیس طریقے سے ایک کلومیٹر دور بھیجنے کا تجربہ کامیابی سے ہمکنار ہوگیا۔

امریکی نیول ریسرچ لیبارٹری (این آر ایل) نے 1.6 کلو واٹ بجلی کو مائیکروویو نظام کے ذریعے ایک کلومیٹر یعنی 3280 فٹ دور بھیجا ہے، یہ تجربہ میری لینڈ میں بحریہ کے تجرباتی میدان میں کیا گیا، بعض ماہرین نے اسے نصف صدی کا سب سے حیرت انگیز سائنسی تجربہ قرار دیا ہے۔

امریکی بحریہ ایک عرصے سے اس منصوبے پر کام کررہی ہے جسے ‘اسکوپ ایم’ کا نام دیا ہے۔ اس میں مائیکرو ویو کی بدولت محفوظ اور تیزرفتار بجلی کی فراہمی پر تحقیق کی جارہی تھی۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نہایت پرامید تجربہ ہے لیکن اسے عملی جامہ پہنانے میں مزید کئی برس لگ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ ہوا میں کسی تار کے بغیر بجلی بھیجنے کا ابتدائی خیال بہت سے ماہرین نے پیش کیا جن میں نکولا ٹیسلا بھی شامل تھا۔

بعد ازاں انیس سو ستر کے عشرے میں ایک اور سائنسداں، جیراد کے او نیل نے ایسی خلائی کالونی کا تصور پیش کیا تھا کہ جہاں سے بجلی کو کسی واسطے کے بغیر زمین پر بھیج کر اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔

تصور یہ تھا کہ بجلی کو پہلے مائیکروویو شعاع یا بیم میں تبدیل کیا جائے اور اسے ایک بہت تنگ پٹی کی صورت میں ایک سے دوسرے مقام ہوا میں بھیج دیا جائے۔ یہ شعاع ایک ریسیور تک جاتی ہے اور وہاں دوبارہ انہیں بجلی میں بدلا جاتا ہے۔

اس پورے نظام کو ‘ریکٹینا ایلیمینٹس’ کا نام دیا گیا ہے، اس میں ایکس بینڈ والا ایک ڈائی پول اینٹینا استعمال ہوتا ہے، جیسے ہی مائیکرویو ریکٹینا سے ٹکراتا ہے وہاں ڈی سی یا ڈائریکٹ کرنٹ پیدا ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button