Columnمحمد مبشر انوار

نوشتہ دیوار …. محمد مبشر انوار

(گذشتہ سے پیوستہ)

محمد مبشر انوار

ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر کسی ریاست کے متعلق فیصلے کرنا انتہائی آسان ٹاسک تو ہو سکتا ہے لیکن یہ قطعی ضروری نہیں کہ ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر کسی ریاست کی عوام سے متعلق کئے گئے فیصلے ہو بہو فیصلہ کرنے والوں کے تخیل ،اس تصویر پر پورا اتریں جس کا عکس انہوں نے کشید کر رکھا ہو۔امریکہ و مقتدر حلقوں نے بھی یہی سوچ رکھا تھا کہ جس طرح کئی دہائیوں سے اس ملک میں اقتدار کا کھیل میوزیکل چیئر کی طرح کھیلا جا رہا ہے اورسیاسی قیادتیں بلا چون و چرا ان کے منصوبوں پر آمنا و صدقنا کرتی آئی ہیں اور جس طرح عوام ان سب باتوں سے لاتعلق انہی قیادتوں کے پیچھے سر جھکائے چلتی رہتی ہے،رجیم چینج کی یہ چال بھی ویسے ہی کامیاب ہو جائے گی اور ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی طوفان نہیں اٹھے گا۔

اس پس منظر میں جب عوام نے صرف یہ محسوس نہیں کیا بلکہ اس پر قائل ہوئی کہ اس مرتبہ پس پردہ قوتوں میں عالمی طاقتیں بھی ہیں،وہ ازخود سڑکوں پر نکل آئی اور جو پلے کارڈ عوام نے اٹھا رکھے ہیں،وہ انتہائی حیران کن ہونے کے ساتھ ساتھ خوشگوار حیرت بھی لیے ہوئے ہیں،ان پلے کارڈز پر جو تحریریں ہیں ان میں بعض کا ذکر تو ہم بوجہ نہیں کرسکتے لیکن باقی ملاحظہ ہوں،ایک شخص کے ہاتھ میں اٹھائے پلے کارڈ پر لکھا ہے کہ امپورٹڈ حکومت نہ  منظورسیاست اور سیاستدانوں کے کردار کے حوالے سب سے زیادہ متعلقہ پلے کارڈ پر لکھا تھا غیرت مند تھا تو واپس عوام میں آیاوگرنہ لندن بھاگ جاتا،اس تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے یہ عوامی جذبات ہیں، جو اس وقت ایک ریلے کی صورت عمران کے ہمرکاب ہیں۔ قطع نظر اس حقیقت کہ عمران کی اپنی حکومت کوئی بہت قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی اور کسی بھی طرح اس کو ایک مثالی حکومت نہیں کہا جا سکتا لیکن اس حکومت کی تبدیلی میں شامل بیرونی و اندرونی مداخلت نے اس کو نئی زندگی دے دی ہے۔موجودہ حکومت اب اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح تحریک انصاف کو فارن فنڈنگ کیس کی بنیاد پر نااہل قرار دلوایا جا سکے تاکہ عام انتخابات میں اس دردسر سے نجات ملے اور دوسری طرف توشہ خانہ کے ضمن میں ہونیوالی غیر اخلاقی حرکت کی بنیاد پر عمران خان کے خلاف مقدمہ بنایا جائے۔ توشہ خانہ سے دوسری ریاستوں سے ملنے والے بیش قیمت تحائف کو کم قیمت پر خریدنا،سربراہ مملکت کا حق قانون نے دے رکھا ہے اور افسوس اس بات پر ہے کہ اس مار دھاڑ پر کسی بھی سربراہ مملکت نے اس گھٹیا قانون کو ختم کیا اور نہ ہی کسی عدالت میں اس ضمن میں کوئی مقدمہ پیش ہوا کہ عدالت اس قانون کو آئین پاکستان کے خلاف قرار دے کر ختم کرتی۔ بقول عمران خان کے انہوں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا البتہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ گھڑی بیچ کر انہوں نے اس رقم سے بنی گالا کی سڑک بنوائی اور باڑ لگوائی ہے(میڈیا میں کم ازکم یہی چرچہ ہے)۔ رہی بات فارن فنڈنگ کیس کی تو اس حوالے سے مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھارتی اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی فراہم کر دی ہیں جو اگر صحیح ثابت ہوتی ہیں تو یقینی طور پر تحریک انصاف پر پابندی لگنے کا امکان ہے۔ دوسری طرف اداروں کی طرف سے پشتون تحفظ موومنٹ کے محسن داوڑ کے حوالے سے انکشافات مع ثبوت و ٹھوس شواہدریکارڈ پر ہیں کہ انہیں فارن فنڈنگ کی گئی ہے،اگر اس کو بھی حقیقت تسلیم کیا جائے (جس کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ بھی نہیں)تو پھروہ کیسے اور کس طرح اسمبلی کا حصہ ہیں؟جبکہ موجودہ حکومت کی برتری ان دو اراکین کی بدولت ہی ہے۔بہرکیف ان سب معاملات سے پردہ اٹھنا چاہیے اور جو بھی غیر قانونی دھندوں میں ملوث ہے،اسے نہ صرف طشت ازبام ہونا چاہئے بلکہ قرار واقعی سزا بھی ملنی چاہئے۔
عمران خان نے کراچی جلسے میں جو سوالات اٹھائے،وہ اپنی جگہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کہ جب وہ وزیر اعظم تھے تو امریکہ نے کس کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی پر نتائج بھگتنے کا کہا؟ دوسرا سوال بھی اپنی جگہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ صدارتی ریفرنس کے حوالے سے عدالت عظمیٰ نے جواب دیا کہ جب تک جرم ہو نہیں جاتاوہ کوئی ایکشن نہیں لے سکتی لیکن عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ اور جنرل باجوہ کی معزول ہونے کے جرم سرزد ہونے سے پہلے عدالتیں کیوں کھلی؟تیسری بات عمران خان نے امریکہ و دیگر عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کی کہ وہ سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں اور کسی بھی صورت پرائی آگ میں کودنے سے گریز کریں گے۔ پاکستان یا پاکستانیوں کو کسی دوسری ریاست کے مفادات کے تحفظ کی خاطر جلائی گئی آگ کا ایندھن نہیں بنائیں گے اور ہر صورت پاکستان کے مفادات کا تحفظ کریں گے،جو میرے نزدیک ہو سب پاکستانیوں کو عملًا کرنا چاہئے۔تعلقات اور ملکی مفادات کے حوالے سے عمران خان نے یقیناً ان تمام باتوں پر عمل درآمد کیا ہے کہ جس کا ذکر ابتداء میں ایک فہرست کی صورت کیا جا چکا ہے لیکن اس کے ساتھ اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ متوازی طور پر عمران خان کی حکومت نے ان بنیادوں کو مضبوط بنانے کے بھرپور کوشش کی ہے کہ کسی طرح نہ صرف پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہوسکے بلکہ پاکستان عالمی برادری میں کھویا ہوا مقام بھی حاصل کر سکے،اور شنید یہی ہے کہ اس کے ثمرات آنے والے دو تین سالوں میں واضح ہونے والے تھے۔دورہ روس کو بھی عمران خان کی حکومت گرنے میں ایک بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے کہ ایسے وقت میں جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا عین اس وقت عمران روس میں موجود،ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سستے تیل کی خریداری پر بات چیت کر رہے تھے،یہ بھی شنید ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی یہ دورہ روس کیا گیا تھا۔ اس دورہ کی دوسری وجہ بھارت کا روس کے ساتھ سستے تیل کی خریداری بھی تھا کہ بھارت تو روس سے اپنی ملکی ضروریات پورا کرنے کے لیے سستا تیل خرید سکتا ہے لیکن پاکستان اور پاکستانی وزیر اعظم کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑاہے۔
اس پس منظر میں عمران خان کا اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ کسی بھی دوسری ریاست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ’’سازش‘‘یا مقامی اشرافیہ کو ’’خرید‘‘کر حکومت گرائے کہ اس عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان ایک غلام ملک ہے اور میں عمران خان بطور پاکستانی اس کو قبول نہیں کرسکتا۔ مکرر عرض ہے کہ اگر عمران خان تمام تر بیرونی دباؤ کو قبول کرکے ،ان کی شرائط تسلیم کر رہا تھا تو امریکہ کو اس سے زیادہ کیا چاہیے تھایا کیا نئی حکومت ان تمام تر شرائط سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر امریکی خواہشات و مفادات کی تکمیل کرے گی؟موجودہ صورتحال میں امریکی خواہش و مفاد صرف اور صرف ایک نظر آ رہا ہے کہ وہ کسی طرح چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو روک سکے،جس کے لیے وہ ہر جتن کر رہا ہے۔ان اقدامات کے بعد،اور آخری گیند کھیلنے تک،واقفان حال کہتے ہیں کہ ابھی دو تین گیندیں باقی تھیں،جو پذیرائی عمران خان کو عوام کی طرف سے ملی ہے،کون ہو گاجو اس پذیرائی کو اپنے مؤقف کی سچائی کو ثابت کرنے سے پیچھے ہٹے گا جبکہ مقابل عمران خان ہے،جو کہتا ہے کہ ہارتا وہ ہے جو ہار مان لے۔یہ تو چند حقائق ہیں جو اس وقت پوری قوم کو ازبر ہیں اور ان سے کئی گنا زیادہ حقائق یقیناً عمران خان کے سینے میں دبے ہوں گے،جو وہ کھلے عام بیان نہ بھی کرے ،تب بھی اشاروں کنایوں میں سامنے لاتا رہے گا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ عمران اس وقت گلے کی ہڈی بن چکا ہے اور اس سے جان چھڑانے کے لیے تواتر کے ساتھ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد سے میٹنگز ہو رہی ہیں اور ایسی ہی ایک میٹنگ ایکس سروس مین کے ساتھ بھی ہوئی ہے اور اس میں عام انتخابات کی بات بھی سنی گئی ہے۔یہاں تک بھی سنا گیا ہے کہ اگر صاف شفاف عام انتخابات میں عمران خان دوبارہ منتخب ہوتا ہے تو اسے تسلیم کر لیا جائے گا،اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں میڈیا میں رپورٹ ہوئی ہیں اور اوپر بیان کی گئی باتوں کی تردید کی بجائے انہیں میڈیا سے ہٹا دیا گیا ہے،دیکھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں کیا رونما ہوتا ہے کہ پاکستان میں اگر نون لیگ کو دوبارہ حکومت مل سکتی ہے تو پھر کچھ بھی ممکن ہے۔ گو کہ شہباز شریف کے حوالے سے ہمیشہ یہ بات سنی جاتی رہی ہے کہ مقتدرہ کو ان پر کوئی اعتراض نہیں لیکن سب کو علم ہے کہ شہباز شریف نے کبھی بھی نواز شریف کی مرضی کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھایا اور آج بھی حکومت کے پس منظر میں نواز شریف موجود ہیں۔موجودہ عوامی لہر میں اگر تحریک انصاف کو ناہل قرار نہیں دیا جاتاتو دو باتیں نوشتہ دیوار نظر آ رہی ہیں کہ اگر انتخابات ہو صاف شفاف ہو جاتے ہیں تو عمران خان بھاری اکثریت سے واپس حکومت میں آجائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button